Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

ہم قید میں ہیں اب بھی،چہرے بدل گئے ہیں

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ہم قید میں ہیں اب بھی،چہرے بدل گئے ہیں

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

دہلی کے جنتر منتر پر ان دنوں تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج جاری ہے،پیپر لیکس کے خلاف لاکھوں طلباء اور نوجوان ملک کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر ہیں۔دارالحکومت دلی کے جنتر منتر اور پارلیمنٹ تک جانے والی سڑکوں پر جومناظردیکھے جارہے ہیں،اس بارے میں کہا جارہا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں نوجوانوں کا ایسا ہجوم حکومت سے سوال کرنے کے لیے سڑکوں پرنہیں نکلا،لاکھوں نوجوان کسی سیاسی جماعت کی کال پر نہیں بلکہ موجودہ چیف جسٹس کے ایک طنز سے وجود میں آنے والی جماعت، کاکروچ جنتا پارٹی کی کال پر ملک کے مختلف شہروں سے اپنے مستقبل کو لیکر پریشان حال طلباء اور کم عمر بچیاں اس انقلابی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں،اسی لئے غیرملکی میڈیا میں اسطرح کے سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا اِن مظاہروں کو انڈیا کی “جین زی” تحریک کہنا درست ہو گا؟ کیا اب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے سخت سوال اور انکا محاسبہ ہونے لگا ہے؟ کیا اب ملک کے لوگوں کو غلامی کا احساس ہوچلا ہے؟کیا لوگ اب سمجھنے لگے ہیں کہ ہم اب بھی قید میں ہیں،ہمیں غلام بنالیا گیا اور ہماری آزادی کو سلب کرلیا گیا ہے؟ ہرطرف تبصرے ہورہے ہیں۔ کوئی اسے طلبہ کی جیت قرار دے رہا ہے، کوئی حکومت کی ناکامی تو کوئی مختلف تنظیموں کے کردار پر گفتگو کررہا ہے اور بہت سے لوگوں کی نگاہیں پارلیمنٹ کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ شاید آنے والے دنوں میں ملک کے حالات ایک نئی کروٹ لیں گے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ریاست اورعوام کے درمیان اعتماد کی دیوار کمزورہوتی ہے توسڑکیں آباد ہوجاتی ہیں اورسوالوں سے بھر جاتی ہیں،کیونکہ پارلیمنٹ کا راستہ اسی سڑک سے ہوکر گذرتا ہے،شاہین باغ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ وغیرہ سے اٹھنے والی آواز کو آہنی پنجوں سے کچل کر یہ پیغام دیا گیا کہ ہماری حکومت میں آواز اٹھانے کی کوشش مت کرنا ورنہ اسی طرح کچل دئے جاؤگے اور پھر یہ سمجھ لیا گیا کہ اب بھارت ہمارے باپ کی جاگیر ہے،ہم جو چاہیں گے، کریں گے،کوئی ہمارے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرسکتا اور اب جنترمنتر یہ صرف مقامات نہیں،بلکہ وہ نام ہیں جو ہندوستان میں احتجاج،اختلافِ رائے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحث کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،جنتر منتر پرطلبہ اورمظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کی تصاویر اور ویڈیوز جب منظرِ عام پر آتی ہیں تو یہ لوگوں کو ماضی کے ان واقعات کی یاد دلاتی ہیں جن میں مختلف احتجاجی مقامات پر طاقت کے بے جا استعمال کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ایسے مناظر کسی بھی حساس معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہوتے ہیں، کیونکہ اختلافِ رائے کو جمہوریت کا ایک بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے،تحریک شاہین باغ ہو،طلبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مظاہرے ہوں،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے واقعات ہوں، کسان آندولن،یا پھر کوئی اور تحریک ہو،ان ساری تحریکوں نے ایک بنیادی سوال کھڑا کیا تھا کہ اگر یہ ملک آزاد ہے،یہاں جمہوریت اور جمہوری نظام قائم ہے تو پھرشہریوں کو اپنی بات پرامن انداز میں رکھنے کا پورا موقع ملنا چاہیے؟ دوسری طرف حکومت کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے اور اسکے لئے ایسے تمام حادثات کی غیر جانبدارانہ تحقیق اور قانون کے مطابق احتساب ضروری ہے تاکہ اگر کہیں اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا ہوتو اسکے ذریعہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے اور اگر کہیں قانون شکنی ہوئی ہوتو اس کا مناسب قانونی جواب دیا جائے،جمہوریت کی اصل طاقت صرف انتخابات نہیں،بلکہ اس بات میں ہے کہ ملک کے شہری اختلافِ رائے کا اظہار آزادانہ طور پر کرسکیں،اپنی حکومت سے سوال پوچھ سکیں،اسکی جواب دہی طے کرسکیں اور اپنی آواز بلند کرسکیں۔جب سوال پوچھنے والے خوف محسوس کرنے لگیں تو سماج زنگ آلود اور کمزور ہوجاتاہے۔اسی طرح احتجاج کرنے والوں پربھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مطالبات پرامن اور آئینی طریقوں سے پیش کریں،تاکہ ان کی آواز زیادہ مؤثر اور باوقار انداز میں سنی جاسکے،ظاہر ہے یہ چیزیں کسی ایک جماعت،ایک مذہب،ایک زبان یا ایک نظریے کی نہیں ہیں۔آج اگرکسی ایک طبقے کی آزادیِ اظہار متاثر ہوتی ہے تو کل یہی خطرہ کسی دوسرے طبقے کے سامنے بھی آسکتا ہے۔اس لیے شہری آزادیوں کا دفاع اصولوں کی بنیاد پرہونا چاہیے،نہ کہ صرف اس وقت جب متاثر ہونے والا ہمارا ہم خیال ہو اور ہم مذہب ہو،ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندہ اور حساس معاشرہ وہی ہے جہاں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا گیا،بلکہ مکالمے کا ذریعہ بنایا گیا۔نفرت کے بجائے دلیل،تشدد کے بجائے قانون،اور خاموشی کے بجائے آئینی آواز ہی ایک جمہوری سماج کو مہذب و ترقی یافتہ بناتی ہے اور آگے لے جاتی ہے۔آج اگر کہیں کسی طالب علم،مزدور، کسان،صحافی یا عام شہری کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کےلئے آواز اٹھانا صرف اس شخص کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی فریضہ ہے۔انصاف کا اصول یہی ہے کہ وہ سب کے لیے یکساں ہو،چاہے متاثرہ شخص کسی بھی مذہب، ذات،زبان یا سیاسی نظریے سے تعلق رکھتا ہو،اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کے باوجود انسانی وقار،آئین کی بالادستی،قانون کی حکمرانی اور پرامن جمہوری اظہار کے حق کا احترام کریں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط اور آزاد معاشرے میں سانس لیں تو ہمیں انصاف،مکالمہ اور دستوری راستے کو ہی اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنانا ہوگا۔آواز اٹھانا ہر کسی کا جمہوری حق ہے،مگر اس کے ساتھ ذمہ داری،تحمل اور قانون کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ایک بہتر ہندوستان اسی وقت ممکن ہے جب ہرشہری بلاخوف و دہشت اپنی بات کہہ سکے اور ہر ادارہ اپنے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض انجام دے۔جنترمنتر کے علاوہ ملک کے کئی شہروں میں ہونے والے طلبا مظاہرین پرپولس نے لاٹھی چارج کیا،انتہائی بے رحمی سے انھیں پیٹاگیا،آنسو گیس کے گولے چھوڑے گئے،انکے ساتھ ظلم و بربریت کی تمام حدیں پار کی گئیں،ان سب کے باوجود ان طلبا کا اپنے حق کیلئے اٹھنا اور پولیس تشدد کے خلاف ڈٹ جانا ایک بہت اچھی خبر کہی جاسکتی ہے،جس نے ملک کے دیگر تمام طبقات،سیاسی جماعتوں انفلوئنسرز کوبھی ان کی حمایت کرنے پرمجبور کردیا،ملک کی تقریبا ساری اپوزیشن پارٹیاں کھل کر انکی حمایت کررہی ہیں،کیونکہ طلبا جب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو پھرقافلے بنتے چلے جاتے ہیں،اس سے قبل سری لنکا،بنگلہ دیش اور نیپال وغیرہ میں طلبا انقلاب کے سارے مناظر اپنی آنکھوں سے ہم سب ابھی حال ہی میں دیکھ چکے ہیں،جنتر منتر پرطلباء کے ساتھ ہوئی پولس کی غنڈہ گردی اور لاقانونیت کو لیکر ایک وکیل نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی قیادت والی بنچ کے سامنے اس معاملے کو رکھا اور اسکی حساسیت کے پیش نظر عدالت عظمی کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ قومی دارالحکومت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے سنسدچلو مارچ کے دوران دہلی پولیس نے جس بے رحمی سے طلباء کو اس لئے مارا پیٹا کہ انھوں نے امتحان کا پرچہ لیک ہونے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگا،وکیل نے سی جے آئی کی سربراہی والی سہ رکنی بنچ کے سامنے استدلال کیا کہ پولیس نے طلباء کو مارا پیٹا۔اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اسلئے یہ معاملہ انتہائی حساس ہے،اس پر توجہ دی جائے اور اسے سنا جائے،بنچ میں جسٹس سوریہ کانت کے علاوہ جسٹس جویمالیہ باغچی اور وی موہنا بھی شامل تھے۔وکیل نے زور دیا کہ مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور دیگر اقدامات کا استعمال کیا گیا تو چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے وکیل سے کہا،”ہمارے پاس ویڈیو دیکھنے کے لئے وقت نہیں ہے،ہمارا وقت ضائع نہ کریں اور اپنا وقت بھی ضائع نہ کریں۔آپ کا وقت ہمارے وقت سے زیادہ قیمتی ہے۔”وکیل نے دلیل دی کہ طلباء کچھ اہم مطالبات کررہے ہیں:ایک، یہ کہ نیٹ کا امتحان مفت اور منصفانہ ہونا چاہئے؛ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کوتحلیل کردیا جائے،لیکن سی جے آئی نے واضح کیا کہ بنچ ان کی درخواست پرغور کرنے کا خواہاں نہیں ہے اورہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،اسکا سیدھا مطلب اسکے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ عدالت عظمی اور چیف جسٹس کو اتنے اہم معاملے کی حساسیت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کیا ایک آزاد ملک کی عدالت عظمی اور چیف جسٹس کی زبان ایسی ہی ہوتی ہے؟ کیا کسی آزاد ملک میں بروقت انصاف کی فراہمی اسی طرح ہوتی ہے؟ملک کے لاکھوں طلبا اور نوجوان سڑکوں پر ہوں،اپنے مطالبات کا اعلان کررہے ہوں،تعلیمی نظام میں پیدا ہونے والی بے راہ روی اور من مانی کا ذکر کررہے ہوں لیکن سپریم کورٹ کے لئے یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے آخر ایسا کیوں؟حالانکہ ان جیسے حساس معاملے پر عدالت کو خود ہی ایکشن لینا چاہئے تھا اورسوموٹو کے ذریعے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا چاہئے تھا،لیکن یہ سب تو کسی آزاد اور جمہوری ملک میں ہوتا ہے،بھارت جب آزاد ہی نہیں ہے تو یہاں یہ سب کیونکر ممکن ہو؟میں پچھلے کئی برسوں سے یہ لکھتا رہا ہوں کہ اب بھارت کو غلام بنا لیا گیا،دستور کو پیروں تلے روندکریہاں جمہوریت کا جنازہ کئی سال پہلے پڑھا جاچکا ہے اور ملک سے جمہوریت بہت پہلے ختم ہوچکی ہے،یہ بات ہمارے جیسے بہت سارے لوگ کہتے اور لکھتے رہے ہیں،ابھی کل ہی کانگریس پارٹی کی قائد پرینکا گاندھی نے جنتر منتر کے طلبا سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے جمہوریت ختم ہوچکی ہے،پارلیمنٹ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ غیرجمہوری ہے،ایوان میں طلباء کے مسائل پر بحث نہیں ہونے دیا جارہا ہے،جبکہ جمہوریت میں سب سے بڑی چیز اظہار رائے کی آزادی اور پرامن احتجاج کا حق ہوتی ہے،انھوں نے کہا کہ اپوزیشن لیذر کو پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جاتا،ہم لوگ جب بھی بولنے کے لئے اپنی نشست سے اٹھتے ہیں ہمیں روک دیا جاتا ہے،عوامی مسائل کےلئے اسپیکر سے رجوع کرتے ہیں اور بحث کا مطالبہ کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ حکومت سے پوچھ کر بتائیں گے،یہ سب کیا ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ جمہویت تو ملک سے ختم کردی گئی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے مارچ میں 20 جولائی کو جو کچھ ہوا،تاریخ بتاتی ہے کہ پولس کی ایسی بربریت،انگریز بہادر کے راج میں بھی نہیں ہوا وہ دور غلامی تھا لیکن انگریز حکمراں کچھ نہ کچھ آزادیِ رائے کا خیال رکھتے تھے۔