Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مغربی بردوان ضلع ترنمول کانگریس کے صدر نریندر ناتھ چکرورتی کا اچانک استعفیٰ، سیاسی حلقوں میں ہلچل*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

Oplus_16908288

*مغربی بردوان ضلع ترنمول کانگریس کے صدر نریندر ناتھ چکرورتی کا اچانک استعفیٰ، سیاسی حلقوں میں ہلچل*

مغربی بنگال کے ضلع مغربی بردوان میں ترنمول کانگریس کی سیاست اس وقت گرما گئی جب ضلع ترنمول کانگریس کے نومنتخب صدر اور پانڈیشور کے سابق رکن اسمبلی نریندر ناتھ چکرورتی نے عہدہ سنبھالنے کے محض ایک ہفتے بعد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے اس اچانک فیصلے نے سیاسی حلقوں میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ 13 جون کو نریندر ناتھ چکرورتی کو مغربی بردوان ضلع ترنمول کانگریس کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔ ریاستی سطح پر تنظیمی تبدیلیوں اور نئی ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل کے دوران انہیں یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
جمعہ کے روز ترنمول کانگریس کی ریاستی صدر چندریما بھٹاچاریہ کو بھیجے گئے اپنے استعفیٰ نامے میں نریندر ناتھ چکرورتی نے صحت کی خرابی کو وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ جسمانی حالت کے باعث وہ ضلع صدر کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہیں، اس لیے وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔
تاہم ان کے استعفیٰ کے وقت اور حالات نے سیاسی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جمعہ کو کولکاتا میں اسمبلی پہنچ کر نریندر ناتھ چکرورتی نے ریاستی اپوزیشن لیڈر رتوبرت بندوپادھیائے سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ دیر تک گفتگو بھی ہوئی۔ اسی ملاقات کے فوراً بعد نریندر ناتھ نے ضلع صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور اپنا مکتوب چندریما بھٹاچاریہ کو ارسال کر دیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نریندر ناتھ چکرورتی نے کہا کہ ضلع میں پارٹی کے 476 رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے ساتھ کوئی کھڑا نہیں ہے۔
اپوزیشن لیڈر رتوبرت بندوپادھیائے سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ان کا پرانا تعلق ہے اور دونوں نے ماضی میں مزدور تنظیموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے، اسی لیے ملاقات ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی ترنمول کانگریس میں ہیں یا پارٹی چھوڑنے والے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ترنمول کانگریس میں ہی ہیں، تاہم وہ کس ترنمول کانگریس میں ہیں، اس بارے میں انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔
ان کے اس مبہم بیان اور اچانک استعفیٰ نے مغربی بردوان سمیت ریاستی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Latest News

Related News