Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*طائف میں ظلم سہہ کے بھی دشمن کو دی دعا۔۔۔پڑھ کر تو دیکھیے سیرت رسول کی*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*طائف میں ظلم سہہ کے بھی دشمن کو دی دعا۔۔۔پڑھ کر تو دیکھیے سیرت رسول کی*

*مسلم آنہ فنڈ فتح پور کے زیرِ اہتمام کل ہند نعتیہ مشاعرہ اختتام پذیر*

بارہ بنکی(پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری) بارہ ربیع الاول کے موقع پر انجمن مسلم آنہ فنڈ، فتح پور کے زیرِ اہتمام ذیلی سیرت کمیٹی کی جانب سے چار روزہ اجلاس کے چوتھے دن 98 واں تاریخی نعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے مشہور شعراء نے شرکت کی اور نعت و منقبت کے عمدہ سے عمدہ کلام پیش کیے۔
نعتیہ مشاعرے کا آغاز قاری ابو ہریرہ انصاری کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا قاسم عثمانی نے انجام دیے۔ کنوینرِ مشاعرہ ایڈوکیٹ احمد سعید حرف نے استقبالیہ نظامت کرتے ہوئے سبھی مہمانوں اور شعرائے کرام کا استقبال کیا۔
سیرت کمیٹی کی جانب سے مشاعرے کے صدر الحاج ڈاکٹر حفظ الرشید، رشید بارہ بنکوی، مہمانِ خصوصی، قومی، ملی و سماجی شخصیت چودھری طالب نجیب کوکب، سابق بلاک پرمکھ، اور یاسر عرفات، سابق بلاک پرمکھ، کو گل پوشی کرتے ہوئے شال اور شیلڈ پیش کرکے اعزاز سے نوازا گیا۔
مشاعرے کے صدر، استاد الشعراء ڈاکٹر حفظ الرشید، رشید بارہ بنکوی کی پانچ کتابوں ’’ضیائے طیبہ‘‘، ’’روحِ اسلام‘‘، ’’نورِ ایماں‘‘، ’’الظرف‘‘ اور ’’النظم‘‘ کی رسمِ اجرا بھی انجام دی گئی۔نعتیہ مشاعرے کے پسندیدہ اشعار نذرِ قارئین ہیں۔
امت ہماری بخش کے وعدہ نبھائیے
آقا کہیں گے حشر میں مولا کے سامنے
ڈاکٹر رشید بارہ بنکوی
مثالی شان ہے ان کی، مقام ان کا نرالا ہے
میرے آقا کے صدقے ہی جہاں بھر میں اجالا ہے
قاری فہیم پہانوی
یہ لکھا کتابوں میں واقعۂ عمر کا ہے
آج بھی زمانے میں دبدبہ عمر کا ہے
فاروق دلکش
طائف میں ظلم سہہ کے بھی دشمن کو دی دعا
پڑھ کر تو دیکھیے سیرت رسول کی
احمد سعید حرف
اللہ اللہ دیکھیے عظمت میرے سرکار کی
کر رہا قرآن بھی مدحت میرے سرکار کی
قاری پرویز یزدانی
جس کے دل میں نہ ہو عظمتِ مصطفیٰ
حشر میں اس کا کوئی سہارا نہیں
عمر عبداللہ قاسمی
یہ صدیق کو اور علی کو پتا ہے
نبی کے لعابِ دہن میں شفا ہے
کلیم طارق سیدنپوری
اصحاب نے گزاری ہے کس طرح زندگی
پوچھو کبھی مدینے کے قرب و جوار سے
وسیم رامپوری
اس کے علاوہ قاری ذیشان جہانگیرآبادی، عزیز میرگنجوی، شرافت بسوانی، شمشیر جہاناگنجوی، قاسم عثمانی، شاہد انور اور عبداللہ بہرائچی نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ مشاعرہ صبحِ صادق تک کامیابی سے چلتا رہا۔
آخر میں کنوینرِ مشاعرہ ایڈوکیٹ احمد سعید حرف نے سبھی مہمانوں، شعرائے کرام اور شرکائے مشاعرہ کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر خاص طور سے سیرت کمیٹی کے صدر مولانا محمد صابر قاسمی، سکریٹری محمد وحید، خزانچی حاجی اعجاز احمد انصاری، نائب صدر عبد اللطیف، محمد شکیل صدف، محمد عقیق پپو، نائب سکریٹری یوسف جمال، مقیت الرحمن، محمد کفیل، محمد انور ایڈوکیٹ، حافظ محمد سلمان، محمد نسیم گڈو، سابق ضلع پنچایت ممبر، مفتی محمد نجیب قاسمی، مولانا محمد نسیم ندوی، حافظ کلیم قریشی، منیر حیدر، صحافی معید صدیقی، محمد سلمان وغیرہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔نعتیہ مشاعرے کا اختتام مولانا قاسم عثمانی کی دعا پر ہوا۔