نعتِ رسولﷺ
پھر کسی صورت نہ بہلا اس طرح مچلا کہ بس
دل میں دیدارِ مدینہ کا وہ درد اٹھا کہ بس
صرف اک پل کے کرم سے بھر گیا دامن مرا
اور مجھ پر ابرِ رحمت اس قدر برسا کہ بس
ان کے در پر حاضری کی دیکھ کر میری تڑپ
دل سے ہر نقشِ تمنا مٹ چلا ایسا کہ بس
منکرِ سنت کا دیکھا خواب میں انجام جو
چونک کر میں نیند سے کچھ اس طرح جاگا کہ بس
ایک لمحے کو ملا جو سبز گنبد کا سکون
زندگی سے ہر الم کچھ اس طرح بھاگا کہ بس
جب تصور میں مدینے کی وہ گلیاں آ گئیں
دل کا ہر ارمان یوں آنکھوں سے بہہ نکلا کہ بس
یادِ سرکارِ دو عالم جب غموں میں آئی ہے
اشک بن کر آہ اس شدت سے دل پگھلا کہ بس
جب گناہوں کی گواہی دیتے چیخا سارا جسم
میرے ایماں کی بتاتے بول اُٹھے آقا کہ بس
جالیوں کو چومنے کی آرزو میں عمر بھر
مضطرب دل میرا کچھ اس طرح سے دھڑکا کہ بس
جب کبھی اعمال کا اپنے لیا ہے جائزہ
لگ گیا مجھ کو وہ خوفِ حشر کا دھڑکا کہ بس
جیسے ہی نامِ محمد آیا ہونٹوں پر “ذکی”
میری تکلیفوں کے دن کچھ یوں ہوئے چلتا کہ بس
*ذکی طارق بارہ بنکوی*
( ایڈیٹر ہفت روزہ “صدائے بسمل” بارہ بنکی )
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا










