Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

غسلِ یک لیٹری: وشو گرو بھارت کی نئی پہچان

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

غسلِ یک لیٹری: وشو گرو بھارت کی نئی پہچان

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

آب و آتش کی پرانی چشمک اور ازل سے جاری خاندانی دشمنی اپنی جگہ، مگر برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں غسل (جسے ہمارے ہاں کمالِ عقیدت، تہذیبی وارفتگی اور کسی قدر خوف کے ساتھ ”اشنان“ یا ”طہارت“ کہا جاتا ہے) کبھی بھی محض پیکرِ خاکی پر پانی انڈیلنے، یا صابن کی مدد سے میل کچیل دور کرنے کی مشینی کارروائی کا نام نہیں رہا۔ یہ ایک باقاعدہ سماجی رسم، ایک روحانی تجربہ اور ایک ایسا عظیم الشان تہذیبی استعارہ ہے جس کے ساتھ ہماری پوری ثقافتی تاریخ، شاعری اور نفسیات ایک گیلے تولیے کی طرح وابستہ ہیں۔
پرانے وقتوں کی بات اور تھی جب ندیوں، گھاٹوں اور تالابوں پر اشنان کے باقاعدہ میلے لگا کرتے تھے۔ تب پانی کو محض ہائیڈروجن اور آکسیجن کا بے حس کیمیائی مرکب نہیں، بلکہ ایک جیتا جاگتا وجود مانا جاتا تھا، جس کے آگے سر جھکا کر پہلے اپنے پاپ دھوئے جاتے تھے اور پھر خاکی وجود۔ پھر وقت نے ذرا سی کروٹ لی اور ہمارے غسل خانوں میں پیتل کے لوٹے اور جست کی بالٹی کا وہ شیریں اور رومانوی ملاپ سامنے آیا، جس کی جل ترنگ نے اس خطے کو کیسے کیسے بے سرے، مگر پُر جوش اور خود سر ”باتھ روم سنگرز“ عطا کیے، جو نہاتے وقت خود کو تان سین اور پانی کی دھار کو اپنا طبلہ نواز سمجھتے تھے۔
سچ پوچھیے تو جدید شاور کی موسلادھار، بے حس اور مشینی پھوار میں وہ روحانی طمانیت کہاں، جو بالٹی کے کنارے پر لوٹے کے ٹکرانے کی اس مخصوص دھاتی آواز میں پوشیدہ تھی! یہ آواز بیک وقت گھر والوں کے لیے اندر والے کے زندہ ہونے کے اعلان اور صابن مانگنے کے اشارے کا کام دیتی تھی۔
سردیوں کی ٹھٹھرتی اور دھندلی صبحوں میں پانی کے سرد و گرم ہونے کے درمیان کا وہ نفسیاتی تذبذب، اور پھر نہانے سے فرار کی وہ جنگی حکمتِ عملیاں، ہماری مشترکہ تہذیبی یادداشت کا ایسا اٹوٹ حصہ ہیں جنہیں سوچ کر آج بھی ہڈیوں میں جھرجھری سی آ جاتی ہے۔ اپنی بات کروں تو راقم الحروف کا پانی کے ساتھ تعلق ہمیشہ اس گھریلو بلی جیسا رہا ہے جسے دودھ تو پسند ہے مگر چھینٹوں سے اس کی جان جاتی ہے۔ جاڑوں میں ہمارا غسل محض گیلے تولیے سے ڈیل ڈول کو ڈرانے، یا زیادہ سے زیادہ گردن کے پچھلے حصے پر پانی کا مسح کرنے تک محدود رہتا تھا، اور ہم اس آدھے ادھورے گیلے پن کو زہد و تقویٰ کی معراج سمجھتے تھے۔
پانی سے ہماری اس فطری، پیدائشی اور موروثی پرہیزگاری کے باوجود، ہمیں کبھی خواب میں بھی یہ گمان نہ تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہماری اس ذاتی کمزوری اور آبی کاہلی کو باقاعدہ ”قومی فریضے“ کا درجہ دے دیا جائے گا، اور سرے سے نہ نہانے والوں یا قطرہ قطرہ پانی کو ترسنے والوں کو دیش بھگت تسلیم کیا جانے لگے گا۔ ہمارے اس آبی زہد پر اس وقت مزید پانی پھر گیا جب پچھلے دنوں ہمارے محلے میں ایک ایسا روح فرسا اور بیک وقت مضحکہ خیز سانحہ پیش آیا، جس نے اشنان کے تمام کلاسیکی، رومانوی اور روایتی تصورات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
ہمارے پڑوس میں پنڈت سوکھا رام رہائش پذیر ہیں۔ پنڈت جی کی کفایت شعاری، جفاکشی اور آبی بچت کا یہ عالم ہے کہ وہ برسات کے پانی سے کلیاں کرنے کے قائل ہیں، اور ان کا بس چلے تو شبنم کے قطروں سے غسل فرما لیں۔ پانی کے معاملے میں ان کی احتیاط اس درجہ کمال کو پہنچی ہوئی ہے کہ وہ صبح منہ ہاتھ بھی اس باریک بینی اور کنجوسی سے دھوتے ہیں، گویا صحرائے راجستھان کے عین وسط میں مقیم ہوں اور ان کے پاس طہارت کی یہ آخری صراحی ہو۔ ان کے نزدیک نلکے سے ٹپکتا ہوا ایک قطرہ بھی کسی بڑے قومی اور جغرافیائی سانحے سے کم نہیں ہوتا۔ سنا ہے کہ وہ محلے میں کسی کی موت پر ماتم بھی کرتے ہیں تو بغیر آنسوؤں کے، مبادا جسمانی رطوبت کی قیمتی نمی ضائع ہو کر فضا میں تحلیل ہو جائے۔
یہی پنڈت سوکھا رام گزشتہ ہفتے کسی مخصوص کٹر قوم پرست ”راشٹریہ آشرم“ سے طہارت کا ایک نیا دیسی کورس مکمل کرنے کے بعد، تازہ آشیرباد پا کر لوٹے۔ ان کی بغل میں ایک لیٹر والی منرل واٹر کی وہ پلاسٹک کی بوتل نہایت احتیاط اور عقیدت سے دبی ہوئی تھی، جو عموماً طویل مسافتوں کے دوران مسافروں کا حلق تر کرنے کے کام آتی ہے۔ محلے کے چوک میں آتے ہی انہوں نے مجمع لگایا اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے محض ایک لیٹر پانی میں مکمل اور تسلی بخش اشنان کرنے کا وہ انقلابی اور محیر العقول فن سیکھ لیا ہے، جو نہ صرف ملک کو آبی بحران سے نکالے گا بلکہ وشو گرو بننے کی راہ میں دیش بھکتی کو ناپنے کا نیا پیمانہ بھی بنے گا۔
ہم نے ابتدا میں اسے آشرم کی کوئی صوفیانہ کرامت، شعبدہ بازی، یا کڑاکے کی دھوپ کا اثر سمجھا، مگر جب انہوں نے بیچ چوراہے پر اس کا عملی مظاہرہ شروع کیا تو ہماری آنکھیں حیرت اور ہیبت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
انہوں نے اس ایک لیٹر والی بوتل سے چند قطرے نہایت نفاست، لرزش اور بخل کے ساتھ اپنی سوکھی ہتھیلی پر ٹپکائے، صابن کو محض اتنا گیلا کیا کہ وہ بے ہوش ہونے سے بچ جائے، اور پھر اسے اعضائے رئیسہ و غیر رئیسہ پر وہاں تک ملا جہاں تک ان کے ہاتھ باآسانی اور بغیر کسی بیرونی مدد کے پہنچ سکتے تھے۔ اس کے بعد کا منظر تو ایسا تھا کہ غالب اگر دیکھ لیتے تو اپنا پورا دیوان کسی خشک کنویں میں پھینک دیتے۔ بچی کھچی بوتل کے پانی سے صابن دھونے کے لیے پنڈت جی نے ایسی ایسی جسمانی قلابازیاں کھائیں، اور اپنے ڈھانچے کو ایسے ناممکن اور ناقابلِ فہم زاویوں میں موڑا کہ دیکھ کر ماہرینِ جمناسٹک اور یوگا کے بڑے بڑے پنڈت بھی شرم سے ہمالیہ کے غاروں میں روپوش ہو جاتے۔
وہ صابن جو سارے بدن پر لگ چکا تھا، اسے ایک لیٹر پانی سے دھونا ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص ایک پیالی چائے سے پورے محلے کی ضیافت کا دعویٰ کر دے۔ پانی کا ایک ایک قطرہ صابن کے جھاگ سے یوں نبرد آزما تھا جیسے کسی رومانوی المیے میں ہیروئن اپنے ظالم سماج سے ٹکراتی ہے۔
اس آبی و جسمانی تماشے کو دیکھ کر جب مجمع گنگ کھڑا تھا تو محفل میں موجود وید جل ترنگ نے (جن کا مطب کم اور دماغ زیادہ چلتا ہے) آگے بڑھ کر پنڈت جی کی سوکھی ہوئی کلائی پکڑی، نبض پر انگلیاں جمائیں اور آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلے گئے۔ کچھ دیر بعد ایک گہری سرد آہ بھر کر بولے کہ پنڈت جی کے دماغ میں یبوست (خشکی) اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ اب انہیں پانی لیٹروں میں نہیں، تولوں اور ماشوں میں نظر آنے لگا ہے۔ وید جی نے طنزیہ متانت سے فرمایا:
”انسانی وجود کوئی چائے کی پیالی نہیں جسے چند قطروں سے کھنگال کر طاق پر رکھ دیا جائے۔ ایک لیٹر والے غسل کا یہ دعویٰ حب الوطنی کم اور مالیخولیا کی ابتدائی علامت زیادہ ہے۔“
ان کے بقول، طہارت کے لیے پانی کی وہ فراوانی شرط ہے جس میں انسان کم از کم اپنے گناہوں اور میل دونوں کو ایک ساتھ بہا سکے، ورنہ ایسا غسل تو محض صابن کی توہین اور کھال کی بربادی ہے۔
ابھی وید جل ترنگ اپنی تشخیص مکمل ہی کر رہے تھے کہ مجمع کو چیرتے ہوئے ہمارے محلے کے سب سے پڑھے لکھے دانشور، پروفیسر گیانیش کمار شرما نمودار ہوئے۔ وہ ولایتی سوٹ میں ملبوس، آنکھوں پر قیمتی چشمہ سجائے، جدید کارپوریٹ کلچر اور سائنسی موشگافیوں کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ انہوں نے پنڈت سوکھا رام کی اس خشک اور صابن آلود ہیئتِ کذائی کو نہایت تحسین بھری نظروں سے دیکھا اور وید جل ترنگ کی تشخیص کو دقیانوسی قرار دیتے ہوئے فرمایا:
”آپ لوگ اس عظیم قومی قربانی کے سائنسی پہلو کو ہرگز نہیں سمجھ رہے۔ پنڈت جی کا یہ ایک لیٹر والا غسل کوئی بیماری نہیں، بلکہ اکیسویں صدی کے ماحولیاتی تقاضوں کی عین تکمیل اور وشو گرو بھارت کی جانب پہلا قدم ہے۔“
پروفیسر صاحب نے اپنی ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے مجمع کو سمجھانا شروع کیا: ”بھائیو! آج کل ہمارے ملک میں مصنوعی ذہانت کے جو عظیم الشان ڈیٹا سینٹرز بن رہے ہیں، ان کے سروروں کے کلیجے ٹھنڈے رکھنے کے لیے، اور نام نہاد گرین انرجی یعنی ایتھنول کی فیکٹریوں کا پہیہ چلانے کے لیے ندیوں کا سارا پانی درکار ہے۔ اب اگر یہ قیمتی پانی ایک عام شہری کے میل کچیل دھونے میں ضائع ہو گیا تو ملک ڈیجیٹل کیسے ہوگا؟ پنڈت سوکھا رام کا یہ صابن آلود وجود دراصل کارپوریٹ ترقی کی راہ میں ایک جلتا ہوا چراغ ہے!“
یہ سن کر مجمع میں کھڑے ایک سرپھرے نے محلے کی نکڑ پر واقع سیٹھ سمندر داس کے ستائیس منزلہ شیشے اور فولاد کے محل کی طرف اشارہ کر دیا، جس کی ڈرائیو وے پر اس وقت بھی ہزاروں لیٹر میٹھا پانی محض اس لیے بے دریغ بہایا جا رہا تھا تاکہ سیٹھ صاحب کے ولایتی کتوں کے سائے کو ٹھنڈک اور طمانیت مل سکے۔ پروفیسر گیانیش نے ایک لمحے کے لیے اس چھلکتے ہوئے پانی کو دیکھا، پھر گلا کھنکھار کر نہایت ڈھٹائی سے مسکراتے ہوئے بولے:
”دیکھیے، اسے اسراف نہ کہیے۔ سیٹھ صاحب کے کتے اگر فرانسیسی شیمپو سے نہ نہلائے جائیں تو بین الاقوامی سطح پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سامنے ہمارے ملک کا معاشی وقار مجروح ہوتا ہے۔ غریب کی قناعت اور امیر کے اسراف کا یہی توازن تو ہماری معیشت کا پہیہ چلا رہا ہے۔ غریب کو چاہیے کہ وہ اپنی پیاس کو حب الوطنی کے ترانے گا کر بجھائے اور امیر کی امارت کو دیکھ کر اپنی آنکھوں میں ٹھنڈک کا احساس پیدا کرے۔“
پروفیسر صاحب ابھی اپنے اس جدید معاشی اور ماحولیاتی فلسفے کے فضائل بیان کر ہی رہے تھے کہ اچانک محکمۂ آب رسانی کے انسپکٹر، دروغہ نِرجَل داس، ایک موٹی سی چالان بک بغل میں دبائے نمودار ہوئے۔ دروغہ جی کا اپنا شکم اور طول و عرض اس بات کی کھلی گواہی دے رہے تھے کہ انہوں نے محکمے کا سارا پانی اور بجٹ اپنے اندر ذخیرہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے سیٹھ سمندر داس کے چھلکتے ہوئے سوئمنگ پول اور بھیگتے ہوئے کتوں کی طرف یکسر پیٹھ کرتے ہوئے، سیدھے پنڈت سوکھا رام کی طرف پیش قدمی کی اور ان کے ہاتھ سے وہ ایک لیٹر والی بوتل چھین لی۔
دروغہ نِرجَل داس نے اپنا لال قلم نکالا اور پنڈت جی پر ”قومی آبی ذخائر کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی“ کا پرچہ کاٹ دیا۔ دروغہ جی کا استدلال نہایت سادہ، قانونی اور سفاک تھا کہ جب ملک کا سارا پانی عالی جاہوں کے کارخانوں اور سروروں کے لیے وقف ہو چکا ہے، تو ایک عام شہری کو یہ ایک لیٹر پانی بھی اپنے پاس رکھنے یا اس میں نہانے کا کیا حق ہے؟ ریاست کی نظر میں یہ بوتل غسل کا سامان نہیں، بلکہ ملکی وسائل پر غاصبانہ قبضہ ہے۔
شام ڈھل رہی تھی۔ مجمع چھٹ چکا تھا۔ پروفیسر گیانیش کمار شرما اپنے کارپوریٹ فلسفے کی سائنسی مسکراہٹ لبوں پر سجائے رخصت ہو چکے تھے، اور دروغہ نِرجَل داس وہ ایک لیٹر کی بوتل بطور مالِ مقدمہ ضبط کر کے فخریہ انداز میں جا چکے تھے۔ چوراہے کے بیچوں بیچ اب صرف پنڈت سوکھا رام کھڑے تھے۔ ان کے سارے بدن پر ملا ہوا صابن اب سوکھ کر پاپڑ بن چکا تھا اور ان کی کھال کو یوں جکڑ رہا تھا جیسے کسی غریب کو مہنگائی جکڑتی ہے۔
پانی کی وہ ادھوری بوتل، جو ان کی واحد امید تھی، اب سرکاری قبضے میں جا چکی تھی۔ پنڈت جی نہایت حسرت سے اپنے خشک اور کھنچتے ہوئے وجود کو دیکھ رہے تھے، اور انہیں یہ سفاک حقیقت سمجھ آ رہی تھی کہ اب اگر وہ صابن دھونے کے لیے ایک بالٹی پانی مانگیں گے تو سیدھے دیش دروہی قرار پائیں گے۔ لہٰذا، صابن کے اس سفید، کھردرے اور خارش زدہ غلاف میں ملبوس، پنڈت جی نے خود کو قناعت پسندی کا ایک زندہ مجسمہ تسلیم کر لیا۔ اب ان کے پاس دو ہی منطقی راستے بچے تھے: یا تو وہ اسی حالت میں کھڑے رہ کر ساون کی پہلی بارش کا انتظار کریں، یا پھر رات کی تاریکی میں چپکے سے سیٹھ سمندر داس کے محل کے باہر جا کر کھڑے ہو جائیں، اس امید پر کہ شاید سیٹھ صاحب کا کوئی ولایتی کتا اپنا بھیگا ہوا بدن جھٹکے، اور اس سے اڑنے والے چند قطرے پنڈت جی کی طہارت اور حب الوطنی دونوں کو بچا لیں۔