Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*عصری بھارت میں فکرِ امبیڈکر: آئینی اخلاقیات کا بحران*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*عصری بھارت میں فکرِ امبیڈکر: آئینی اخلاقیات کا بحران*

*(امبیڈکر کا آئینی فلسفہ اور جمہوری انحطاط کا مسئلہ)*

ازقلم:
*ڈاکٹر محمد عظیم الدین*

تاریخ میں کچھ آوازیں وقت کی دیوار پھاند کر آتی ہیں۔ وہ جب بولی جاتی ہیں تو لوگ سنتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر جب وہ آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں تو ان کی گونج اور تیز ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کی آواز ایسی ہی ہے، ایک ایسی آواز جو 1949ء میں دستور ساز اسمبلی کی چھت سے ٹکرائی اور آج 2026ء کے بھارت میں پیشگوئی کی طرح گونجتی ہے۔ انہوں نے آئین منظور ہونے کی آخری رات اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: “26 جنوری 1950ء کو ہم ایک تضاد سے بھری زندگی میں قدم رکھیں گے، سیاست میں مساوات ہوگی اور سماجی و اقتصادی زندگی میں عدم مساوات۔ اگر ہم نے اس تضاد کو جلد از جلد ختم نہ کیا تو جو لوگ عدم مساوات کا شکار ہیں، وہ اس سیاسی جمہوریت کے ڈھانچے کو اڑا دیں گے جسے اس اسمبلی نے اتنی محنت سے تعمیر کیا ہے۔” یہ الفاظ 1949ء کے نہیں لگتے، یہ آج کے بھارت کا حال نامہ معلوم ہوتے ہیں اور ان کا ہر لفظ اس عہد میں نئی معنویت لے کر سامنے آتا ہے۔

امبیڈکر کی شخصیت کا مکمل وزن سمجھنے کے لیے ان کے پس منظر کو جاننا ناگزیر ہے۔ 14 اپریل 1891ء کو مدھیہ پردیش کے مہو میں مہار ذات میں پیدا ہونے والا یہ بچہ اس سماج کا باشندہ تھا جہاں نچلی ذات کے لوگوں کو اسکول میں کلاس کے باہر بیٹھنا پڑتا تھا، پانی کے مشترکہ برتن چھونے کی اجازت نہ تھی اور انسانی وقار ذات کے تعین سے مشروط تھا۔ اسی ماحول سے اٹھ کر امبیڈکر نے کولمبیا یونیورسٹی نیویارک، لندن اسکول آف اکنامکس اور لندن کے گرے’ز اِن سے اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی تعلیمی جدوجہد محض ذاتی کامیابی نہیں تھی، یہ اس عقیدے کا عملی اظہار تھا جو انہوں نے اپنی تحریروں میں بار بار دہرایا: “ذات پات محض محنت کشوں کی تقسیم نہیں، یہ خود محنت کشوں کی تقسیم ہے۔” انہوں نے علم کو اسلحہ بنایا اور صدیوں پرانی ناانصافی کے خلاف قلم اور قانون سے جنگ لڑی۔ وہ جانتے تھے کہ ظلم صرف طاقت سے نہیں علم سے بھی شکست کھاتا ہے، اور یہی یقین ان کی زندگی کا محور تھا۔

بھارتی آئین جو 26 جنوری 1950ء کو نافذ ہوا، امبیڈکر کی سب سے بڑی قانونی وراثت ہے۔ انہوں نے اس دستور میں وہ سب کچھ سمویا جو انہوں نے خود اپنی زندگی میں نہیں پایا تھا، مساوات، وقار اور آزادی۔ دفعہ 14 قانون کے سامنے یکساں مساوات کی ضمانت دیتی ہے، دفعہ 15 مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز کو سختی سے ممنوع قرار دیتی ہے، دفعہ 17 چھواچھوت کو جرم کے طور پر ختم کرتی ہے اور دفعہ 25 ضمیر اور مذہب کی آزادی کو بنیادی حق تسلیم کرتی ہے۔ تاہم امبیڈکر اس آئین کو حتمی منزل نہیں بلکہ ابتدائے سفر سمجھتے تھے۔ انہوں نے لکھا تھا: “آئینی اخلاقیات ایک فطری جذبہ نہیں ہے، اسے پیدا کرنا پڑتا ہے۔” یعنی آئین کا وجود کافی نہیں، اس کی روح کو سینوں میں اتارنا پڑتا ہے اور یہی وہ کام ہے جو آج ادھورا پڑا ہے، جو کل بھی ادھورا تھا اور جس کی ادھوری تکمیل ہر نسل کی آزمائش بنتی ہے۔

