Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*خواتین ریزرویشن کو حد بندی سے is مرکز کی منظم سازش* *ریاست تلنگانہ کی سیاسی اہمیت میں کمی کا خدشہ- کے کویتا کا شدید ردعمل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*خواتین ریزرویشن کو حد بندی سے جوڑنا مرکز کی منظم سازش*

*ریاست تلنگانہ کی سیاسی اہمیت میں کمی کا خدشہ- کے کویتا کا شدید ردعمل*

صدر تلنگانہ جاگروتی کلواکنٹلہ کویتا نے اپنے بیان میں خواتین ریزرویشن بل کو حد بندی بل سے جوڑنے کو ایک بڑی سازش قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث ہو رہی ہے جو خواتین کے لئے نہایت اہم دن ہے۔ اسی کے ساتھ حلقہ جات میں اضافہ (ڈی لیمیٹیشن) حد بندی کے معاملے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم خواتین بل کو پہلے ہی منظور کیا جا چکا ہے اور اب اسے ڈی لیمیٹیشن سے جوڑنا مرکز کی منظم سازش ہے۔کویتا نے کہا کہ خواتین بل اور ڈی لیمیٹیشن دو الگ الگ معاملات ہیں، لیکن مرکز خواتین کے کندھوں پر بندوق رکھ کر ڈی لیمیٹیشن کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ جات میں 50 فیصد اضافہ کی بات بظاہر درست لگتی ہے، لیکن اس سے تلنگانہ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار جیسی ریاستوں کے مقابلے میں تلنگانہ کو کم نشستیں ملنے کا خدشہ ہے، جس سے ریاست کی سیاسی اہمیت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس وقت پارلیمنٹ میں تلنگانہ کی نمائندگی 3.13 فیصد ہے اور ڈی لیمیٹیشن کے بعد بھی یہ تناسب برقرار رہنا چاہئے۔کویتا نے خبردار کیا کہ اگر تلنگانہ کی سیاسی اہمیت کو کم کیا گیا تو عوام ایک اور تلنگانہ جیسی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مرکز کی جانب سےریاست کو فنڈس نہیں مل رہے ہیں اور ریاست کے کسی بھی پروجیکٹ کو قومی درجہ نہیں دیا جا رہا ہے ایسے میں سیاسی نمائندگی میں کمی مزید نقصان دہ ہوگی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین بل کو ڈی لیمیٹیشن سے جوڑنے کے بجائے اس میں بی سی خواتین کے لئے سب کوٹہ شامل کیا جائے۔