Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ریاست تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال انتہائی سنگین۔ کسان مشکلات کا شکار* *کنے پلی پمپ ہاؤس کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کے ذریعہ پرانہیتا کے پانی کو استعمال میں لایا جائے* *ہم صرف مسائل پر آواز نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ حل بھی بتا رہے ہیں : صدر ٹی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*ریاست تلنگانہ میں خشک سالی کی صورتحال انتہائی سنگین۔ کسان مشکلات کا شکار*

*کنے پلی پمپ ہاؤس کے مقام پر ڈیم کی تعمیر کے ذریعہ پرانہیتا کے پانی کو استعمال میں لایا جائے*

*ہم صرف مسائل پر آواز نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ حل بھی بتا رہے ہیں : صدر ٹی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا*

تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنتلہ کویتا نے کہا کہ ریاست بھر میں خشک سالی کی صورتحال کے باعث کسان شدید پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ کنے پلی پمپ ہاؤس کے مقام پر 93 میٹر سے زیادہ بلندی پر ڈیم تعمیر کرکے پرانہیتا کے پانی کو استعمال میں لانے کے اقدامات کرے۔ اگر نومبر کے آخر تک ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا تو کنے پلی پمپ ہاؤس کے مقام پر احتجاج کیا جائے گا۔ میڈی گڈہ کو بہانہ بنا کر کسانوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ہم صرف مسائل پر استفسار اور آواز اٹھانے تک محدود نہیں ہیں بلکہ حکومت کو ان کے حل کے راستے بھی بتا رہے ہیں۔ کلواکنتلہ کویتا نے پارٹی قائدین کے ہمراہ کنے پلی پمپ ہاؤس کے مقام پر پرانہیتا ندی کے بہاؤ کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں خشک سالی کے حالات کے پیش نظر کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تلنگانہ کی دو بڑی ندیاں گوداوری اور کرشنا کے پانی کو مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو ریاست میں خشک سالی کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ ہم نے تلنگانہ کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے آواز اٹھائی تھی تو اس کا بنیادی مطالبہ بھی یہی تھا کہ ہمارا پانی ہمیں ملنا چاہئے لیکن تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد بھی ہم اپنے پانی کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پائے ہیں؟

تلنگانہ کی تشکیل کے بعد کچھ عرصے تک بارشیں مناسب وقت پر ہوتی رہیں، جس کے باعث ہمیں کسی بڑی پریشانی کے بغیر وقت گزارنے کا موقع ملا۔ بی آر ایس کے دورِ حکومت میں دریائے کرشنا کے منصوبوں پر کچھ کام کیا گیا اور چار سے پانچ لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کے لئے پانی فراہم کیا گیا۔ شمالی تلنگانہ میں ایس آر ایس پی، کڑم، اپر مانیر، مڈ مانیر اور لوئر مانیر کو پانی فراہم کرتے ہوئے 37 لاکھ ایکڑ اراضی کو مستحکم آبپاشی کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی۔

مجموعی طور پر ایک لاکھ 80 ہزار کروڑ روپے خرچ کرکے آبپاشی کے نظام کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے گئے، لیکن کالیشورم کے ذریعے نئی آبپاشی کے لئے صرف ایک لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کیا گیا۔ جب ہم یہ حقیقت بیان کرتے ہیں تو بی آر ایس کے سوشل میڈیا پر ہمارے خلاف حملے کئے جاتے ہیں لیکن حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ حقیقتیں بہرحال تلخ ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ 26 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کے باوجود ایک ایکڑ نئی اراضی کو بھی آبپاشی کا پانی فراہم نہیں کیا گیا۔ جب اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو حکومت کہتی ہے کہ بقایاجات ادا کر دیئے گئے ہیں۔ اگر حکومت نے بقایاجات ادا کئے ہیں تو پھر فیس ری ایمبرسمنٹ اور دلت بندھو جیسی اسکیموں کے بقایاجات ادا کئے بغیر صرف ان ہی ادائیگیوں کا دعویٰ کیوں کیا جا رہا ہے؟

کویتا نے کہا کہ اس وقت ہم پرانہیتا ندی کے کنارے موجود ہیں۔ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، یہاں سے روزانہ دو ٹی ایم سی پانی بہہ کر ضائع ہو رہا ہے۔ اگر اس پانی کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو ہمارے کسانوں کے کھیتوں کو بہتر انداز میں پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اسی لئے ہم حکومت کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے مسئلہ کے حل کے لئے راستہ بتا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قائم کرنے کے ابتدائی دور میں بھی ہم نے دریائے کرشنا کے پانی کے سلسلہ میں نارلاپور کے مقام پر ریزروائر کی تعمیر کے حوالے سے حل تجویز کیا تھا۔ اب بھی کنے پلی پمپ ہاؤس کے مقام پر 93 میٹر سے زیادہ بلندی پر  ڈیم تعمیر کرکے مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح میڈی گڈہ سے کسی تعلق کے بغیر یہاں سے انارم اور سندیلا تک پانی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس پانی کے ذریعہ ہر منصوبہ کو دوبارہ پانی سے بھر کر ری چارج کیا جا سکتا ہے۔ اس کام پر 25 کروڑ روپئے خرچ ہوں گے اور اسے ڈیڑھ ماہ میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل نینو کی صورتحال کے پیش نظر یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ سال بھی بارشیں ہوں گی یا نہیں، اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ہماری آنکھوں کے سامنے روزانہ دو ٹی ایم سی پانی ضائع ہورہا ہے اور ہم اسے استعمال نہیں کر رہے ہیں ۔ اس معاملہ میں ہم کسانوں کی خاطر حکومت سے مؤدبانہ اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اس تجویز پر عمل کرےاگر حکومت ہماری بات نہیں سنتی تو اسے کس طرح سمجھانا ہے، یہ بھی ہمیں معلوم ہے۔

