*سنٹرنگ مزدوروں کے مسائل کو فی الفور حل کیا جائے*
*کے کویتا کی اندرا پاک پر دھرنے میں شرکت* *احتجاجیوں سے اظہار یگانگت*


تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس) کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے اندرا پارک حیدرآباد میں سنٹرنگ مزدوروں کے جاری دھرنے میں شرکت کی اور ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ کویتا نے حکومت کو سخت انتباہ دیا کہ آج شام تک مزدوروں کے ساتھ بات چیت کی جائے بصورت دیگر آئندہ دو دنوں میں مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں وہ خود بھی مزدوروں کے ساتھ دھرنے میں بیٹھیں گی۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بلند و بالا عمارتیں سنٹرنگ مزدوروں کی محنت کا نتیجہ ہیں جو اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بلندیوں پر کام کرتے ہیں مگر افسوس کہ تعمیراتی معاہدوں میں ان کا نام تک شامل نہیں کیا جاتا۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد تمام طبقات مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں اسی لئے وہ “گمپو میستری ہٹاؤ، تلنگانہ بچاؤ” کا نعرہ دے رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حیڈرا کی کارروائیوں کے دوران بغیر نوٹس گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے جس سے سنٹرنگ مزدوروں کا میٹریل بھی ضائع ہو رہا ہے لیکن نہ حکومت اور نہ ہی مکان مالک اس کا کوئی معاوضہ دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 86 مقامات پر سنٹرنگ مزدور اور کنٹراکٹرس گزشتہ دس دنوں سے کام بند کئے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے مزدوروں کا خیال رکھ رہے ہیں جو ان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی یہی انسانی رویہ اپنانا چاہئے۔کویتا نے کہا کہ مزدوروں کے مطالبات نہایت جائز اور محدود ہیں جن میں ای ایس آئی کارڈس کی فراہمی، فی مربع میٹر 51 روپئے معاوضہ اور مزدوروں کی موت کی صورت میں 10 سے 20 لاکھ روپئے تک امداد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام مطالبات کی وہ بھرپور تائید کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت سنٹرنگ مزدوروں کے مطالبات کو نظر انداز کرتی رہی تو آنے والے جی ایچ ایم سی انتخابات میں اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزدوروں کو یقین دلایا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے تمام مسائل حل کئے جائیں گے ہر ضلع میں تنظیمیں قائم کی جائیں گی اور مختلف مقامات پر زمین فراہم کی جائے گی۔کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ وہ سنٹرنگ مزدوروں کے ساتھ کھڑی ہیں اور جب تک ان کے مسائل حل نہیں ہوتے وہ حکومت پر دباؤ بڑھاتی رہیں گی۔










