Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

**جام نگر کا سفارتی تماشا: جب سپر پاور ایک سیٹھ کی دہلیز پر جا بیٹھی* !

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

**جام نگر کا سفارتی تماشا: جب سپر پاور ایک سیٹھ کی دہلیز پر جا بیٹھی* !

ازقلم: *اسماء جبین فلک*

سفارت کاری کے پرانے طور طریقے اب قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب امریکی اہلکار نئی دہلی اترتے تو ساؤتھ بلاک کے چکر کاٹتے تھے۔ کیمروں کے سامنے ہاتھ ملائے جاتے اور دستاویزات کا تبادلہ ہوتا تھا۔ لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے۔ واشنگٹن کو معلوم ہے کہ بھارت کا اصل تالہ کس چابی سے کھلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھارت پہنچے تو ان کی گاڑی کا رخ کسی سرکاری دفتر کے بجائے سیدھا گجرات کے ساحل کی طرف مڑ گیا۔ وہ جام نگر جا پہنچے۔ جام نگر، یعنی ریلائنس کا قلعہ اور مکیش امبانی کی تیل صاف کرنے کی تنصیبات کا مرکز۔ دہلی کی مرکزی حکومت کو ایک طرف رکھ کر دو دن تک ایک نجی سیٹھ کی میزبانی میں وقت گزارنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ کھلا اشارہ ہے کہ اب اصل فیصلے وزرا کے ایوانوں میں نہیں، بڑی کمپنیوں کی بیٹھکوں میں ہو رہے ہیں۔ پردے کے پیچھے کچھ نہ کچھ ایسا ضرور پک رہا ہے جس کی آنچ واشنگٹن تک پہنچ رہی ہے۔

بظاہر واشنگٹن کی طرف سے یہ راگ الاپا جا رہا ہے کہ دورے کا مقصد ماحول دوست توانائی (Green Energy) اور صاف ٹیکنالوجی (Clean Technology) کا جائزہ لینا ہے۔ یہ بات اتنی ہی سچی ہے جتنا کسی شکاری کا ہرن پر ترس کھانا۔ ماحول دوست توانائی کا پردہ محض دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہے۔ جام نگر کی اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے کا مرکز ہے۔ یہاں ہر روز بارہ لاکھ چالیس ہزار بیرل خام تیل صاف کیا جاتا ہے۔ پچھلے دو تین برسوں میں یہاں جو دھندا چلا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یوکرین پر جنگ مسلط ہوئی تو مغرب نے روس پر سخت پابندیاں لگا دیں۔ نعرے لگے کہ پیوٹن کا معاشی گلا گھونٹ دیا جائے گا۔ لیکن ہوا کیا؟ بھارت نے روس سے کوڑیوں کے مول خام تیل خریدا۔ وہ سارا تیل جام نگر کی ریفائنری (Refinery) کے ٹینکوں میں انڈیلا گیا۔ وہاں اسے صاف کیا گیا اور اس سے تیار ہونے والا ایندھن مہنگے داموں یورپ اور امریکہ کو بیچا گیا۔ یوں پابندیوں کا سارا کھیل ایک تماشا بن کر رہ گیا۔

واشنگٹن کو یہ سارا گورکھ دھندا پہلے دن سے معلوم تھا۔ امریکی حکام جانتے تھے کہ ان کی اپنی پابندیوں کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں۔ مگر وہ بولتے تو کیا بولتے؟ اگر وہ جام نگر کی برآمدات روک دیتے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتیں۔ امریکی ووٹر پیٹرول پمپ پر کھڑا اپنی ہی حکومت کے خلاف چیخ اٹھتا۔ اس لیے امریکیوں نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ انہوں نے ایک نجی ریفائنری کو اپنے مفادات کا پہرے دار بنا لیا۔ روبیو کا یہ دورہ دراصل اسی چور راستے کو قانونی شکل دینے کی کوشش ہے۔ وہ امبانی کے دروازے پر معائنہ کرنے نہیں، یہ سمجھانے آئے ہیں کہ یہ خفیہ کھیل کہاں تک اور کن حدود میں رہ کر کھیلا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن اپنی معاشی مجبوریوں کے باعث امبانی کا محتاج بن چکا ہے اور امبانی اپنی عالمی اجارہ داری کے لیے واشنگٹن کا سہارا چاہتے ہیں۔

