Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

**حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

**حکومت اپنے شہریوں کو مشکوک کیوں بنارہی ہے؟*

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

            کرناٹک ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں بنگلورو میں زیرِحراست عبدالرحیم کو عبوری راحت دیتے ہوئے ان کی بنگلہ دیش ملک بدری پر فی الحال روک لگا دی ہے،جسٹس سورج گووندراج نے بنگلورو کے FRRO کو عبدالرحیم کے شناخت کی مکمل جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔عبدالرحیم کا دعویٰ ہے کہ وہ 14 اپریل 1979 کو دہلی کے نیو سیماپوری میں پیدا ہوئے اور پیدائشی طور پر بھارتی شہری ہیں۔ان کے وکیل کے مطابق ان کے پاس پیدائش کا سرٹیفکیٹ،پاسپورٹ،ووٹر آئی ڈی،آدھار سمیت متعدد دستاویزات موجود ہیں۔وہ 2014 سے بنگلورو میں کاروبار کررہے ہیں،عبد الرحیم کو 5 مارچ کو مبینہ غیردستاویزی بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف کارروائی کے دوران حراست میں لے کر ڈٹینشن سینٹر بھیج دیا گیا تھا۔ اس کیس کی اگلی سماعت 14 جولائی کو ہوگی اور تب تک انکی ملک بدری پر پابندی برقراررہے گی۔ایسے ہی معاملے میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے پچھلے ہفتے اپنے ایک اہم فیصلے میں فارنرز ٹریبونل کے اس حکم کو برقرار رکھا ہے جس میں آسام کے ایک رہائشی کو غیرملکی قراردیا گیا تھا،عدالت نے واضح کیا کہ صرف متعدد دستاویزات پیش کردینا کافی نہیں،بلکہ شہریت ثابت کرنے کے لیے قابل قبول،مستند اور باہم مربوط قانونی شواہد ضروری ہوتے ہیں،عدالت کے روبرو پیش ہونے والے شخص نے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے 16 مختلف دستاویزات پیش کیے تھے،جن میں 1951 کے نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی نقل،مختلف برسوں کی ووٹر لسٹیں،زمین کی رجسٹری،اسکول سرٹیفیکیٹ،پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی وغیرہ شامل تھے۔تاہم عدالت نے ان تمام دستاویزات کو شہریت ثابت کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا،جسٹس کلیان رائے سورانہ اور جسٹس شمیمہ جہان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 1951 کے این آر سی کی نقل کمپیوٹر سے حاصل کی گئی تھی لیکن اس کے ساتھ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے مطابق ضروری تصدیق کی سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا،اس لیے اسے قانونی شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا،اسی طرح 2017 میں جاری ہونے والے اسکول سرٹیفیکیٹ کو بھی عدالت نے مسترد کردیا کیونکہ اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا،عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کسی شخص کی شہریت کا حتمی یا ناقابل تردید ثبوت نہیں ہوتے،بلکہ یہ صرف شناختی یا ٹیکس سے متعلق دستاویزات ہیں،عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی پیدائش یکم مئی 1988 کو آسام کے گھوگو دوبا گاؤں میں ہوئی تھی جبکہ بعد میں اس کا خاندان باشدو ہا منتقل ہو گیا،اس نے دعوی کیا کہ اس کے خاندان کے نام کئی دہائیوں