Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*واٹس ایپ یونیورسٹی: جھوٹ اور پروپیگنڈے کی عالمی درس گاہ* *(ایک ایسی عالمی دانش گاہ، جہاں دانش کی ضرورت ہی نہیں)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*واٹس ایپ یونیورسٹی: جھوٹ اور پروپیگنڈے کی عالمی درس گاہ*

*(ایک ایسی عالمی دانش گاہ، جہاں دانش کی ضرورت ہی نہیں)*

ازقلم:
*ڈاکٹر محمد عظیم الدین*

اب سنیے، ایک ایسے دانش گاہ کی کہانی جو نہ کبھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) سے منظور ہوئی، نہ جس کا کوئی کیمپس ہے، اور نہ ہی فیس جمع کرانے کی کوئی قطار۔ اس کے باوجود 500 ملین سے زائد طلبہ روزانہ اس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اس کی ڈگریوں کی حقیقت پر کسی کو شک نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ڈگریاں کسی وائس چانسلر کے دستخط سے نہیں بلکہ “براہِ کرم آگے بھیجیں” کی مہر سے جاری ہوتی ہیں۔ خوش آمدید، بھارت کی “واٹس ایپ یونیورسٹی” میں، جہاں ہر فارورڈ پیغام ایک لیکچر ہے، ہر گروپ ایک فیکلٹی، اور ہر جھوٹ ایک تحقیقی مقالہ۔
ابھی پچھلے سال کی بات ہے، اس ادارے کو اس وقت غیر متوقع دھچکا لگا جب بھارتی سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران صاف کہہ دیا کہ “واٹس ایپ یونیورسٹی کی معلومات قابلِ قبول نہیں”۔ جج صاحبان نے شاید سوچا ہوگا کہ یہ ایک قانونی چوٹ ہے، لیکن یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران یعنی ہر وہ شخص جس کی جیب میں اینڈرائیڈ فون ہے نے اسے محض ایک نئے کورس “عدلیہ کو کیسے نظر انداز کیا جائے” کے تعارفی لیکچر کے طور پر فارورڈ کر دیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس عدالت نے یہ ریمارک دیا، اس کا کلپ بھی واٹس ایپ یونیورسٹی کے ہی کسی گروپ میں سب سے پہلے وائرل ہوا تھا۔
اس یونیورسٹی کی بنیاد کسی اینٹ یا گارے پر نہیں بلکہ ایک ایسی ٹیکنالوجی پر رکھی گئی ہے جس کی سادگی ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ واٹس ایپ (WhatsApp) کوئی شور مچاتا ٹیلی ویژن اسٹوڈیو یا ہنگامہ خیز ٹویٹر بحث نہیں ہے۔ یہ جیب میں رکھا وہ خاموش منبر ہے جہاں سے آپ کا پھوپھا، آپ کا پڑوسی، یا آپ کے محلے کا مذہبی رہنما، بغیر کسی ثبوت کے، محض ایک کلک سے آپ کی پوری سیاسی اور سماجی سوچ بدل سکتا ہے۔ اور جب سامنے والا کوئی “اپنا” ہو تو آپ کا تصدیقی تعصب (confirmation bias) نامی دماغی کیڑا فوراً جاگ جاتا ہے، جو آپ سے سرگوشی کرتا ہے: “ارے، بھائی نے بھیجا ہے، 100 فیصد درست ہوگا!”
اگر آپ سوچتے ہیں کہ یہ محض بے ضرر ٹائم پاس ہے تو ذرا اس یونیورسٹی کے نصاب پر نظر ڈالیے۔ اس میں تین طرح کے کورسز پیش کیے جاتے ہیں۔ پہلا، مس انفارمیشن (Misinformation) یعنی وہ غلط معلومات جو غلطی سے پھیل جائیں، جیسے دعا کی وہ من گھڑت پوسٹ جسے پھیلانے سے ظاہری طور پر جنت میں داخلے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ دوسرا، ڈس انفارمیشن (Disinformation) یعنی وہ زہر جو جان بوجھ کر پھیلایا جائے، جیسے انتخابات سے پہلے کسی امیدوار کے خلاف بنائی گئی جعلی جنسی اسکینڈل کی ویڈیو۔ اور تیسرا، سب سے خطرناک، میل انفارمیشن (Malinformation) جس میں اصلی مواد کو جان بوجھ کر غلط سیاق و سباق میں ڈال کر زہریلا بنایا جاتا ہے، مثلاً 15 سال پرانی کسی فرقہ وارانہ فساد کی فوٹیج کو آج کا بتا کر پیش کرنا تاکہ حالیہ فسادات کا جواز تیار کیا جا سکے۔ واٹس ایپ یونیورسٹی کا کمال یہ ہے کہ وہ یہ تینوں کورسز بیک وقت، مفت، اور بغیر کسی داخلہ امتحان کے کرواتی ہے۔ انفارمیشن ڈس آرڈر کی ماہر کلیئر وارڈل (Claire Wardle) اس پر تبصرہ کرتی ہیں: “ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں معلومات کا ہتھیار بن جانا جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔”
اب آپ پوچھیں گے کہ آخر یہ یونیورسٹی چلتی کیسے ہے؟ اس کا جواب معاشیات کی ایک ایسی شاخ میں پوشیدہ ہے جسے توجہ کی معیشت (attention economy) کہا جاتا ہے۔ یہ معیشت کا وہ ماڈل ہے جس میں آپ کا غصہ، آپ کا خوف، اور آپ کا ٹائم سب کرنسیاں ہیں۔ میٹا (META) نامی کمپنی، جو اس پورے کیمپس کی مالک ہے، کا پورا منافع اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنی دیر تک اسکرین پر جمے رہے۔ 2025 میں اس کمپنی نے 201 ارب ڈالر کمائے اور اس میں سے 196.2 ارب ڈالر یعنی 98 فیصد، صرف اشتہارات سے آئے۔ اور اشتہارات کی قیمت تبھی بڑھتی ہے جب آپ انھیں دیکھیں، اور آپ انھیں دیکھتے تب ہیں جب کوئی سنسنی خیز، غصہ دلانے والی، یا ہوش ربا چیز آپ کو روکے رکھے۔ چنانچہ الگورتھم نامی ڈین نے یہ فارمولا نکال لیا: “جھوٹ جتنا بھیانک ہوگا، پھیلاؤ اتنا ہی تیز ہوگا، اور منافع اتنا ہی زیادہ ہوگا۔”
یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں بلکہ خود کمپنی کے سابق ملازمین کی زبانی بیان کردہ حقیقت ہے۔ 2026 میں برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (BBC) کی ایک دستاویزی فلم انسائیڈ دی ریج مشین (Inside the Rage Machine) کے لیے ایک درجن سے زیادہ وسل بلورز (whistleblowers) نے پردہ فاش کیا کہ میٹا اور ٹک ٹاک کے اعلیٰ افسران نے جان بوجھ کر نفرت انگیز مواد کو پھیلنے دیا۔ میٹا کے سینئر محقق میٹ موٹل (Matt Motyl) نے بتایا کہ انسٹاگرام ریلز کو 2020 میں بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے لانچ کیا گیا اور جب ملازمین نے بتایا کہ ریلز پر غنڈہ گردی میں 75 فیصد، نفرت انگیز تقاریر میں 19 فیصد، اور تشدد پر اکسانے میں 7 فیصد اضافہ ہو رہا ہے، تو مینجمنٹ نے کندھے اچکا دیے کیونکہ “اسٹاک کی قیمت پہلے ہی نیچے تھی” اور صارفین کو جوڑے رکھنے کے لیے کچھ بھی کرنا ضروری تھا۔ واٹس ایپ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی معاشی ترجیحات اس سے صاف ظاہر ہوتی ہیں: اخلاقیات کا شعبہ ہمیشہ خسارے میں رہتا ہے، جب کہ سنسنی کا شعبہ منافعے کی چوٹی پر۔
لیکن یہ یونیورسٹی صرف نظریاتی تعلیم تک محدود نہیں؛ اس کے عملی امتحانات بھی ہوتے ہیں، جن میں سب سے زیادہ نمبر “ہجومی تشدد” کے پرچے میں ملتے ہیں۔ 2025 اور 2026 کے درمیان، بچوں کے اغوا کی جھوٹی افواہوں نے کم از کم 20 بے گناہ لوگوں کی جانیں لے لیں۔ رائٹرز انسٹی ٹیوٹ (Reuters Institute) کی ڈیجیٹل نیوز رپورٹ 2025 اس کی تائید کرتی ہے: 53 فیصد بھارتی جواب دہندگان نے میٹا کی ملکیت والے واٹس ایپ کو جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے سب سے بڑے خطرے کے طور پر شناخت کیا، یہ شرح سروے میں شامل تمام 48 ممالک میں سب سے زیادہ تھی۔ تریپورہ میں تو صورت حال اتنی سنگین ہو گئی کہ حکومت نے واٹس ایپ کو ہی 48 گھنٹوں کے لیے بند کر دیا، گویا کیمپس کو ہی سیل کر دیا گیا۔ بنگلورو میں 400 بچہ اغوا کاروں کی ایک جھوٹی افواہ نے ایک غریب مہاجر مزدور کی جان لے لی، جسے غلطی سے اغوا کار سمجھ کر پیٹا گا۔ یہ وہ فیلڈ ورک ہے جہاں واٹس ایپ یونیورسٹی کے طلبہ بی اے پاس کر کے براہِ راست قتل کے مجرم بن جاتے ہیں۔
اب اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب بے ساختہ ہو رہا ہے تو آپ نے یونیورسٹی کا سیاسی شعبہ دیکھا ہی نہیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس شعبے کو فیکلٹی آف پولیٹیکل ماسٹری میں تبدیل کر دیا۔ 50 لاکھ سے زائد واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے روزگار، مہنگائی اور پالیسی جیسے بورنگ موضوعات کو کمرہ جماعت سے باہر پھینک دیا گیا اور ان کی جگہ “شناخت”، “خوف” اور “وفاداری” کے دلچسپ مضامین کو مرکزی نصاب میں شامل کر لیا گیا۔ جب ووٹر یہ سوچنے لگے کہ معیشت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ مخالف مقرر کا تعلق کس ذات اور مذہب سے ہے، تو یہ سمجھ لیجیے کہ بی جے پی کی ڈیجیٹل لیبارٹری کامیاب ہو گئی۔ واٹس ایپ گروپ میں بار بار دہرایا گیا جھوٹ اتنا عام فہم بن جاتا ہے کہ اس پر شک کرنا خود آپ کی وفاداری پر سوالیہ نشان لگنے کے مترادف ہو جاتا ہے۔
یہ کوئی خاص بھارتی ایجاد بھی نہیں، بلکہ واٹس ایپ یونیورسٹی کے بین الاقوامی کیمپس بھی ہیں اور وہاں کے پروفیسر بھی کم خطرناک نہیں۔ برازیل میں جائیر بولسونارو (Jair Bolsonaro) کے حامیوں نے 2018 کے صدارتی انتخابات میں واٹس ایپ کو جعلی خبروں کی ایک ایسی فیکٹری میں بدل دیا جسے امیر تاجروں نے کثیر ملین ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی اور جس نے پورے انتخابی عمل کو زہر آلود کر دیا۔ برازیل کی یونیورسٹی فیڈرل آف ریو ڈی جنیرو (Federal University of Rio de Janeiro) کے نیٹ لیب (NetLab) کے محققین نے اسے “جمہوریت کے خلاف شراکتی گمراہ کن پروپیگنڈے کی مستقل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر” قرار دیا۔ میانمار میں تو معاملہ اور بھی آگے نکل گیا۔ اقوام متحدہ کے آزادانہ تحقیقاتی میکنزم (Independent Investigative Mechanism for Myanmar) نے 2024 میں بتایا کہ وہاں کی فوج نے 2017 میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف قتلِ عام سے پہلے فیس بک پر درجنوں جعلی پیجز کے ذریعے منظم اور مربوط نفرت پھیلائی، بالکل ویسے ہی جیسے یونیورسٹی کا ایک شعبہ کسی نسل کشی کا لٹریچر تیار کرتا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں نے بعد میں فیس بک کے خلاف 150 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کیا، یعنی یونیورسٹی انتظامیہ کو معاوضے کا بل تھما دیا گیا، حالانکہ وہ اسے اپنی آپریشنل لاگت کا حصہ سمجھتی ہے۔
تو کیا اس پوری یونیورسٹی کو بند کیا جا سکتا ہے؟ اس پر بحث کرنے والے زیادہ تر لوگ یا تو ڈیجیٹل خواندگی کا راگ الاپتے ہیں، یعنی طلبہ کو پڑھائی گئی جھوٹ کا نشہ اتارنے کے لیے سچ کی کڑوی گولیاں کھلائی جائیں، یا پھر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ادارے کے خلاف کارروائی کرے۔ لیکن یہاں ایک مزاحیہ معمہ سامنے آتا ہے: واٹس ایپ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (end-to-end encryption) کے لوہے کے دروازے میں بند ہے، جس کا مطلب ہے کہ پروفیسر صاحبان کے لیکچرز کو کوئی باہر سے سن بھی نہیں سکتا۔ اگر حکومت یہ دروازہ توڑنے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے پرائیویسی کے نام پر شور مچے گا، گویا چور کو پکڑنے کے لیے پورے محلے کی دیواریں گرانے پر احتجاج ہونے لگے۔
اب تو صحافت سے جڑے حضرات بھی اس کیمپس میں اب اپنی فیکٹ Checking (fact-checking) کی چھوٹی چھوٹی دوکانیں کھولنے لگے ہیں، جو افواہوں کے سمندر میں سچ کی چھوٹی چھوٹی کشتیاں چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مگر جھوٹ کی رفتار جس طرح وائرل ہوتی ہے، اس کے آگے سچ کی یہ کشتیاں اکثر دیر سے پہنچتی ہیں، اور تب تک واٹس ایپ یونیورسٹی کا کانووکیشن ہو چکا ہوتا ہے اور ڈگریاں تقسیم ہو چکی ہوتی ہیں۔
مستقبل تو اور بھی حسین ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصے میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ایسی آڈیو کلپ آپ کے گروپ میں آئے گی، جس میں کسی بڑے رہنما کی بالکل اصلی آواز میں فرقہ وارانہ فساد کی اپیل ہوگی۔ نہ آپ اسے جھوٹ پکڑ پائیں گے، نہ ہی اس کا کوئی سراغ ملے گا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے (University of California, Berkeley) کے پروفیسر ہانی فرید (Hany Farid)، جو ڈیجیٹل فرانزک کے ماہر ہیں، خبردار کرتے ہیں: “اب ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ رہے ہیں جہاں جعلی اور اصلی آواز میں فرق کرنا نامکن ہوتا جا رہا ہے اور یہ جمہوریت کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔” تب یونیورسٹی ایڈوانسڈ ڈیپ فیک اسٹڈیز (Advanced Deepfake Studies) میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں دینے لگے گی اور واٹس ایپ یونیورسٹی کا الحاق براہِ راست مصنوعی ذہانت کی لیبارٹریوں سے ہو جائے گا۔
آخر میں، اصل سبق یہی ہے کہ قومیں غلط معلومات سے کم، اور اس غلط یقین سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں کہ “بھائی نے جو فارورڈ کیا ہے وہ غلط نہیں ہو سکتا”۔ بھارت کی واٹس ایپ یونیورسٹی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جھوٹ صرف بگاڑ پیدا نہیں کرتا، وہ سیاسی فائدے، کاروباری منافع، اور اجتماعی غصے کی صورت میں اپنے لیے مستقل جگہ بنا لیتا ہے۔ اس لیے اگلی بار جب آپ کا فون بجے اور کوئی پیغام فارورڈڈ کے نشان کے ساتھ آئے، تو ایک لمحے کو اپنی ڈگری پر فخر کرنے کے بجائے، اس بات پر شک کر لیجیے گا کہ کہیں یہ آپ کا اگلا امتحانی پرچہ تو نہیں۔ کیونکہ اس یونیورسٹی میں فیل ہونے کا انجام محض کم نمبر نہیں، بلکہ کبھی کبھی کسی معصوم کی جان بھی ہو سکتا ہے۔