*فلسطین کے مسئلے کا پُرامن سیاسی حل ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے: ڈاکٹر عمار رضوی*
لکھنٶ(پریس ریلیز)ڈاکٹر عمار رضوی، صدر تنظیم برائے جوہری تخفیفِ اسلحہ، عالمی امن و ماحولیات نے حال ہی میں پوپ لیو چہاردہم کی جانب سے کی گئی اس اپیل کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں انہوں نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق امن و سلامتی کے ساتھ رہنے والی ایک آزاد، خودمختار اور بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے۔
ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ تنظیم کا پختہ یقین ہے کہ پائیدار اور منصفانہ امن کے قیام کے لیے تشدد کا خاتمہ، شہریوں کی سلامتی، انسانی ہمدردی اور تمام انسانوں کے لیے تحفظ، عزت و وقار کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے مسئلے کا کوئی بھی دیرپا حل طاقت اور تشدد کے ذریعے نہیں، بلکہ بامعنی مذاکرات، سیاسی مفاہمت اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسی لیے ایک پُرامن سیاسی حل خطے میں مستقل امن کی جانب سب سے مؤثر اور دیرپا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
تنظیم کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے مکتوب میں پوپ لیو چہاردہم کی اخلاقی قیادت کو سراہتے ہوئے ان کی روحانی بصیرت اور عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مذہبی اور سیاسی قیادتوں کی یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نفرت، تشدد اور تصادم کے بجائے مکالمے، برداشت، انسانی ہمدردی اور مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ویٹیکن کی قیادت میں امن اور مفاہمت کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، جس میں دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں، سیاسی شخصیات، دانشوروں، انسانی حقوق کے ماہرین اور امن کے حامیوں کو شرکت کی دعوت دی جائے۔ ان کے مطابق ایسی عالمی سطح کی کوشش فلسطین سمیت دنیا کے مختلف تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر فکری اور سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قیامِ امن صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور ہر انسان کے بنیادی حقوق و وقار کا احترام کسی بھی مہذب عالمی نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی برادری کو محض تشویش کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے عملی، سنجیدہ اور نتیجہ خیز سفارتی اقدامات کرنے چاہئیں۔
ڈاکٹر رضوی نے واضح کیا کہ ان کی تنظیم ایسی تمام کوششوں کی مکمل حمایت اور ہر ممکن تعاون پیش کرنے کے لیے تیار ہے جو تشدد کے خاتمے، انسانی جانوں کے تحفظ، باہمی اعتماد کی بحالی اور سیاسی مذاکرات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکالمے، انسانی ہمدردی، باہمی احترام اور مفاہمت کے ذریعے فلسطین کے مسئلے کے ایک منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی اور خطے کے عوام کو وہ امن، تحفظ اور باوقار زندگی نصیب ہو سکے گی جس کے وہ حق دار ہیں۔یہ اطلاع آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرواشاعت کے سیکرٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔










