*صحافی وجیہہ الدین جمال اور شاعروقیع منظر کوصدمہ والد رہبر حمیدی کاانتقال، منگل بعد نماز ظہر ہوگی تدفین* شمالی آسنسول مکھومحلہ کی معروف علمی وادبی شخصیت روزنامہ تاثیر کے نمائندہ خصوصی و رحمانیہ ہائی اسکول کے مدرس سید وجیہہ الدین جمال اور استاد شاعر ومعلم سید وقیع منظر کے والد بزرگوار اور معمر سیاستداں ایس ایم جلال کےمنجھلے بھائی ڈاکٹر ایس ایم جمال سوموار کی شام تقریباً چھ بجے اس جہان آب و گل کو خیرباد کہہ کر اپنےمعبود حقیقی سے جاملے۔وقیع منظر سے ملی جانکاری کے مطابق قریب 88 سال کے ان والد ڈاکٹر ایس ایم جمال گذشتہ دنوں سخت علیل ہونے کی وجہ کر آسنسول کے ایک مشہور پرائیوٹ اسپتال میں داخل کرائے گئے جہاں سوموار کی شام طبیعت ایسی بگڑی کہ پھر سنبھل نہ سکی اور اسپتال کے بستر پر ہی گھر کے تمام افراد کی موجودگی میں ان کی روح پرواز کرگئی۔منگل کے دن بعد نماز ظہر قریشی محلہ قبرستان میں سپردِ خاک کئے جانے کی اطلاع دی گئی۔ واضح ہوکہ سید محمد جمال بحیثیت مدرس اوشاگرام ہندی اسکول سے وابستہ رہے۔اللہ نے ان کی ہاتھوں میں شفا بھی دیاتھا۔عمر کے آخری حصے تک اپنی طبی معلومات کی روشنی اوروسیع تجربے کی بنیاد پر مریضوں کو بیماری سے بچاتے رہے۔انہیں شاعری ورثے میں ملی تھی چنانچہ رہبر حمیدی کے نام سے ایک زمانے تک اردو شعروادب کے گیسو سنوارتے رہے ۔آپ بڑےمخلص، نیک،ملنسار ،کم گواور صوم و صلوٰۃ کے پابند انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاؤہ تین بیٹے،ایک بیٹی،پوتا،پوتی،نواسہ ونواسی سمیت بھرا خاندان شامل ہے۔









