انڈال بلاک کے شری رام پور گرام پنچایت کی سابق ترنمول کانگریس پردھان پرینکا منڈل نے سرکاری نوکری دلانے کے نام پر 18 لاکھ 50 ہزار روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔پرینکا منڈل نے جمعرات کو دستاویزات دکھاتے ہوئے بتایا کہ 2022 میں آسنسول کے سنکتوڑیا علاقے کے رہائشی جئے دیو باؤری، تنمئے باؤری اور انڈال، دکشن کھنڈ کے ایک شخص نے انہیں محکمۂ خوراک میں اور ان کے بھائی سپریو منڈل کو محکمۂ آبکاری میں سرکاری ملازمت دلانے کا یقین دلایا۔ اس کے بدلے مختلف مراحل میں ان سے مجموعی طور پر اٹھارہ لاکھ پچاس ہزار روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمت کے عمل کے نام پر انہیں کولکاتا کے دھرم تلہ میں واقع محکمۂ خوراک کے ایک دفتر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر تربیت، انٹرویو اور دیگر رسمی کارروائیاں مکمل کرائی گئیں۔ بعد ازاں انہیں تقرری نامہ اور شناختی کارڈ بھی دیا گیا۔ اسی طرح ان کے بھائی کے ساتھ بھی یہی عمل دہرایا گیا۔ بعد میں جب انہوں نے متعلقہ محکمے سے معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ تربیت، انٹرویو، تقرری نامہ اور دیگر تمام دستاویزات جعلی تھیں اور انہیں منظم طریقے سے دھوکہ دیا گیا۔پرینکا منڈل کا الزام ہے کہ رقم واپس مانگنے پر ملزمان نے چھ لاکھ پچاس ہزار روپے کا ایک چیک دیا، لیکن وہ چیک بھی جعلی نکلا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جب انہوں نے دکشن کھنڈ کے مبینہ ملزم سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو علاقے کے ایک بااثر ترنمول رہنما نے انہیں دھمکیاں دیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس مبینہ دھوکہ دہی کے نیٹ ورک میں ترنمول کانگریس کے بعض بااثر رہنما بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی سپریو منڈل پہلے ہی متعلقہ ملزمان کے خلاف پولیس تھانے میں تحریری شکایت درج کرا چکے ہیں، تاہم ان کے مطابق اب تک پولیس کی تفتیش میں کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ پرینکا منڈل نے کہا کہ وہ بھی جلد عدالت سے رجوع کریں گی۔










