*جسٹس مادھو جامدار کا جرات مندانہ فیصلہ: شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی*
*بھارتی عدلیہ میں سیاسی مداخلت کے خلاف ایک اہم عدالتی آواز*
(احتجاج اور اختلافِ رائے: جرم نہیں بلکہ آئینی حق ہے)
ازقلم: *اسماء جبین فلک*
3 دسمبر 2025 کو ممبئی پولیس کے ڈپٹی کمشنر (زون 6) نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت سعید احمد عبدالوحید چودھری، جو سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے ریاستی جنرل سیکرٹری ہیں، کو 44 گھنٹوں کے اندر شہر چھوڑنے اور 12 ماہ تک ممبئی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق چودھری پر متعدد مقدمات درج تھے جو شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، قومی شہری رجسٹر (این آر سی)، گیانواپی مسجد تنازع اور بابری مسجد کے انہدام کے خلاف احتجاجی مظاہروں سے متعلق تھے، جن میں “بی جے پی گورنمنٹ مرادآباد” اور “امیت شاہ مرادآباد” جیسے نعرے لگائے گئے تھے۔ چودھری نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یہ خارجی حکم برائے نام مقدمات کی بنا پر جاری کیا گیا ہے جس کا اصل مقصد انہیں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے قبل انتخابی مہم چلانے سے روکنا اور جمہوری اختلافِ رائے کو کچلنا ہے۔
اس خارجی حکم کے خلاف چودھری نے 7 ماہ بعد 27 مارچ 2026 کو بمبئی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور اس کی سماعت کے لیے جسٹس مادھو جے جامدار کی بنچ مقرر ہوئی۔ عدالت میں جج جامدار نے استغاثہ سے پوچھا کہ کیا شہری حکومت کے خلاف احتجاجی نعرے نہیں لگا سکتے؟ کیا یہ نعرے خارجی حکم کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ انہوں نے زبانی مشاہدہ کرتے ہوئے کہا، “یہ کیا ہے؟ کیا تمام شہریوں کو بھارتی حکومت کا غلام بنا دیا جا رہا ہے؟ کیا وہ احتجاج نہیں کر سکتے، مظاہرہ نہیں کر سکتے؟ یہ سب کیا ہے؟” جج نے پولیس کو واضح کیا کہ پولیس چیف منسٹر یا وزیر اعظم کی نوکر نہیں ہے، وہ عوامی خدمت گار ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ کیا یہ مقدمات اس لیے درج کیے گئے ہیں کہ وہ کسی دوسری جماعت سے تعلق رکھتا ہے؟ اسے بھی جانب بدلنے دیں، تمام مقدمات ختم ہو جائیں گے۔ ملک بھر میں گھوڑوں کی خرید و فروخت ہو رہی ہے اور واشنگ مشین چل رہی ہے۔ ان الفاظ میں جج نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا کہ سیاسی وفاداری عدالتی کارروائی کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے اور یہ کہ موجودہ سیاسی ماحول میں جماعتی تبدیلی کس طرح مقدمات کو دھو ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اپنے تحریری فیصلے میں جج جامدار نے کہا کہ درخواست گزار نے اپنی حیثیت میں حکومتِ بھارت کے بعض فیصلوں کے خلاف مورچے اور دھرنے منعقد کیے ہیں، لیکن یہ کسی شخص کو مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت خارج کرنے کی بنیاد نہیں ہو سکتی اور یہ کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ چودھری کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت درج تھیں جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 1 ماہ قید ہے، اور ریکارڈ پر کوئی ایسا مواد موجود نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہو کہ درخواست گزار کی نقل و حرکت یا اعمال کسی شخص یا املاک کو نقصان یا خطرہ پہنچا رہے تھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ خارجی حکم شہری کے آئینِ بھارت کے آرٹیکل 14 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ ان دفعات کے تحت نہ صرف شہریوں کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہے بلکہ عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا بھی حق ہے۔ اس طرح عدالت نے 3 دسمبر 2025 کے ڈپٹی کمشنر پولیس کے حکم اور 27 مارچ 2026 کے ڈویژنل کمشنر کونکن کے فیصلے دونوں کو کالعدم قرار دے دیا اور چودھری کو 1 سال کی جلاوطنی سے نجات دلائی۔
یہ فیصلہ محض ایک عدالتی حکم نہیں ہے بلکہ ایک ایسے دور میں عدلیہ کی طرف سے ایک طاقتور پیغام ہے جب بھارتی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں اور جب ایگزیکٹو کی جانب سے عدالتی تبادلوں اور تقرریوں میں بڑھتی ہوئی مداخلت نے ججوں اور قانون دانوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جنوری 2026 میں سپریم کورٹ کے جج اججل بھویاں نے کولیجیم سسٹم کے کام کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عدالتی تبادلوں میں ایگزیکٹو کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ عدالتی آزادی کو مجروح کرتا ہے، اور یہ کہ حکومت کا ہائی کورٹ ججوں کے تبادلے اور تعیناتی کے معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے عدالتی آزادی کو غیر سمجھوتہ پذیر قرار دیا۔ اکتوبر 2025 میں سپریم کورٹ کولیجیم کی جانب سے جسٹس اتل سری دھرن کے تبادلے کی منظوری، جو حکومت کی درخواست پر تبدیل کی گئی تھی، نے عدالتی آزادی اور تقرریوں میں سیاسی مداخلت پر سنگین سوالات اٹھائے، اور نومبر 2025 میں سپریم کورٹ نے ٹریبونلز ریفارم ایکٹ 2021 کو عدالتی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔ ان تمام واقعات نے ایک ایسا پس منظر تخلیق کیا ہے جہاں عدلیہ پر خاموشی اور مطابقت پذیری کا الزام لگ رہا ہے، اور اسی پس منظر میں جسٹس جامدار کا فیصلہ ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔
جسٹس جامدار کا یہ کہنا کہ شہریوں کو حکومت کا غلام نہیں بنایا جا سکتا، کوئی معمولی بات نہیں ہے، بلکہ یہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کی اس تشریح کا اعلان ہے کہ احتجاج کرنا اور نعرے لگانا بنیادی حقوق ہیں، جرائم نہیں، اور پولیس وزیر اعظم یا چیف منسٹر کی نوکر نہیں ہے بلکہ عوامی خدمت گار ہے۔ یہ جملہ اس دور میں جب پولیس اور انتظامیہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ایک انقلابی پیغام ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ جج کے یہ زبانی مشاہدات تحریری فیصلے کا حصہ نہیں تھے، لیکن عدالت میں ان کا کہنا اتنا اثر انگیز تھا کہ میڈیا نے انہیں اسی طرح اٹھا لیا جیسے وہ فیصلے کا حصہ ہوں، اور اس سے عدالتی کارروائی کی شفافیت اور جج کی بے باکی کا پتہ چلتا ہے۔
یاد رہے کہ 1975 کی ہنگامی صورتحال کے دوران عدلیہ کی ناکامی نے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچایا تھا، اور اے ڈی ایم جبل پور (ہیبئس کارپس) کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس اے این رے کی سربراہی میں بنچ نے فیصلہ دیا کہ ہنگامی صورتحال کے دوران شہریوں کی زندگی اور آزادی کے بنیادی حقوق معطل ہو سکتے ہیں، ایک ایسا فیصلہ جو بعد میں شدید تنقید کا نشانہ بنا اور عدلیہ کی ساکھ کو ہمیشہ کے لیے داغدار کر گیا۔ آج جب ایک بار پھر جمہوری اداروں پر حملے ہو رہے ہیں اور عدلیہ کو ایگزیکٹو کے دباؤ کا سامنا ہے، جسٹس جامدار جیسے جج اس تکلیف دہ تاریخ کو دہرانے نہیں دے رہے اور اپنے فیصلوں اور عدالت میں کیے گئے ریمارکس کے ذریعے عدلیہ کو اس کے آئینی کردار کی یاد دلا رہے ہیں کہ عدلیہ کا کام ایگزیکٹو اور لیجسلیچر کی خوشامد کرنا نہیں بلکہ آئین اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
جسٹس جامدار کے اس فیصلے کو ترنمول کانگریس نے سراہا ہے اور پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر لکھا کہ خاموشی آسان ہوتی ہے مگر بولنے کے لیے ہمت چاہیے، جسٹس مادھو جامدار کو سلام کہ انہوں نے آئینی آزادیوں کے لیے موقف اپنایا اور ہمیں یاد دلایا کہ عدالتی آزادی کا اصل مطلب کیا ہے۔ یہ اعتراف کسی ایک جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حزبِ اختلاف کی جماعتیں عدلیہ کے تحفظ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا حصہ بنا رہی ہیں اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جسٹس جامدار کا فیصلہ محض ایک قانونی فتح نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت بھی بن گیا ہے۔
لیکن کیا ایک یا دو توانا جج بھارتی عدلیہ کے بڑھتے ہوئے بحران کو روک سکتے ہیں؟ بھارتی عدلیہ آج بے شمار چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں مقدمات کا بے پناہ بوجھ، ججوں کی کمی، ایگزیکٹو کا بڑھتا ہوا دباؤ اور عوام کا عدلیہ پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد شامل ہیں، اور کولیجیم سسٹم پر بھی تنقید ہو رہی ہے کہ یہ صریح اقربا پروری کو فروغ دیتا ہے اور اختلافِ رائے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود جسٹس جامدار جیسے جج اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ عدلیہ کے اندر اب بھی وہ عناصر موجود ہیں جو آئین اور جمہوریت کے لیے پرعزم ہیں اور ان کی آواز اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں سچ بول رہے ہیں جب خاموشی کو دانشمندی سمجھا جاتا ہے اور جب جج اپنے فیصلوں کی وجہ سے تبادلوں اور تنزلی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایک ہائی کورٹ کا فیصلہ پولیس کے طرزِ عمل کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کر سکتا اور خارجی حکم جاری کرنے کا رجحان ختم نہیں ہو گیا ہے، لیکن جسٹس جامدار کے الفاظ کہ پولیس عوامی خدمت گار ہے، وزیر اعظم یا چیف منسٹر کی نہیں، آنے والے سالوں میں عدالتوں میں گونجتے رہیں گے اور مستقبل میں کوئی بھی جج ان الفاظ کو نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جو ایک بنچ مارک کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ فیصلہ ان تمام شہریوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اپنی آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں، اور ان تمام ججوں کے لیے بھی ایک مثال ہے جو خوفزدہ ہیں اور اپنی عدالتی ذمہ داریوں کو ایگزیکٹو کے دباؤ میں نبھا رہے ہیں۔
مختصراً، جسٹس مادھو جامدار اس دور میں امید کی کرن ہیں جب بھارتی عدلیہ کو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، اور ان کے فیصلے اور عدالت میں کیے گئے ریمارکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ عدلیہ کے اندر اب بھی وہ عناصر موجود ہیں جو خوشامدی اور مطابقت پذیری کے اس دور میں بھی مجاہدانہ انداز میں سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ جسٹس جامدار نے راہ دکھا دی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دوسرے جج بھی اس راہ پر چلیں گے یا پھر خاموشی اور مطابقت پذیری کی یہ تاریکی جمہوریت کو نگل جائے گی، اور کیا عدلیہ اپنے اس المناک ماضی سے سبق سیکھ پائے گی جب اس نے ہنگامی صورتحال کے دوران آئین کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔










