Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مولانا سید محمد اوسط رضوی زید پوری کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی جلسہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*مولانا سید محمد اوسط رضوی زید پوری کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی جلسہ*

لکھنٶ(پریس ریلیز)دار العلوم سید المدارس امروہہ میں 13 محرم الحرام 1448 ہجری کو ممتاز عالم دین اور خطیب مولانا سید محمد اوسط رضوی زید پوری مرحوم کے سانحۂ ارتحال پر ایک تعزیتی جلسہ منعقد ہوا۔ جلسے کی صدارت مدرسہ کے پرنسپل اور مرحوم کے داماد مولانا سید رضا کاظم تقوی نے فرمائی۔
اپنے صدارتی خطاب میں مولانا سید رضا کاظم تقوی نے بتایا کہ مولانا سید محمد اوسط رضوی صاحب کا 29 ذی الحجہ کو لکھنؤ میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہوگیا تھا۔ اُن کی نمازِ جنازہ اُن کے شاگرد مولانا موسیٰ رضا نے پڑھائی، جبکہ تعزیتی مجلس سے خطاب مولانا سید رضا کاظم تقوی نے کیا۔ مرحوم کی تدفین اسی روز نمازِ ظہر کے بعد کربلا تال کٹورا، لکھنؤ میں عمل میں آئی۔
مولانا سید رضا کاظم تقوی نے مرحوم کی علمی، دینی اور خطیبانہ خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے وقت کے ممتاز عالم دین، بہترین خطیب اور نہایت باعمل شخصیت تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن زید پور میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ کی معروف دینی درسگاہ جامعہ سلطان المدارس میں داخلہ لیا اور وہیں سے جامعہ کی آخری سند ’’صدر الافاضل‘‘ حاصل کی۔
انہوں نے بتایا کہ مولانا اوسط رضوی اپنی مؤثر خطابت کے باعث گجرات، میرٹھ، سری نگر، مھووا، بنارس اور دیگر مقامات پر مجالس و دینی اجتماعات کے لیے مدعو کیے جاتے تھے، تاہم عمر کے آخری حصے میں ضعفِ جسمانی اور دنیا سے بے رغبتی کے سبب گوشہ نشین ہوگئے تھے۔ مرحوم نے ایک طویل عرصے تک حوزۂ علمیہ جامع التبلیغ، لکھنؤ میں تدریسی و علمی خدمات انجام دیں اور وہ زید پور کی معروف علمی و مذہبی شخصیت ’’چھوٹی سرکار‘‘ کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نہایت سادہ مزاج، خاموش طبیعت اور اعلیٰ کردار کے حامل عالمِ باعمل تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مرحوم کی اکلوتی صاحبزادی مولانا سید رضا کاظم تقوی آلِ نجم الملت، پرنسپل دار العلوم سید المدارس امروہہ کی اہلیہ ہیں۔ پسماندگان میں اہلیہ، ایک بیٹی، داماد، ایک نواسا اور ایک نواسی شامل ہیں۔
جلسے کے اختتام پر مدرسہ کے اساتذہ، عملے اور مومنین نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی، جبکہ پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے مرحوم کے داماد مولانا سید رضا کاظم تقوی سے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