سے مسلسل ووٹر لسٹوں میں درج ہیں،تاہم عدالت نے مختلف برسوں کی ووٹر لسٹوں کا جائزہ لینے کے بعد متعدد تضادات کی نشاندہی کی،ایک ووٹر لسٹ میں خاندان کے ایک فرد کی عمر 1979 میں 25 برس درج تھی لیکن 10 سال بعد 1989 کی فہرست میں اس کی عمرصرف 29 برس لکھی گئی،جو ایک اہم تضاد تھا،عدالت نے یہ بھی کہا کہ مختلف اوقات میں خاندان کے نام تین مختلف دیہات دھوبا کورا، گھوگھو دوہا اور باش دوہا سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں لیکن پیش کیے گئے ریکارڈ میں ان مقامات کے درمیان خاندانی تعلق اور نسب کو قابل قبول انداز میں ثابت نہیں کیا جا سکا،درخواست گزار کے والد نے عدالت میں گواہی بھی دی لیکن عدالت نے کہا کہ شہریت جیسے حساس معاملے میں صرف زبانی بیان کافی نہیں ہوتا بلکہ مضبوط دستاویزی شواہد ضروری ہوتے ہیں،مزید برآں والد کے بیان اور سرکاری ریکارڈ میں بھی کئی تضادات موجود تھے،ہائی کورٹ نے کہا کہ فارنرز ٹریبونل کے فیصلے میں کسی قسم کی قانونی خامی موجود نہیں ہے،اس لیے درخواست خارج کی جاتی ہے،عدالت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کے تحت اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری متعلقہ شخص پرہی عائد ہوتی ہے اور اگر وہ ناکام رہتا ہے تو محض متعدد دستاویزات کی موجودگی اس کی شہریت ثابت نہیں کرسکتی،یہ فیصلہ آسام میں شہریت سے متعلق مقدمات کے تناظر میں ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جارہا ہے جہاں دستاویزات کی قانونی حیثیت اور ان کی باہمی مطابقت کو ان دنوں انتہائی اہمیت دی جاتی ہے۔
ذرا غور کیجئے شہریت کے لیے پاسپورٹ ثبوت نہیں،پین کارڈ ثبوت نہیں،آدھار کارڈ ثبوت نہیں، راشن کارڈ ثبوت نہیں،ڈرائیونگ لائسنس ثبوت نہیں،ووٹر کارڈ ثبوت نہیں،آئی ڈی کارڈ ثبوت نہیں،اسکول کی سند قبول نہیں،پیدائشی سند ثبوت نہیں،حتی کہ کسی کا وجود اور انکی گواہی بھی ثبوت نہیں تو پھر کیا چاہیے؟آخر کیا چیز آپ کی شہریت ثابت کرسکتی ہے؟آسام کے امین الحق نے تمام ممکنات جس سے اس کی شہریت ثابت ہوسکتی ہے وہ داخل کی،زمین کے کاغذات،ایس آئی آر، 1951 کے فہرست کی نقل،جس میں دادا،دادی اور والد کے نام درج ہیں،اس کے علاوہ 1966 سے 2017 کی ووٹر لسٹ بھی پیش کی جس میں والدین کے ساتھ اس کا نام بھی درج ہے، 1973 میں خریدی زمین کے دستاویزات،پین نمبر،ووٹر آئی ڈی اور اسکول کا سرٹیفیکیٹ بھی عدالت میں پیش کیا حتی کہ والد نے عدالت میں آکر خود گواہی دی کہ یہ میرا بیٹا ہے لیکن اس زبانی گواہی کو بھی قبول نہیں کیا گیا،اکتوبر 2017 کو اسکول سرٹیفیکیٹ کے اس طالب علم نے 1999 میں اسکول چھوڑ دیا تھا،یہ بھی جاری کیا گیا،لیکن ٹی سی سرٹیفیکیٹ کے جاری کرنے والے شخص نے عدالت میں حاضر ہو کر اس کی تصدیق نہیں کی اس لیے کہا گیا کہ اس دستاویز کو قابل اعتماد نہیں مانا جاسکتا،لوگ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ پھر اس ملک میں آخر ایسی کونسی چیز ہے جسے قابل قبول ماناجائے؟ہندوستان میں اپنے ہی عوام کے ساتھ یہ سب کیا ہورہا ہے اور کیوں ہورہا ہے؟ حکومت اپنے شہریوں سے کونسی دشمنی نکال رہی ہے؟ ملک میں شہریت کا سوال اب محض قانونی اصطلاح یا سرکاری رجسٹر کا معاملہ نہیں رہا بلکہ کروڑوں لوگوں کے وجود،شناخت،عزت اور سیاسی حق سے جڑا سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے،چند برس پہلے تک عام لوگوں کے ذہن میں یہ شائبہ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ اپنے ہی وطن میں ہمیں اپنی وطنیت ثابت کرنے کے لیے کاغذات کا ایسا سلسلہ پیش کرنا پڑے گا،جس کی ہرکڑی پرکھی جائے وہ پاسپورٹ،ووٹر شناختی کارڈ،آدھار،پیان کارڈ،راشن کارڈ،پیدائش یا تعلیمی صداقت نامہ،زمین کے کاغذات اور پرانی فہرست رائے دہندگان کو کافی سمجھتا تھا،اب ان میں سے بیشتر دستاویزات کو شناخت،رہائش یا عمر کے ثبوت کے طور پر تو قبول کیا جاسکتا ہے مگر شہریت کا قطعی ثبوت قرار نہیں دیا جاتا،متعدد سرکاری دستاویزات رکھنے کے باوجود سوال باقی رہتا ہے کہ آخر کون سا کاغذ کس شخص کو بلا شبہ بھارتی شہری ثابت کرے گا،یہی بے اطمینانی اورغیر یقینی اپنے ہی وطن میں اجنبی ہونے،شکوک وشبہات اور خوف کو جنم دے رہی ہے،دستور نے شہریت کو سیاسی برادری کی بنیاد بنایا اس کا مطلب یہ ہے کہ شہریت صرف نام پتہ یا شناختی نمبرنہیں بلکہ فرد اور مملکت کے درمیان وہ قانونی رشتہ ہے جس سے ووٹ دینے،حکومت سازی میں حصہ لینے اورمملکتی تحفظ حاصل کرنے کی حیثیت پیدا ہوتی ہے،سپریم کورٹ نے مئی 2026 کے خصوصی نظر ثانی سے متعلق فیصلے میں کہا کہ شہریت فرد کو جمہوری عمل میں شرکت کے قابل بناتی ہے۔عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ شہریت کی توثیق یا نفی کا تعلق شناخت،وابستگی وقار اور شخصی آزادی سے ہے،اس لیے ایسے ہر عمل میں منصفانہ کاروائی اور ادارہ جاتی احتیاط ضروری ہے،عدالت نے واضح کیا کہ کمیشن کسی شخص کی شہریت کا قطی فیصلہ نہیں کرسکتا اور شبہ کی صورت میں معاملہ مجاز مرکزی اتھارٹی کو بھیجا جانا چاہیے،اسکے باوجود ووٹر فہرست سے اخراج کا اندیشہ معمولی نہیں، کیونکہ حق رائے دہی سے محرومی کسی فرد کو عملی طور پر سیاسی برادری سے باہر ڈھکیل سکتی ہے،آدھار کو عدالت نے شناختی دستاویز مانا مگرشہریت کا ثبوت نہیں،ووٹر شناختی کارڈ کو اسی ووٹر فہرست سے پیدا ہونے والی دستاویز قرار دے کر اس فہرست کی صحت ثابت کرنے کے لیے ناکافی کہا گیا،مرکزی حکومت نے پاسپورٹ کے بارے میں کہا کہ اسے شہریت کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جاتا،یوں شہری ایسے دستاویزی بھنور میں پھنس جاتا ہے جہاں حکومت کی جاری کردہ ہراہم دستاویز معتبر ہے مگر شہریت کے فیصلہ کن ثبوت کی حیثیت سے غیر یقینی کا شکار ہے۔قانونی طور پر عدالت شہادت کا معیار دیکھتی ہے لیکن سماجی طور پر یہ فیصلہ ہولناک سوال چھوڑ جاتا ہے،جب ووٹر کارڈ،پیان کارڈ، اسکولی سرٹیفیکیٹ،اراضی کے کاغذات،این آرسی اندراجات اور پرانی فہرستیں بھی کسی غریب شہری کو تحفظ نہ دے سکیں تو عام آدمی اپنی شہریت کس طرح محفوظ سمجھے گا؟غربت،ناخواندگی،سیلاب،نقل مکانی،فسادات، خواتین کے نام اورجائے پیدائش میں تبدیلی،ناقص سرکاری ریکارڈ اورمختلف زبانوں میں املا کا فرق دستاویزی تسلسل توڑ سکتے ہیں،دیہی مزدور،خانہ بدوش،بے زمین خاندان،یتیم بچے اور شادی کے بعد دوسری ریاست منتقل ہونے والی خواتین زیادہ خطرے میں رہتے ہیں،ان سے کئی دہائیوں پرانے خاندان خاندانی کاغذات طلب کرنا بظاہر یکساں اصول ہوسکتا ہے مگر اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے،شہریت ترمیمی قانون 2019 نے تشویش مزید گہری کی کیونکہ اس نے تین پڑوسی ملکوں سے آنے والی بعض غیرمسلم،مذہبی برادریوں کے لیے خصوصی راستہ کھولا،جب کے مسلمانوں کو باہررکھا گیا،اسے شہریت کی سخت جانچ این آر سی کے تجربے اور ایس ائی کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اقلیتوں میں امتیازی اخراج کا خوف فطری محسوس ہوتا ہے،مسئلے کا حل غیر قانونی ہجرت کونظرانداز کرنا نہیں بلکہ شہری اور غیر شہری کی شناخت کے لیے شفاف،یکساں،قابل رسائی اور انسانی طریقہ وضع کرنا ہے،مملکت کو اپنے جاری کردہ ریکارڈ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے،معمولی املا،عمر یا پتے کے فرق کو جعل سازی نہ سمجھا جائے،محکموں کے درمیان تصدیقی رابطہ قائم ہو،غریب شہری کو مفت،قانونی امداد، نوٹس،سماعت اور اپیل کا حق اورحقیقی موقع دیا جائے،شہریت کے ثبوت کی واضح اور ملک گیر فہرست قانون کے ذریعے مقرر ہو،ہردفتر اور عدالت میں الگ الگ معیار نہ اپنایا جائے،عالمی حقوق انسانی اعلامیہ کا آرٹیکل 15 ہرشخص کے لیے قومیت کے حق اور اس سے من مانی طور پر محروم نہ کیے جانے کی ضمانت دیتا ہے،بھارتی جمہوریت کی آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو خوف، تحقیر اور کسی دائمی شبہ سے محفوظ رکھے،کوئی حقیقی شہری محض کمزور کاغذی سلسلے،سرکاری ریکارڈ کی غلطی یا غربت کے سبب اپنے ہی وطن میں اجنبی ہونے کا خوف محسوس نہ کرے،اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ذمہ داری حکومت کی ہے اور یہ سمجھا جانا چاہیے کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے۔
سوشل میڈیا سے لے کر سماجی،سیاسی اور دیگر پلیٹ فارمز پر شدت سے ایک ہی سوال ان دنوں پوچھا جا رہا ہے کہ ہندوستانی پاسپورٹ کا حامل شخص ہندوستانی شہری کیوں نہیں ہے؟یہ نیا تنازع اس وقت پیدا ہوا جب وزارت خارجہ نے پاسپورٹ سوا دیوس کے موقع پر منعقدہ تقریب میں میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کی کہ ہندوستانی پاسپورٹ اگرچہ بیرون ملک سفر کے دوران کسی فرد کی قومیت کی تصدیق کرتا ہے تاہم یہ شہریت کی دستاویز نہیں ہے۔وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدے دار کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث شروع ہو گئی، متعدد سارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو پھر ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے کون سی دستاویز معتبر سمجھی جائے؟ مختلف سیاسی قائدین اور شہری یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پاسپورٹ،آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ بھی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں ہے تو پھر اس مقصد کے لیے کون سی دستاویز قابل قبول ہوگی؟ حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں میں نریندرمودی حکومت نے پاسپورٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا،حکومت کے مطابق پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے جبکہ شہریت کا تعین شہریت قانون 1955 اور شہریت ضوابط 2009 کے تحت کیا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں پاسپورٹ کو کسی بھی ملک کی جانب سے جاری کیا جانے والا سب سے اہم شناختی اور قومیت کا دستاویز سمجھا جاتا ہے،چاہے سفر کرنا ہو، ویزا حاصل کرنا ہو،بینک اکاؤنٹ کھولنا ہو یا کسی دوسرے ملک میں اپنی قومی شناخت ثابت کرنی ہو پاسپورٹ کو بنیادی دستاویز مانا جاتا ہے،سوال یہ بھی ہے کہ غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے بعد لوگوں کو اپنا ہندوستانی پاسپورٹ واپس کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہندوستان،دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاسپورٹ دراصل ہندوستانی شہریت سے جڑا ہوا ہے،اب حکومت کے موقف کے لحاظ سے اگر پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں تو غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے بعد بھی ہندوستانی پاسپورٹ اپنے پاس رکھنا جرم نہیں ہونا چاہیے،اس سلسلے کا ایک مقدمہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف بھی چلایا جارہا ہے،کیا یہ غور طلب نہیں ہے کہ ہندوستان میں کوئی ایسا عالمی یا واحد دستاویز موجود نہیں ہے جو ہرشہری کے لیے شہریت کا حتمی ثبوت ہو،ہر ملک اپنے شہریوں کو ایک واضح سرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے،قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ بھی ایک اہم سرکاری دستاویز ضرور ہے لیکن اگرشہریت کا تنازع عدالت میں پہنچ جائے تو فیصلہ متعلقہ قوانین اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،اس بحث کا سب سے سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات کن لوگوں پر پڑ سکتے ہیں؟ ہندوستان میں بہت سے لوگ دستاویزات کے لحاظ سے کمزور ہیں،غریب طبقات، دیہی علاقوں کے رہنے والے مہاجر مزدور اور وہ خواتین جن کے ریکارڈ مکمل نہیں،اس لیے یہ خطرناک رجحان پیدا ہو سکتا ہے،خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کے لیے، کمزور طبقے،پہلے ہی مختلف بنیادوں پر دباؤ کا شکار ہیں اور یہ ان کو ہراساں کرنے کی ایک اور وجہ بن سکتی ہے،اس طرح کے بیانات،ووٹنگ کے حقوق اور بنیادی شہری حقوق کو متاثر کر سکتے ہیں،ایس آئی آر جیسے اقدامات کے ذریعے ایسا ممکن ہے جس سے لوگوں میں مزید الجھن پیدا ہورہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا آزادی کے بعد سے اب تک ایسا کوئی دستاویز جاری ہی نہیں کیا گیا جو شہریت کا ثبوت ہو اور ہندوستانی شہری ہونے کی گواہی دے؟کیا حکومت اب پھر کوئی ایسا نیا دستاویز جاری کرے گی جو شہریت کا حتمی ثبوت ہو،سوال یہ بھی ہے کہ آخر اپنے ہی وطن کی اتنی بڑی تعداد کو مشکوک کیوں بنایا جارہا ہے؟ جب کہ ملک اس وقت مختلف مسائل کا شکار ہے،چاروں طرف مسائل کا انبار ہے،کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت اپنے جرم پردہ ڈالنے،بنیادی اور اہم مسائل سے رخ موڑنے،اسکو چھپانے کے لیے ان جیسے مسائل میں لوگوں کو الجھا رہی ہے اور اپنے ہی شہریوں کو ہی مشکوک و مشتبہ بنا رہی ہے،کیا اب ملک محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے؟
*(مضمون نگارمعروف صحافی،کالم نویس اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com