Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*شعبہ اردو قاضی نذ ر ل یونیورسیٹی و جہانِ ادب کے اشتراک سے جیلانی بانو ،شہیر ہ مسرور ،حشمت کمال پاشا اور رہبر حمیدی کی یاد میں تعزیعتی نشست کا انعقاد ۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*شعبہ اردو قاضی نذ ر ل یونیورسیٹی و جہانِ ادب کے اشتراک سے جیلانی بانو ،شہیر ہ مسرور ،حشمت کمال پاشا اور رہبر حمیدی کی یاد میں تعزیعتی نشست کا انعقاد ۔*

شعبۂ اُردو، قاضی نذرل یونیورسیٹی و جہانِ ادب کے اشتراک سے 18 جون2026 بروز جمعرات اردو ادب کی چند نامور ادبی شخصیتیں جو  سال رواں محبان اردو کو داغ مفارقت دے گئے، ان معروف افسانہ نگار ،ناول نگار،حساس قلم کار ،شاعر و ادیب جیلانی بانو، شہیرہ مسرور,حشمت کلام پاشا اوررہبر حمیدی کی یاد میں
تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا ۔تقریب کا آغاز شعبۂ اردو کی استاذ ڈاکٹر صوفیہ محمود کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا۔موصوف نے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مرحومین کی ادبی خدمات، ان کی منفرد شعری بصیرت اور اردو ادب میں ان کی گراں قدر خدمات پر روشنی ڈالیں ۔اس نشست کا آغاز شعبۂ اردو کے میقات دوم کی طالب علم ناظمین فرحت نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیابعد از میقات دوم کی طالب علم زینت آفرین نے اس نشست میں نعت پاک کا ہدیہ پیش کیا ۔ بعد ازاں
شعبہ اردو کےکو آرڈینیٹر ڈاکٹر محمد فاروق اعظم نے تمام مہمانان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے شعبہ اُردُو میں ادبی شخصیتوں کے تعلق سے اس طرح کی تعزیتی نشست کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر بھر پور روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان نشستوں کے انعقاد کے ذریعہ نئی نسل کو ان ادبی شخصیتوں کی اُردُو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات سے واقف کرانا ہے۔ جیلانی بانو کا شمار ہندو پاک کے ا ہم فکشن نگاروں میں ہوتا ہے تو شہیر ہ مسرور کا  تعلق مغربی بنگال کے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔ حشمت کمال پاشا نے شائقین ادب کے لیے ادب اطفال   پر بیش بہا سرمایہ فراہم کیا ہے۔
رہبر حمیدی کا تعلق مغربی بنگال کے ادبی شہرآسنسول سے ہے،جہاں اُردُوکی ادبی نشستوں اُردو کی ادبی محفلوں میں اُن کی غزلیں اکثر و بیشتر سنی جاتیں۔ انہوں نے درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے گیسوئے ادب کو بھی سوارنے کا کام کیا۔ نشست میں موجود ڈاکٹر دبیر احمد (صدر شعبئہ اردو مولانا آزاد کالج ) نے کہا کہ زندگی اور موت کائنات کا ایک حقیقی عمل ہے لیکن شاعر یا ادیب اپنی تخلیقات کی بنا پر ہمیشہ  دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اِن تمام ادیبوں نے  انسانی جذبات و احساسات کو نہایت خوبصورتی سے تخلیقات کے قالب میں ڈھالا ہے۔ موصوف نےاپنے ذاتی تجربات کی بنا پر ان تمام مرحومین کے متعلق جو حقائق تھے اس پر بھر پور روشنی ڈالی اور بالآخر  ان مرحومین اور ان کے لواحقین کے لئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا خیر مانگی ۔نشست میں موجود ڈاکٹر نعیم انیس ( شعبہ اردو،کلکتہ گلرز کالج ) نے اردو ادب کی معروف فکشن نگار جیلانی بانو کے متعلق پر مغز گفتگو کرتے ہوئے ان کے ادبی مرتبے کو ان کی تخلیقات کی روشنی میں اجاگر کیا ساتھ ہی نئی نسل سے  شہیر ہ مسرور کی تخلیقات پرمزید  تحقیقی و تنقیدی کام کرنے کی گزارش کی ۔
بعد از اس نشست میں موجود محمد شمشیر عالم (شعبہ اردو،ٹی ـ ڈی ـ بی کالج رانی گنج ) نے اپنے منفرد انداز میں ان ادیبوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کے ادبی پہلوؤں کو مختلف زاویوں سے اجاگر کیا۔اس نشست میں مرحوم رہبر حمیدی صاحب کے فرزند جناب وقیع منظر بنفس نفیس شامل تھے۔ انہوں نے ذاتی کرب کا اظہار کرتے ہوئے اپنے والد محترم کے چند اشعار سنائے اور ان کی پوری زندگی پر بھر پور روشنی ڈالی۔  بعد از شعبۂ اردو کے استاذڈاکٹر رضا مظہر انصاری نے یکے بعد دیگرے تمام مرحومین کی ادبی خدمات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کی تخلیقات کے ذریعہ ان کی اہمیت اور مرتبے کو اجاگر کیا۔ شعبہ کی استاذ ڈاکٹر نکہت پروین اور ڈاکٹر آثار عالم انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان ادیبوں کے فکری و اخلاقی پہلوؤں پر گفتگو کی۔
قاضی نذ ر ل یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر انجم آرا نے اپنی ایک عمدہ نظم کے ذریعہ ان تمام مرحومین کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔قاضی نذرل یونیورسٹی شعبہ الائیڈہیلتھ  کی گیسٹ فیکلٹی صہبا غفار ملک نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار بھر پور انداز میں کیا۔
بعد از ایم اے میقات دوم کی طلبہ ناظمین فرحت نے (جیلانی بانو)، صحالہ آمرین نے (حشمت کمال پاشا) اور
میقات چہارم کے طالب علم میثاق الرحمن عظیم نے( رہبر حمیدی) اور ہما پروین نے (شہیرہ مسرور)
کے متعلق ایک مضمون کے ذریعہ مذکورہ ادیبوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جسے سامعین نے خوب سراہا۔
اس نسشت میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر صوفیہ محمود استاذ شعبہ اردو، قاضی نذ ر ل یونیورسٹی نے بہ حُسن خوبی انجام دیے ۔ اس تعزیتی نشست کے اختتام پر مرحومین کی مغفرت ، بلندی درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ یہ نشست نہایت سنجیدہ، پر وقار اور کامیاب رہی۔ شرکائے نشست نے ان ادیبوں کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی یادوں کو تازہ کیا اور اردو ادب کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Latest News