پھر چین کا معاملہ الگ ہے۔ مارکو روبیو کا شمار واشنگٹن میں چین کے کٹر ترین مخالفین میں ہوتا ہے۔ وہ ہر معاملے کو بیجنگ کے ساتھ مسابقت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اب امریکہ چاہتا ہے کہ وہ بیٹریوں، شمسی پینلوں اور پرزوں کے لیے بیجنگ کا محتاج نہ رہے۔ پیداوار کو دوست ممالک میں منتقل کرنے کی اس حکمتِ عملی کو وہ ’’فرینڈ شورنگ‘‘ (Friend-shoring) کا نام دیتا ہے۔ آسان لفظوں میں اس کا مطلب ہے کہ اتحادی ملکوں کو اپنی ضرورت کا سامان تیار کرنے والے مراکز بنا دیا جائے۔ جام نگر میں امبانی ماحول دوست توانائی کا ایک بہت بڑا صنعتی مرکز بھی تعمیر کر رہے ہیں۔ امریکہ دیکھ رہا ہے کہ اگر چین کو پٹخنی دینی ہے تو ایشیا میں اس کے مقابلے کی طاقت صرف امبانی کے سرمائے اور صنعتی ڈھانچے سے ہی کھڑی ہو سکتی ہے۔ امریکی مفاد یہ ہے کہ چین کی اجارہ داری ٹوٹے اور امبانی کا مفاد یہ ہے کہ عالمی سرمایہ ان کی تجوری میں آئے۔ دونوں کی نیت میں کھوٹ ہے، مگر دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ سودا دونوں کے لیے منافع بخش ہے۔

لیکن اس پورے تماشے کا سب سے خطرناک پہلو خود بھارت کے نظام کا کھوکھلا پن ہے۔ ایک جمہوری ملک میں جب خارجہ پالیسی کسی ایک نجی خاندان کے تابع ہو جائے تو اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ مودی سرکار پچھلی ایک دہائی سے دعویٰ کرتی آئی ہے کہ اس نے بھارت کا نام اونچا کیا ہے۔ مگر جب کسی بیرونی طاقت کا اعلیٰ ترین سفارت کار دہلی کی وزارتِ خارجہ کو نظرانداز کرکے گجرات کے ساحل پر ڈیرے ڈالے تو قومی خودمختاری کے دعوے کا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ یہ سوال ہر باشعور شہری کو جھنجھوڑتا ہے کہ فیصلے بھارت کے مفاد میں ہو رہے ہیں یا امبانی کی کمپنی کے منافع کے لیے؟ جب ریاست اور سیٹھ ایک ہی صف میں کھڑے ہو جائیں تو عوام کی آواز نقارخانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتی ہے۔ حکومت کی پالیسیاں وہی بنتی ہیں جو جام نگر کے حساب کتاب میں پوری اترتی ہوں۔

امریکہ بھی کوئی دودھ کا دھلا نہیں۔ خود کو جمہوریت اور شفافیت کا علم بردار کہنے والے روبیو جب بند کمروں میں سرمایہ داروں سے بغل گیر ہوتے ہیں تو ان کے سارے اخلاقی نعرے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ واشنگٹن کا یہ دوغلا پن تاریخ کا حصہ ہے۔ اسے نہ اصولوں سے غرض ہے، نہ بین الاقوامی اخلاقیات سے۔ جب تک جام نگر سے اس کی پیٹرول کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں اور چین پر ضرب پڑ رہی ہے، تب تک اس کی نظر میں ہر گناہ معاف ہے۔ کل کلاں اگر یہی امبانی اس کے کسی مفاد کے آڑے آ گئے تو یہی واشنگٹن پابندیوں کا نیا ڈنڈا لے کر کھڑا ہو جائے گا۔ یہ مفادات کی جنگ ہے، جس میں وفاداری کی کوئی جگہ نہیں۔

جام نگر کے ساحل پر جو کچھ پکا ہے، اس کی خوشبو یا بدبو جلد پوری دنیا تک پہنچے گی۔ بات صاف ہے۔ دنیا ایک نئے اور خطرناک دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اب فوجیں اور حکومتیں صرف مہرے ہیں؛ اصل کھلاڑی وہ ہیں جن کے ہاتھ میں سرمائے کی ڈور ہے۔ روبیو اور امبانی کی یہ بیٹھک اسی نئی جغرافیائی معاشیات (Geoeconomics) کا کھلا اشتہار ہے۔ بھارت کے غریب کو یہ خواب دکھایا جا رہا ہے کہ اس کا ملک وشو گرو بن رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی باگ ڈور چند چنیدہ سیٹھوں اور ان کے غیر ملکی دوستوں کے ہاتھوں گروی رکھی جا رہی ہے۔ جام نگر کے اس چور دروازے نے ایک بات پر مہر لگا دی ہے: واشنگٹن کے لیے نیا بھارت اس کے عوام نہیں، گجرات کے چند مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا بڑی کمپنیوں کا راج ہے۔