*تعلیم کے باوجود شعور کی کمی*

تحریر۔ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج،بارہ بنکی
آج کا انسان پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعلیم یافتہ ہے۔ شہروں میں یونیورسٹیاں بڑھ رہی ہیں، ڈگریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے اور ہر ہاتھ میں ایک ایسا موبائل موجود ہے جس میں پوری دنیا سمٹ آئی ہے۔ لیکن ایک سوال مسلسل ذہن کو بے چین کرتا ہے کہ اگر تعلیم واقعی اتنی عام ہو چکی ہے تو پھر معاشرے میں برداشت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟ انسان انسان سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ جھوٹ، نفرت، خودغرضی، بے حسی اور اخلاقی زوال کیوں بڑھ رہا ہے؟ آخر ایسا کیوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں مگر شعور کم ہوتا جا رہا ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کو صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بچہ بڑا افسر بنے، ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، اچھی تنخواہ حاصل کرے، لیکن بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ ایک اچھا انسان بھی بنے۔ ہم نے تعلیم کو کردار سازی کے بجائے صرف معاشی کامیابی تک محدود کر دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذہین لوگ تو پیدا ہو رہے ہیں مگر حساس انسان کم ہوتے جا رہے ہیں۔
آج اگر کوئی شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سڑک پر کسی زخمی انسان کو دیکھ کر بے حس گزر جائے، اگر ایک پڑھے لکھے فرد کی زبان سے نفرت ٹپکے، اگر ایک تعلیم یافتہ شخص جھوٹ، دھوکہ اور ناانصافی کو اپنا ہتھیار بنا لے تو سوال صرف اس فرد پر نہیں اٹھتا بلکہ پورے تعلیمی نظام پر اٹھتا ہے۔ اس لیے کہ اصل تعلیم انسان کو صرف کتابیں پڑھنا نہیں سکھاتی بلکہ انسان بننا سکھاتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں اخلاقیات، برداشت، انسان دوستی اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات محض نصابی ابواب بن کر رہ گئے ہیں۔ طلبہ امتحان کے لیے انہیں یاد تو کر لیتے ہیں مگر زندگی میں ان پر عمل کرنے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طالب علم اعلیٰ ڈگری حاصل کر لیتا ہے مگر وہ اختلافِ رائے برداشت کرنا نہیں سیکھ پاتا۔ معمولی اختلاف پر غصہ، تضحیک اور نفرت اس کے رویے کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ علم تو ملا مگر شعور پیدا نہ ہو سکا۔
شعور دراصل انسان کے اندر وہ روشنی ہے جو اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو انسان کو دوسروں کے درد کا احساس دلاتا ہے۔ شعور انسان کو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جینا سکھاتا ہے۔ لیکن جب تعلیم کا مقصد صرف مقابلہ، دولت اور ذاتی کامیابی رہ جائے تو شعور آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔ پھر انسان اپنی ترقی کے لیے دوسروں کو روندنے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے۔ لوگ ڈگریوں پر فخر کرتے ہیں مگر اخلاقی دیوالیہ پن پر خاموش رہتے ہیں۔ ایک شخص اعلیٰ عہدے پر بیٹھا ہوتا ہے مگر اپنے ماتحت افراد کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنا بھول جاتا ہے۔ کوئی بڑی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوتا ہے مگر اپنے ہی گھر کے بزرگوں کی عزت نہیں کر پاتا۔ کوئی جدید علوم میں مہارت رکھتا ہے مگر صفائی، ایمانداری اور سچائی جیسی بنیادی اقدار سے محروم ہوتا ہے۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم کے باوجود شعور کی کمی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
اس صورتحال میں سوشل میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ بظاہر معلومات کی فراوانی نے انسان کو زیادہ باشعور بنانا چاہیے تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ لوگ تحقیق کے بغیر ہر خبر پر یقین کر لیتے ہیں، جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں، دوسروں کی تضحیک کو تفریح سمجھتے ہیں اور چند لمحوں کی شہرت کے لیے اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ یہ سب کچھ اکثر وہ لوگ کر رہے ہوتے ہیں جو خود کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو یادداشت تک محدود کر دیا ہے، سوچنے اور سمجھنے کا عمل کمزور کر دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے طلبہ کو سوال اٹھانے، غور و فکر کرنے اور معاشرتی مسائل کو سمجھنے کی تربیت کم دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ڈگری رکھنے کے باوجود فکری طور پر کمزور دکھائی دیتی ہے۔ وہ جذباتی نعروں کے پیچھے تو چل پڑتی ہے مگر حقیقت جاننے کی کوشش کم کرتی ہے۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کے مقصد کو دوبارہ سمجھنا ہوگا۔ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا نام نہیں، یہ انسان کے باطن کو سنوارنے کا عمل ہے۔ ایک استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا بلکہ کردار بھی بناتا ہے۔ اگر تعلیمی ادارے صرف نمبروں کی دوڑ بن جائیں گے تو وہاں سے باشعور انسان نہیں بلکہ صرف ڈگری ہولڈر نکلیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کو شروع سے ہی انسانیت، رواداری، سچائی، دیانت اور دوسروں کے احترام کی تعلیم دی جائے۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ کامیابی صرف بڑی گاڑی، بڑی تنخواہ یا اونچے عہدے کا نام نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننا بھی کامیابی ہے۔ ایک ایسا انسان جو دوسروں کے درد کو محسوس کرے، جو کمزور کا سہارا بنے، جو سچ بولنے کا حوصلہ رکھے اور جو نفرت کے بجائے محبت بانٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
والدین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اگر گھر میں بچوں کے سامنے نفرت، جھوٹ، بدتمیزی اور عدم برداشت کا ماحول ہوگا تو صرف اسکول انہیں باشعور نہیں بنا سکتا۔ بچے سب سے پہلے اپنے گھروں سے سیکھتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اپنی گفتگو، اپنے رویے اور اپنے کردار سے اچھی مثال قائم کریں۔
اسی طرح میڈیا، ادیبوں اور اہلِ قلم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں شعور بیدار کریں۔ انہیں ایسے موضوعات پر لکھنا ہوگا جو انسان کو سوچنے پر مجبور کریں۔ معاشرے کو صرف تفریح نہیں بلکہ فکری رہنمائی بھی چاہیے۔ جب قلم سچائی، اخلاق اور انسانیت کے لیے اٹھے گا تو یقیناً اس کے اثرات دور تک جائیں گے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف تعلیم یافتہ ہونا کافی نہیں، باشعور ہونا زیادہ ضروری ہے۔ اگر تعلیم انسان کے اندر عاجزی، برداشت، دیانت اور انسان دوستی پیدا نہ کرے تو ایسی تعلیم ادھوری ہے۔ ایک معاشرہ صرف ڈگریوں سے ترقی نہیں کرتا بلکہ شعور، اخلاق اور انصاف سے ترقی کرتا ہے۔
آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف کتابی علم نہ دیں بلکہ انہیں شعور بھی دیں۔ انہیں یہ سکھائیں کہ انسانیت سب سے بڑی قدر ہے، سچائی سب سے بڑی طاقت ہے اور اچھا کردار سب سے بڑی پہچان ہے۔ کیونکہ جب تعلیم کے ساتھ شعور بھی شامل ہو جاتا ہے تو قومیں صرف ترقی نہیں کرتیں بلکہ تاریخ میں عزت اور وقار کے ساتھ زندہ رہتی ہیں۔
مضمون نگار،آل انڈیا ماٸنا ریٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبہ نشرو اشاعت کے سیکرٹری ہیں۔










