*دامودر ندی پر مستقل پل کی دیرینہ مانگ برقرار، ہر برسات میں عارضی پل بہہ جانے سے ہزاروں افراد متاثر*

دامودر ندی پر مستقل کنکریٹ پل کی عدم تعمیر کے باعث مغربی بردوان، بانکوڑہ اور پرولیا کے سرحدی علاقوں کے ہزاروں باشندے ہر سال برسات کے موسم میں شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ہیراپور کے سامڈی علاقے میں واقع کیشاکواری فیری گھاٹ اور ایشوردا فیری گھاٹ کے عارضی لکڑی کے پل اس سال بھی تیز بہاؤ اور مسلسل بارش کے باعث بہہ گئے، جس کے نتیجے میں روزمرہ کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو گئی۔ دامودر ندی پر قائم یہ عارضی پل مغربی بردوان ضلع کو بانکوڑہ کے تاریخی بہاری ناتھ ہلز اور پرولیا کے سرحدی علاقوں سے جوڑتے ہیں۔ روزانہ ہزاروں مقامی باشندے، طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور دیگر شہری انہی پلوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ تاہم ہر سال میتھن اور پنچیت ڈیم سے پانی چھوڑے جانے یا شدید بارش کے دوران یہ عارضی پل ٹوٹ جاتے ہیں یا پانی میں بہہ جاتے ہیں، جس سے بانکوڑہ اور آسنسول کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔ پل منہدم ہونے کے بعد اسکول اور کالج کے طلبہ، مریض، ملازمت پیشہ افراد اور عام شہریوں کو کئی کلومیٹر اضافی سفر کرکے اپنی منزل تک پہنچنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر ساون کے مہینے میں بہاری ناتھ مندر جانے والے عقیدت مندوں کو بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مستقل کنکریٹ پل نہ ہونے کی وجہ سے پل ٹوٹنے پر لوگوں کو دامودر ندی عبور کرنے کے لیے کشتیوں کا سہارا لینا پڑتا ہے، جو بارش کے موسم میں انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ سڑک کے ذریعے سفر کرنے والوں کو تقریباً 50 کلومیٹر کا اضافی چکر لگانا پڑتا ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی برسوں سے دامودر ندی پر مستقل کنکریٹ پل کی تعمیر کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد احتجاج، عوامی تحریکیں اور انتظامیہ کو یادداشتیں بھی پیش کی جا چکی ہیں، مگر اب تک کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ اگرچہ حالیہ ریاستی بجٹ میں برن پور اور بانکوڑہ کو جوڑنے والے مستقل پل کی تعمیر سے متعلق انتظامی پیش رفت کا ذکر سامنے آیا ہے، تاہم مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس منصوبے پر جلد از جلد عملی کام شروع کیا جائے تاکہ ہر سال برسات کے دوران پیدا ہونے والے نقل و حمل کے بحران کا مستقل حل نکالا جا سکے۔










