Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کا انتقال علم و ادب کے ایک عہد کا خاتمہ: ڈاکٹر عمار رضوی* *آل انڈیا مائنارٹیز فورم کی تعزیتی نشست کا انعقاد*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کا انتقال علم و ادب کے ایک عہد کا خاتمہ: ڈاکٹر عمار رضوی*

*آل انڈیا مائنارٹیز فورم کی تعزیتی نشست کا انعقاد*

لکھنؤ، (پریس ریلیز): آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کی ایک تعزیتی میٹنگ فورم کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی کی زیرِ صدارت فورم کے دفتر، پارک روڈ، لکھنؤ میں منعقد ہوئی۔ فورم کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے کہا کہ مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کے انتقال کی خبر سے مجھے دلی رنج و غم ہوا۔ ان کے انتقال سے ملک و ملت نے ایک عظیم عالمِ دین، ممتاز ماہرِ تعلیم، عربی زبان و ادب کے بلند پایہ محقق، ادیب اور صاحبِ علم شخصیت کو کھو دیا ہے۔ ان کی وفات علمی، ادبی اور دینی دنیا کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ نے اپنی پوری زندگی علم، تعلیم، عربی زبان و ادب، تحقیق اور دینی خدمات کے لیے وقف کر دی۔ عربی زبان و ادب کے فروغ اور ہندوستان میں عربی علمی و ادبی روایت کو مضبوط بنانے میں ان کا کردار نہایت اہم اور قابلِ قدر رہا۔ ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے ساتھ ان کا تعلق نہایت گہرا اور دیرینہ تھا۔ انہوں نے ندوہ کی علمی و تعلیمی روایات کو آگے بڑھانے اور اسے مزید مستحکم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایک استاد، محقق، مصنف اور منتظم کی حیثیت سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی علمی رہنمائی سے بے شمار طلبہ اور محققین نے استفادہ کیا اور آج وہ مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
عربی زبان و ادب کے میدان میں مولانا اعظمی ندویؒ کی خدمات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے عربی ادب، تحقیق، تنقید اور صحافت کے میدان میں گراں قدر علمی کام انجام دیا اور ہندوستان کی عربی علمی روایت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ عربی زبان و ادب کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدرِ جمہوریہ ہند کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
مولانا کی خدمات صرف دینی تعلیم تک محدود نہیں تھیں۔ انہوں نے جدید اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا اور انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ کے چانسلر کی حیثیت سے یونیورسٹی کی تعلیمی و علمی ترقی میں اپنی خدمات پیش کیں۔ ان کا نقطۂ نظر وسیع اور ہمہ گیر تھا۔ وہ علم، تحقیق، جدید تعلیم اور اخلاقی و دینی تربیت کو معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری سمجھتے تھے۔
آج دن میں ڈاکٹر عماررضوی کی رہائش گاہ پر مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کے انتقال پر منعقدہ تعزیتی نشست میں مولانا صاحب کی علمی، ادبی، دینی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔
اس موقع پر مختلف فورم اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اعظمی ندویؒ کا انتقال صرف ایک بزرگ عالمِ دین کی وفات نہیں بلکہ علم و ادب کی ایک روشن روایت کے ایک اہم باب کا اختتام ہے۔ ان کی علمی میراث، ان کی تصانیف، ان کی خدمات اور ان کے شاگرد آنے والی نسلوں کے لیے ان کی یاد کو زندہ رکھیں گے۔
آج کے دور میں جب معاشرے کو علم، برداشت، رواداری، اخلاق اور باہمی احترام کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، مولانا اعظمی ندویؒ کی زندگی اور خدمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندویؒ کے اہلِ خانہ، ان کے شاگردوں، ندوۃ العلماء کے اساتذہ و طلبہ اور ان سے وابستہ تمام افراد سے دلی تعزیت اور گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
محمودآباد میں ڈاکٹر عمار رضوی کے زیرِ انتظام درسگاہ مولانا آزاد انسٹیٹیوٹ آف ہیومنیٹیز سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (مجوزہ مولانا آزاد رورل یونیورسٹی) اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعزیتی جلسے کے بعد تعطیل کر دی گئی۔
اس میٹنگ میں خاص طور پر پروفیسر ماہ رخ مرزا، فرقان بیگ، اسلم بیگ، ندیم عباس، کاشف حسن، فراز حسن، کمیل نقی، افضل رضوی، شان علی، سید جمیل حسن نقوی، اسعد معروف مونی، ابوشحمہ انصاری، عرفان منصوری، وسیم احمد، مولانا جلال الدین، روی پرکاش یادو، راجیش پرساد، شری کانت دوبے، شہاب الدین خان، عطیق انصاری، ڈاکٹر احتشام خان، ڈاکٹر شاکیہ وغیرہ شامل ہوئے۔یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔

Latest News

Related News