شہریتی ترمیمی قانون یعنی CAA جو دسمبر 2019ء میں نافذ ہوا، آئینی اخلاقیات اور آئینی الفاظ کے درمیان اس خلیج کی سب سے واضح مثال ہے۔ یہ قانون پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور مسیحی پناہ گزینوں کو شہریت کا راستہ فراہم کرتا ہے مگر مسلمانوں کو اس فہرست سے خارج رکھتا ہے۔ حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ مظلوم اقلیتوں کی مدد کے لیے ہے اور کسی موجودہ شہری کے حقوق کو متاثر نہیں کرتا۔ تاہم آئینی ماہرین کا جواب واضح ہے: جب کسی قانون میں مذہبی بنیاد پر تفریق کی جائے تو وہ دفعہ 14 اور 15 کی روح کے منافی ہے، خواہ اس کا نام کچھ بھی رکھا جائے۔ سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف دو سو سے زائد درخواستیں ابھی تک زیرِ التوا ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آزاد بھارت کی تاریخ میں کسی قانون نے شہریت کو مذہب سے مشروط کیا ہو اور یہی وہ خطرہ ہے جس کی نشاندہی امبیڈکر نے کئی دہائیاں پہلے کر دی تھی۔

الیکٹورل بانڈ اسکینڈل جمہوریت کے شفافیت والے ستون پر ایک کاری ضرب تھا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بنچ نے 15 فروری 2024ء کو اس اسکیم کو متفقہ طور پر غیر آئینی قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ اسکیم شہریوں کے معلومات کے حق کو سلب کرتی ہے اور سیاسی بدعنوانی کو قانونی راہ فراہم کرتی ہے۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کے تجزیے کے مطابق 2017ء میں اسکیم کے آغاز سے 2022ء تک جاری کردہ بانڈز میں سے تقریباً 57 فیصد حکمران جماعت بی جے پی کو ملے جبکہ اپوزیشن کا حصہ انتہائی محدود رہا۔ امبیڈکر نے کہا تھا کہ جمہوریت صرف ووٹ کا نظام نہیں بلکہ ایک “طرزِ زندگی” ہے جس کی بنیاد احتساب اور شفافیت پر ہے۔ جب یہ بنیاد کمزور پڑے تو جمہوریت ایک باوقار خول بن کر رہ جاتی ہے جس کے اندر نہ روح ہوتی ہے نہ حقیقت۔

آزادیِ صحافت کی صورتحال اس سے بھی تکلیف دہ ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس 2023ء میں بھارت 180 ممالک میں سے 161ویں نمبر پر رہا جو 2022ء کے مقابلے میں ایک سال میں گیارہ درجے کا سیدھا زوال تھا۔ 2025ء میں معمولی بہتری کے ساتھ 151ویں نمبر آیا مگر “انتہائی سنگین” زمرے میں بدستور موجود ہے۔ آئی ٹی رولز 2021ء کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا پر ریاستی گرفت مضبوط کی گئی اور کئی صحافیوں پر UAPA جیسے سخت قوانین کا اطلاق ہوا۔ امبیڈکر نے خود 1920ء میں “مُوکنائیک” اور 1927ء میں “بہشکرت بھارت” نامی اخبار نکال کر ثابت کیا تھا کہ آزاد صحافت کمزوروں کی واحد ڈھال ہے۔ جب یہ ڈھال چھین لی جائے تو ظلم کا احتساب کون کرے گا، یہ سوال آج بھی بے جواب ہے اور اس بے جوابی میں ایک گہری تکلیف چھپی ہے۔

دلت مخالف تشدد کے اعداد و شمار بھارت کے ترقی یافتہ چہرے پر سب سے تکلیف دہ سوالیہ نشان ہیں۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق درج شدہ واقعات کی تعداد 57,582 تھی جو 2021ء کے مقابلے میں 13.1 فیصد اضافہ ہے۔ 2023ء میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 57,789 ہو گئی۔ یعنی ہر روز اوسطاً 158 واقعات اور ہر چھ منٹ میں ایک۔ یہ وہ نظام ہے جسے امبیڈکر نے ذات پات کا مسلّح ڈھانچہ کہا تھا اور جو تاحال قائم ہے، اپنی پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ۔ جنوری 2016ء میں حیدرآباد یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر روہتھ ویمولا کی خودکشی اس نظام کی ایک دردناک جھلک ہے۔ ان کے آخری خط کے الفاظ کہ “میری پیدائش میرا المناک حادثہ ہے” اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تعلیمی ادارے بھی سماجی امتیاز کی زد سے محفوظ نہیں اور جس سماج نے امبیڈکر کو ستایا تھا وہ آج بھی اپنے نئے شکاروں کی تلاش میں سرگرم ہے۔

امبیڈکر نے مذہبی قوم پرستی کو بہت پہلے سنجیدہ علمی نظر سے دیکھا اور اسے جمہوریت کے لیے خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے اپنی کتاب “Pakistan or the Partition of India” کے تیسرے ایڈیشن میں 1946ء میں صریح الفاظ میں لکھا: “اگر ہندو راج قائم ہوا تو یہ اس ملک کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہوگا کیونکہ ہندو مت آزادی، مساوات اور برادری کا دشمن ہے۔” حکومت کا دفاع یہ ہے کہ ہندوتوا کا مطلب مذہبی تنگ نظری نہیں بلکہ ثقافتی قوم پرستی ہے مگر جب CAA، این آر سی، یکساں سول کوڈ اور نصابی تبدیلیاں ایک مربوط سلسلے کی صورت میں سامنے آتی ہیں تو یہ دفاع علمی دلیل کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے اور امبیڈکر کی وہ تنبیہ ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے جو انہوں نے اس وقت کی تھی جب کوئی سننا نہیں چاہتا تھا۔

وفاقی ڈھانچے کا تحفظ امبیڈکر کی فکر کا ایک اور اہم ستون تھا اور یہی ستون آج دباؤ میں ہے۔ 2019ء میں جموں و کشمیر کی ریاست کو وہاں کی قانون ساز اسمبلی کی رائے کے بغیر تحلیل کرکے دو مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں بدل دیا گیا۔ مخالف جماعتوں کی حکومتوں میں مرکزی تحقیقاتی اداروں کی یلغار اور مالی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ریاستی خودمختاری پر مستقل سوالیہ نشان ہے۔ یہ بحران تنہا بھارت کا نہیں ہے۔ ہنگری میں وکٹر اوربان نے عدلیہ پر سیاسی گرفت قائم کرکے ایسی آئینی تبدیلیاں کیں کہ یورپی پارلیمان کو جمہوری زوال کا باقاعدہ مقدمہ کھولنا پڑا۔ ترکی میں 2016ء کے بعد عدالتی نظام کی تشکیلِ نو اور پریس پر قدغن کو سیاسی سائنس دان انتخابی آمریت کا نمونہ کہتے ہیں۔ امبیڈکر کا خوف اس لیے آفاقی ہے کیونکہ طاقت کا خمار ہر جغرافیے میں ایک ہی زبان بولتا ہے اور اقتدار کا نشہ ہر ملک میں ایک ہی انداز سے جمہوریت کو نگلتا ہے۔

امبیڈکر کی وراثت کا سب سے خطرناک استحصال یہ ہے کہ آج وہ لوگ بھی ان کا نام لیتے ہیں جو ان کے نظریات کے بنیادی مخالف ہیں۔ 2014ء کے بعد سے امبیڈکر مہوتسو منائے جاتے ہیں، مجسمے بڑھائے جاتے ہیں اور انہیں قومی شبیہ میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر ان کی کتاب “Riddles in Hinduism” جس میں مذہبی روایات پر سنجیدہ علمی تنقید ہے، آج بھی کئی حلقوں میں ناقابلِ قبول ہے۔ امبیڈکر کا مجسمہ قبول ہے مگر ان کا قلم قبول نہیں اور یہی وہ سماجی تضاد ہے جسے امبیڈکر خود منافقانہ پوجا کہتے۔ دسمبر 2024ء میں بھارتی پارلیمان میں وزیرِ داخلہ کے ایک بیان نے امبیڈکر کے نام پر سیاسی طوفان برپا کیا اور یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ امبیڈکر آج بھی ایک زندہ فکری میدانِ جنگ ہیں جسے مختلف قوتیں اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی ہیں مگر ان کی حقیقی فکر کو قبول کرنے کی ہمت نہیں رکھتیں۔

امبیڈکر نے اسی آخری تقریر میں شخصیت پرستی کے خلاف بھی خبردار کیا تھا۔ ان کے الفاظ تھے: “بھارتی تاریخ میں اس شخصیت پرستی کا ریکارڈ موجود ہے جس نے ہندوستان کو تباہ کیا ہے۔ سیاست میں ہیرو پوجا انحطاط اور آمریت کی شاہراہ ہے۔” یہ تنبیہ کسی ایک جماعت یا شخص کے لیے نہیں تھی بلکہ ہر اس نظام کے لیے تھی جہاں احتساب کمزور اور شخصیت پرستی مضبوط ہو جائے۔ جب ریاستی اشتہارات، سرکاری عمارات اور عوامی پروگراموں میں ایک چہرے کا غلبہ اس حد تک بڑھ جائے کہ ادارے اس کے سائے میں گم ہو جائیں تو امبیڈکر کی یہ تنبیہ محض تاریخی نہیں رہتی بلکہ ایک آج کا جلتا ہوا سوال بن جاتی ہے۔

امبیڈکر کی فکر کا ایک اور پہلو جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، ان کی خواتین کے حقوق کے لیے عملی قربانی ہے۔ 1951ء میں انہوں نے وزارتِ قانون سے اس لیے استعفیٰ دیا کیونکہ ہندو کوڈ بل جو ہندو خواتین کو وراثت، طلاق اور نکاح کے یکساں حقوق دیتا تھا، پارلیمان نے مسترد کر دیا۔ وہ شخص جسے آئین بنانے کے لیے بلایا گیا، اس نے اصول پر مسندِ وزارت چھوڑ دی اور ثابت کیا کہ کرسی اصول سے بڑی نہیں ہوتی۔ یہ سبق آج کے سیاسی کلچر میں سب سے زیادہ ناپید ہے جہاں اصول کو کرسی کے لیے بدل لیا جاتا ہے، جہاں وفاداری خیالات سے نہیں مفادات سے ناپی جاتی ہے۔ امبیڈکر کی یہ قربانی اس ماحول میں ایک روشن مینار کی طرح کھڑی ہے۔

عصری بھارت میں امبیڈکر کی فکر اس لیے لازم ہے کیونکہ جو بحران آج درپیش ہے، آئینی اقدار کا کٹاؤ، مذہبی اقلیتوں کی بے یقینی، دلت مخالف تشدد کا تسلسل، صحافتی آزادی کا زوال اور عدلیہ کی خودمختاری کے سوالات، یہ سب امبیڈکر کے اسی مرکزی سوال کی مختلف جہتیں ہیں جو انہوں نے 1936ء میں اپنی شہرۂ آفاق تحریر “Annihilation of Caste” میں پوچھا تھا: “کیا یہ سماج کبھی واقعتاً مساوی انسانوں کی برادری بن سکتا ہے؟” 1936ء میں یہ سوال ذات پات کے نظام کے بارے میں تھا اور 2026ء میں یہی سوال مذہبی امتیاز، انتخابی بدعنوانی، صحافتی دباؤ اور آئینی انحطاط کے بارے میں بھی ہے۔ یہ سوال کبھی پرانا نہیں ہوتا کیونکہ ظلم کبھی پرانا نہیں ہوتا اور انصاف کی تلاش کبھی ختم نہیں ہوتی۔

امبیڈکر کی حقیقی وراثت نہ مجسموں میں ہے، نہ سالانہ جلسوں میں اور نہ ان سرکاری تقریبات میں جہاں ان کا نام لیا جاتا ہے مگر ان کی کتابیں نہیں پڑھی جاتیں۔ ان کی وراثت اس ہر فرد میں زندہ ہے جو آئین کی کتاب اٹھا کر طاقت کے سامنے کھڑا ہو جائے، جو ذات اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز کو ٹھکرا دے اور جو ایک ایسے بھارت کا خواب دیکھے جو نہ کسی ایک مذہب کا ہو، نہ کسی ایک ذات کا بلکہ ہر اس انسان کا ہو جو اس زمین پر سانس لیتا ہے اور وقار کے ساتھ جینا چاہتا ہے۔ امبیڈکر نے جمہوریت کو طرزِ زندگی کہا تھا، محض ایک انتخابی عمل نہیں۔ جب وہ طرزِ زندگی، مساوات، وقار اور آزادی، روزمرہ کی زندگی میں سکڑتا جائے تو ہر پانچ سال میں ووٹ ڈال دینا کافی نہیں ہوتا۔ بھارت آج اسی امتحان میں کھڑا ہے جس کی پیشگوئی امبیڈکر نے 1949ء میں کر دی تھی اور اس امتحان کا نتیجہ تاریخ کی کتابیں نہیں لکھیں گی بلکہ وہ لوگ لکھیں گے جو آج یہ فیصلہ کریں کہ امبیڈکر کا آئین محض ایک یادگار علامت رہے گا یا ایک زندہ اور عملی حقیقت بنے گا۔

Latest News