آج کی طرح زبان بندی سے اجتناب کرتے تھے،19جولائی کی شام سے ہی جنتر منتر پر نوجوان،سیاسی وغیرسیاسی لیڈران اور کارکنان کے علاوہ بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں وہاں جمع ہوگئے،فٹ پاتھ اور سڑکوں پر پوری رات لڑکے،لڑکیوں نے جاگ کر گزارا،صبح سارے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور مارچ کی تیاری کرنے لگے۔9بجے صبح سے ہی مارچ کا آغاز ہوگیا۔زیادہ لوگ اس میں شریک نہ ہوں اس کے لئے حکومت نے دہلی کی بس سروسز اور میٹرو ریل کو بند کردیا تھا۔آج جبکہ یہ تحریر لکھی جارہی ہے دہلی بند ہے کم ازکم بیس میٹرو اسٹیشن اور درجنوں بسیں اب بھی بند ہیں،سڑکوں پر جگہ جگہ بیریکیٹ اور بلاکیڈ لگا دیا گیا تھا۔اسکے باوجود نوجوانوں،بزرگوں کا سیلاب امڈ پڑا۔بیریکیڈ توڑدئے گئے۔مارچ کرنے والے پارلیمنٹ کی طرف رواں دواں ہوگئے۔روکنے کے لئے ٹیئرگیس کا گولا داغا گیا،پانی کی بوچھار کی گئی اور لاٹھی چارج کیا گیا جس کی زد میں آکر کئی لڑکے لڑکیاں بے ہوش ہوگئے۔درجنوں زخمیوں کو علاج کے لئے ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔دہلی پولس جس بے رحمی سے نوجوانوں پر لاٹھیاں برسا رہی تھی اس کے سارے مناظرسوشل میڈیا اور یوٹیوبر پیش کررہے تھے۔پولس کی وردی سے نام پلیٹ غائب تھے،سول ڈریس میں پولس کے ظالمانہ اقدام کو دنیا بھر کے لوگ دیکھ رہے تھے۔پولس اور ریزرو فورسز کے لوگوں کی نادانی اور حماقت دیکھئے کہ جو نوجوان اپنا گھر بار،اپنی ڈیوٹی،اپنے کاروبار اور کام کاج چھوڑ کربھوکے،پیاسے شہریوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے آئے تھے،جس میں پولس یا ریزرو فورسز کے لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل ہیں لیکن ان سپاہیوں کا ضمیر اتنا مردہ ہوچکا ہے کہ وہ جس پر بے دریغ لاٹھیاں برسا رہے ہیں وہ حقیقت میں اپنے بچے بچیوں کے مستقبل پرضرب لگا رہے ہیں اور انھیں خطرے میں ڈال رہے ہیں،اگر ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی ہوتی اور احتجاج و مظاہرے کا حق سلب نہیں کیا گیا ہوتا تو 20 جولائی کو دہلی اور آس پاس کے مظاہرین اور احتجاجیوں سے جنتر منتر بھرجاتا،خوف و ہراس کا ماحول اور جگہ جگہ رکاوٹوں کے باوجود لاکھوں لوگوں کا سیلاب صرف چند گھنٹے میں دارالحکومت میں جس طرح ٹھاٹھیں مارنے لگا اور اپنی جان جوکھم میں ڈال کر لاکھوں لوگ ظلم و ستم سہتے ہوئے پارلیمنٹ کی گیٹ تک،لاٹھیاں کھاتے ہوئے پہنچ گئے،اس طرح پورے دہلی میں افراتفری کا ماحول تھا اور اب تو پورے ملک میں بے اطمینانی کی فضا بنی ہوئی ہے،سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک سب ٹھپ پڑا ہے،پارلیمنٹ کا آج چوتھا دن ہے لیکن کوئی کام وہاں پچھلے چار دنوں سے نہیں ہورہا ہے،طلبا کا یہ ملک گیر احتجاج کسی بڑے انقلاب کی آہٹ تو نہیں؟ملک کے ہرفرد کو اس تاریخ ساز مظاہرے کی حمایت کرنی چاہئے،ہر پارٹی کو اسکا خیرمقدم کرنا چاہئے،اس میں شریک ہوکر آمریت اور فسطائیت کی دیوار کو ہمیشہ ہمیش کے لئے منہدم کردینا چاہئے تاکہ ملک میں جنگل راج کے بجائے قانون کا راج قائم ہو،ہر ایک کو یہاں مکمل حقوق حاصل ہوں،سب کے ساتھ انصاف ہو،حکومت کوئی بھی ہو وہ تانا شاہی کے بارے میں کبھی سوچنے کی غلطی نہ کرسکے،شہریوں کو پریشان نہ کرے بلکہ لوگوں کو سہولت اور آسانی مہیا کرنے کی کوشش کرے۔’ایس آئی آر‘،’این آر سی‘ وغیرہ کی کارروائی سے عام لوگوں کی زندگی اجیرن نہ بنائی جائے۔لہذا آپ بھی اٹھئے،اپنے گھروں سے نکلئے،لاکھوں نوجوانوں کی فکرمندی و انکی پکار کو سنئے اورحقیقی آزادی تک ایک بار پھر اس میں حتی الامکان اپنی حصے داری ادا کیجئے۔کیونکہ بقول شاعر ملک کے ہرشہری کے دل کی آواز یہی ہے کہ
ہم قید میں ہیں اب بھی،پہرے بدل رہے ہیں
بس ظلم کرنے والے چہرے بدل رہے ہیں
اب تک ہماری چینخوں کی داستاں وہی ہے
ہم ان سنے ہیں اب بھی،بہرے بدل رہے ہیں
*(مضمون نگارمعروف صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com