Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*واشنگٹن کا بدلتا سیاسی منظر نامہ اور اسرائیل لابی کا زوال*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*واشنگٹن کا بدلتا سیاسی منظر نامہ اور اسرائیل لابی کا زوال*

*(​امریکی سیاست میں ایپک کا بحران اور بدلتی ہوئی عوامی رائے)*

ازقلم: *اسماء جبین فلک*

واشنگٹن ڈی سی کی سیاسی راہداریوں میں کئی دہائیوں تک یہ ایک طے شدہ اور غیر تحریری اصول رہا کہ اسرائیل پر کوئی بھی تنقید سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، دونوں جماعتیں اسرائیلی ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری کے مظاہرے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتی تھیں۔ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (AIPAC) جیسی لابیاں غیر معمولی اعتماد کے ساتھ کام کرتی تھیں، جو مہمات کے سرمائے، ڈونر نیٹ ورکس اور سیاسی دباؤ کے ذریعے کانگریسی گفتگو کا رخ متعین کرتی تھیں۔ لیکن آج یہ منظر نامہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے قریب آتے ہی AIPAC، جو کبھی واشنگٹن کی سب سے طاقتور لابی اور دوطرفہ اسرائیلی اتفاقِ رائے کی محافظ سمجھی جاتی تھی، اب اپنی تاریخ کے گہرے ترین بحران سے دوچار ہو کر ڈیموکریٹک پارٹی میں ایک تفرقہ انگیز قوت بن چکی ہے۔
​اس تبدیلی کا سب سے واضح اظہار 2026 کے انتخابی ماحول میں دیکھا جا سکتا ہے۔ AIPAC اور اس کے سپر پی اے سی، ’یونائیٹڈ ڈیموکریسی پراجیکٹ‘ (UDP) نے 2026 کے انتخابات میں ریکارڈ اخراجات کیے ہیں، لیکن اس بار لابی نے اپنے سرمائے کو چھپانے کے لیے ایک نیا اور پیچیدہ حربہ اختیار کیا ہے۔ ’امریکن پراسپیکٹ‘ کی 22 جون 2026 کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، 2026 میں UDP اور ’ڈیموکریٹک میجرٹی فار اسرائیل‘ (DMFI) کی جانب سے کیے گئے آزادانہ اخراجات کا ہر چوتھا ڈالر، یعنی 30.66 ملین ڈالر میں سے تقریباً 8 ملین ڈالر، نو مختلف شراکت داروں اور شیل پی اے سیز کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ ان مبہم اداروں میں ’الیکٹ شکاگو ویمن‘ اور ’افورڈ ایبل شکاگو ناؤ‘ جیسے نام شامل ہیں، جنہوں نے الینوائے کے چار پرائمری انتخابات میں AIPAC کی جانب سے 5.3 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔ فلسطینی حقوق کے حامی کارکنان اسے AIPAC کی ’روسی گڑیا‘ (Russian Doll) حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جس کے تحت ایک پی اے سی سے دوسرے پی اے سی کے ذریعے فنڈز کو اس طرح چھپایا جاتا ہے کہ ووٹرز کو پتا ہی نہیں چل پاتا کہ اصل سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے۔ ’جسٹس ڈیموکریٹس‘ کے ترجمان عصامہ اندرابی نے اس حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “وہ ڈیموکریٹک پارٹی میں اتنے غیر مقبول ہو چکے ہیں کہ اب انہیں خود کو چھپانا پڑ رہا ہے”۔
​AIPAC کی مشکلات صرف انتخابی حکمت عملی تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ 2026 میں اس لابی کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک گہرے اور بے مثال بحران کا سامنا ہے۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کے 12 جون 2026 کے ایک مضمون کے مطابق، “AIPAC جو کبھی دوطرفہ اسرائیلی اتفاقِ رائے کا محافظ تھا، اب پارٹی میں ایک قطبی قوت بن چکا ہے”۔ جب بریڈ لینڈر نے نیویارک کے دسویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے لیے اپنی ڈیموکریٹک پرائمری مہم کا آغاز کیا تو انہوں نے ایک ایسا عزم ظاہر کیا جو ماضی میں سیاسی خودکشی سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ واشنگٹن میں “AIPAC کے احکامات” پر عمل نہیں کریں گے۔ یہ صرف نیویارک تک محدود نہیں، بلکہ پورے امریکہ کے پرائمری انتخابات میں AIPAC کے کردار پر تنقید اب ایک عام بات بن چکی ہے۔ ڈیموکریٹک سیاست دان اب کھل کر اس لابی سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ میساچوسٹس کے کانگریس مین سیٹھ مولٹن، جو خود ایک اعتدال پسند ڈیموکریٹ ہیں اور اسرائیل کے مضبوط حامی رہے ہیں، انہوں نے اکتوبر 2025 میں اعلان کیا کہ وہ AIPAC سے موصول ہونے والے 35,000 ڈالر کے عطیات واپس کر دیں گے اور مستقبل میں کوئی تعاون قبول نہیں کریں گے۔ مولٹن نے اپنے بیان میں واضح کیا: “میں AIPAC کے عطیات واپس کر رہا ہوں اور ان سے کسی بھی قسم کا تعاون یا حمایت قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں”۔
​ریپبلکن صفوں میں بھی AIPAC کو چیلنجز کا سامنا ہے، حالانکہ وہاں اس کا اثر و رسوخ اب بھی نسبتاً مضبوط ہے۔ کینٹکی کے چوتھے کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں تھامس میسی کی 2026 کے پرائمری انتخاب میں شکست اس کی واضح مثال ہے۔ میسی، جو اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی اور غیر ملکی امداد پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے تھے، انہیں AIPAC اور سابق صدر ٹرمپ کی مشترکہ مہم کے نتیجے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پرائمری امریکی تاریخ میں ایوانِ نمائندگان کی مہنگی ترین پرائمری بن گئی، جس میں کم از کم 32 ملین ڈالر بہائے گئے۔ AIPAC نے اس شکست کو اپنی کامیابی قرار دیا، لیکن جیسا کہ تجربہ کار پولسٹر جیمز زوگبی نے لکھا: “ان کی شکست اور انہیں ہرانے کے لیے پانی کی طرح بہائی گئی شرمناک رقم کچھ قدامت پسندوں کے لیے ایک تلخ نکتہ ثابت ہوگی”۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: “یہ کسی ایوان کی پرائمری پر اب تک کی سب سے بڑی رقم تھی، اور یہ سب اس لیے کیا گیا کیونکہ انہوں نے غزہ اور ایپسٹین کے معاملے پر ٹرمپ کی مخالفت کی تھی”۔
​عوامی رائے کے اعداد و شمار اس تبدیلی کی شدت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ ’پیو ریسرچ سینٹر‘ کے مارچ 2026 کے سروے کے مطابق، 60 فیصد بالغ امریکیوں کا اسرائیل کے بارے میں منفی نظریہ ہے، جو 2025 میں 53 فیصد اور 2022 میں 42 فیصد تھا۔ اسی طرح 59 فیصد عوام کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر عالمی معاملات کے حوالے سے کوئی اعتماد نہیں، جبکہ پچھلے سال یہ شرح 52 فیصد تھی۔ نوجوان امریکیوں میں یہ رجحان اور بھی نمایاں ہے؛ دونوں سیاسی جماعتوں میں 50 سال سے کم عمر کے بالغوں کی اکثریت اسرائیل اور نیتن یاہو کو منفی نظر سے دیکھتی ہے۔ ’کوئنیپیاک یونیورسٹی‘ کے اگست 2025 کے سروے میں 60 فیصد ووٹرز نے اسرائیل کو مزید امریکی فوجی امداد بھیجنے کی مخالفت کی، جو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد سے اس سوال پر سب سے بڑی مخالفت اور سب سے کم حمایت ہے۔ ڈیموکریٹس میں 75 فیصد اور آزاد ووٹرز میں 66 فیصد نے اضافی فوجی امداد کی مخالفت کی۔ مزید برآں، 77 فیصد ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کوئنیپیاک کے سروے میں فلسطینیوں کے لیے ہمدردی کی شرح (37 فیصد)، اسرائیلیوں کے لیے ہمدردی (36 فیصد) سے زیادہ پائی گئی، جو دسمبر 2001 میں اس سوال کے آغاز کے بعد سے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
​بین الاقوامی سطح پر بھی اسرائیل تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اکتوبر 2024 میں اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد اسرائیل کو تمام نئی اسلحہ برآمدات پر پابندی عائد کر دی۔ میلونی نے سینیٹ کو بتایا: “غزہ میں کارروائیوں کے آغاز کے بعد، حکومت نے فوری طور پر تمام نئے برآمدی لائسنس معطل کر دیے اور 7 اکتوبر کے بعد دستخط کیے گئے کسی بھی معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا”۔ جرمنی نے بھی اگست 2025 میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندی عائد کی تھی، تاہم نومبر 2025 میں عارضی جنگ بندی کے بعد یہ پابندیاں اٹھا لی گئیں۔ برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک نے بھی اسرائیلی حکام کے خلاف مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہیں۔
​ان تمام چیلنجوں کے باوجود، اسرائیل لابی کا اثر و رسوخ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ AIPAC کے پاس اب بھی وسیع مالی وسائل ہیں اور وہ 2026 کے انتخابات میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے، لیکن جیسا کہ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ ڈیموکریٹک حلقوں میں اسرائیل کی حمایت میں ایک “زلزلہ خیز تبدیلی” آ چکی ہے۔ AIPAC، جو کبھی واشنگٹن کے سب سے طاقتور لابی گروپوں میں شمار ہوتی تھی، اب ایک سیاسی بوجھ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
​حاصل کلام یہ ہے کہ اسرائیل لابی کا یہ زوال ایک گہری حقیقت کا عکاس ہے کہ اب خوف کا دور ختم ہو رہا ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں لابی کی طاقت کا دارومدار ہی مختلف اندیشوں پر تھا، جیسے سامیت دشمنی کے الزام کا خوف، فنڈنگ چھن جانے کا ڈر یا سیاسی تنہائی کا خطرہ، اب وہ خوف کمزور پڑ چکا ہے۔ غزہ کی جنگ، خطے میں مہنگی اور تباہ کن جنگوں کے خدشات اور 2026 کے انتخابات نے اسرائیل کی اخلاقی برتری کے بیانیے کو پاش پاش کر دیا ہے۔ پیو اور کوئنیپیاک کے سروے کے اعداد و شمار، ڈیموکریٹک سیاست دانوں کی AIPAC سے دوری، یورپی ممالک کی پابندیاں اور امیدواروں کی جانب سے لابی کی حمایت کو مسترد کیا جانا، یہ تمام عوامل اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ امریکی اور بین الاقوامی عوامی رائے میں ایک بنیادی اور ممکنہ طور پر ناقابلِ واپسی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ اسرائیل لابی اب اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، اور اگرچہ اس کے پاس اب بھی زبردست وسائل موجود ہیں، لیکن تاریخ کا رخ، کم از کم مغربی عوامی رائے اور ڈیموکریٹک سیاست کے تناظر میں، اب اس کے خلاف ہو چکا ہے۔