Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مرزا غالب: کلاسیکی عہد کا جدید ترین انسان(آدھا مسلمان اور پورا شاعر)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*مرزا غالب: کلاسیکی عہد کا جدید ترین انسان(آدھا مسلمان اور پورا شاعر)*
از قلم : *اسماء جبین فلک*

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

27 دسمبر 1797ء کو آگرہ میں پیدا ہونے والے غالب نے اردو شاعری کو وہ وسعت گہرائی اور فلسفیانہ رنگ عطا کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
​غالب صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے۔ انہوں نے پرانی روایات کو توڑ کر جدید اردو نثر اور نظم کی بنیاد رکھی۔
​غالب کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کا جدتِ طراز ذہن تھا۔ انہوں نے روایتی عشق و محبت کی شاعری سے ہٹ کر انسانی وجود، کائنات، اور خدا کے بارے میں ایسے سوالات اٹھائے جو آج بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ​غالب کے ہاں ایک خاص قسم کی خوداری اور انانیت ملتی ہے۔ وہ کسی کے سامنے جھکنے کے قائل نہ تھے۔ ان کا یہ شعر ان کی شخصیت کا عکاس ہے
​بندگی میں بھی وہ آزاد و خود آرا ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا

​غالب کی زندگی مشکلات، تنگدستی اور اپنوں کی جدائی کے صدمات سے عبارت تھی۔
غالب کی شاعری میں جو گہرائی اور کرب نظر آتا ہے، اس کے پیچھے ان کی زندگی کے بہت سے ذاتی دکھ چھپے تھے۔ ان کی ازدواجی زندگی آزمائشوں کا شکار رہی۔ ان کے سات بچے پیدا ہوئے لیکن افسوس کہ ایک بھی زندہ نہ بچ سکا۔ ساتوں بچوں کی وفات نے ان کے اندر ایک ایسا خلا پیدا کر دیا تھا جسے وہ اپنی شاعری اور فلسفے سے بھرنے کی کوشش کرتے رہے۔
لیکن انہوں نے ان غموں کو رو کر نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ انداز میں بیان کیا
​قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

​غالب نے اردو نثر کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔ ان کے خطوط کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے “مراسلے کو مکالمہ بنا دیا”۔ وہ خط اس طرح لکھتے تھے جیسے سامنے والے سے گفتگو کر رہے ہوں۔ ان کے خطوط سے اس دور کی دلی کی تہذیب اور ان کی حسِ مزاح کا بھرپور اندازہ ہوتا ہے​غالب کی شاعری میں ہر رنگ موجود ہے، چاہے وہ تصوف ہو، فلسفہ ہو یا شوخی یا ​عشق کی پیچیدگی

​عشق نے غالب نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

غالب کی ظرافت اور حاضر جوابی ان کی پہچان تھی۔ ایک بار جب انگریز پولیس سارجنٹ نے ان سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا تو غالب نے کمالِ بے نیازی سے جواب دیا کہ وہ “آدھے مسلمان” ہیں۔ وضاحت مانگنے پر انہوں نے کہا کہ وہ شراب تو پیتے ہیں لیکن سور کا گوشت نہیں کھاتے۔ یہ واقعہ ان کی بے باک شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
غالب کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک وسیع سمندر ہے۔ وہ خود کو اس باغ کا پرندہ کہتے تھے جو ابھی وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔ ان کے کلام میں “یاس” (حقیقت پسندی اور ناامیدی کا امتزاج) کا ایک منفرد فلسفہ ملتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو طنز اور ظرافت کے لبادے میں دیکھنا چاہیے۔
نئی نسل غالب کے افکار اور ان کی سوچ کی گہرائی کو سمجھ لے، تو یہ ان کے لیے سوچ کے نئے در وا کر دے گا اور وہ ایک بدلی ہوئی قوم کے طور پر ابھریں گے۔
​غالب نے خود پیشگوئی کی تھی کہ ان کی شہرت ان کے مرنے کے بعد ہوگی۔ آج پوری دنیا میں غالب کی شاعری پر تحقیق ہو رہی ہے اور ان کے دیوان کو “الہامی کتاب” کا درجہ دیا جاتا ہے۔
​غالب آج بھی اپنی شاعری کے ذریعے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ وہ صرف ایک شاعر نہیں بلکہ انسانی نفسیات کے نبض شناس تھے۔ بقول غالب
​ہوں آج کل میں شعرا میں بہت بلند
غالب! ہوا ہے نام میرا دور دور کا