کویتا نے بتایا کہ تلنگانہ میں ایک کروڑ 36 لاکھ ایکڑ قابلِ کاشت اراضی ہے لیکن اس مرتبہ ایک کروڑ 10 لاکھ ایکڑ اراضی پر ہی کاشت کی گئی ہے۔ اب فصلیں آخری مرحلے میں ہیں اور کسانوں کو پانی کے ساتھ بجلی کی بھی ضرورت ہے۔ اسی لئے ہم پہلے ہی حکومت سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ کسانوں کو بجلی فراہم کی جائے، چاہے اس کے لئے منت سماجت کرنی پڑے یا خرید کر لانی پڑے۔ ہمارے مطالبہ کے بعد ہی چیف منسٹر نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکز سے بجلی طلب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم صرف مسائل پر آواز نہیں اٹھا رہےہیں بلکہ ان کے حل بھی پیش کر رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسائل پر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان کے حل بھی بتائیں۔ موجودہ خشک سالی کے حالات میں بھی ہم حکومت کو  ڈیم تعمیر کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس سے متعلق تکنیکی تفصیلات بھی حکومت کو فراہم کریں گے۔ اسی طرح میڈی گڈہ کی مرمت کے لئے بھی یہ مناسب وقت ہے اور حکومت کو اس کام کا آغاز کرنا چاہئے۔

کویتا نے کہا کہ ہماری موجودہ تجویز پر عمل کرتے ہوئے میڈی گڈہ سے قطع نظر پورے آبپاشی نیٹ ورک کو دوبارہ پانی سے بھر کر ری چارج کیا جا سکتا ہے۔ پارٹی قائدین کو چاہئے کہ وہ اس بات سے ہر کسان کو واقف کروائیں۔ اگر کسانوں کو بجلی اور پانی فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود حکومت یہ سہولتیں فراہم نہیں کرتی ہے تو کانگریس قائدین کو دیہات میں گھومنے نہیں دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری تجویز میں اگر کوئی تبدیلی ضروری ہو تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں اگر انجینئرس ان تجاویز کا جائزہ لے کر ان میں اصلاحات کرنے کا مشورہ دیں گے تو ہم ان کے مطابق تبدیلیاں کرنے کے لئے تیار ہیں۔ موجودہ کانگریس حکومت اگر یہ کام کر دیتی ہے تو اچھی بات ہے، بصورتِ دیگر ہماری حکومت آنے کے بعد ان تجاویز کو یقینی طور پر عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

Oplus_16908288

کویتا نے کہا کہ جہاں بھی کھیتوں کا جائزہ لیا جائے، کسان پریشانیوں میں گھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسی لئے ہم یہاں تک آئے ہیں تاکہ حکومت کو رہنمائی فراہم کر سکیں کہ کسانوں کو پانی کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف منسٹر کسانوں سے متعلق تنظیموں میں بھی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری تجویز ہے کہ کسانوں کے مسائل سے متعلق تنظیموں میں سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کالیشورم پروجیکٹ پر تقریباً 93 ہزار کروڑ روپئے خرچ کیے گئے، لیکن اس کے باوجود نئی آبپاشی کے لئے صرف ایک لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کیا گیا۔ کالیشورم کا پانی کھیتوں تک پہنچانے کے لئے نہریں تعمیر نہیں کی گئیں، جس کے باعث مزید 19 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔ ان نہروں کی تعمیر مکمل کرنے کے لئے مزید 50 ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ حکومت کی مالی حالت ایسی نہیں کہ وہ اتنی بڑی رقم خرچ کر سکے۔

کویتا نے کہا کہ پہلے ہی ایلم پلی سمیت تمام ریزروائرز میں پانی کی سطح انتہائی کم ہو چکی ہے۔ ایلم پلی میں موجود پانی کو پینے کے پانی کی ضرورت کے لئے محفوظ رکھا گیا ہے۔ آنے والے دس ماہ میں ہمیں انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پہلے ہی 21 ہزار تالاب خشک ہو چکے ہیں، جس کے باعث اس سال مدیراج اور بیست برادریوں کے لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع بھی ختم ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ خشک سالی پیدا ہو جائے تو لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری جانب سے پیش کی گئی مفید تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے اور اس پر عمل درآمد کے اقدامات کرے۔

Latest News

Related News