*کانگریس حکومت کے چند یوم باقی رہ گئے ہیں*
*پولیس کی رکاوٹوں کے باوجود صدر ٹی آر ایس کے کویتا کا ستو پلی میں مائن کا دورہ*
*سنگارینی کے تحفظ کا عزم، میڈیکل بورڈ کے عدم قیام پر بھوک ہڑتال کا انتباہ*

تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے ستوپلی کے جے وی آر او سی پی مائن کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سنگارینی ورکرس کے مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ کویتا نےحکومت، انتظامیہ اور بعض مزدور یونینوں پر شدید تنقید کی۔ اس موقع پر ایچ ایم ایس اور ٹی آر ایس کے رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔دورہ کے دوران پولیس نے کویتا اور ایچ ایم ایس رہنماؤں کو روکنے کی کوشش کی، تاہم وہ رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مائن تک پہنچ گئے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ کانگریس حکومت کے چند دن باقی رہ گئےہیں اور اے آئی ٹی یو سی اور آئی این ٹی یو سی جیسی یونینوں کا زوال شروع ہو چکا ہے۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ یونینیں حکومت کے سامنے جھک گئی ہیں اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹ نظریات کے برعکس یہ یونینیں اب حکومت کی حمایت میں کھڑی ہیں جس سے مزدوروں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب وہ مزدوروں سے ملاقات کے لئے آتی ہیں تو انہیں کیوں روکا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنگارینی کو بچانے کے لئے وہ ہر سطح پر جدوجہد کریں گی اور کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں روکا گیا تو وہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنا پیغام مزدوروں تک پہنچائیں گی۔کویتا نے سنگارینی میں بنیادی سہولیات کی کمی پر بھی شدید ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے بچوں کے لئے نہ مناسب اسکول ہیں اور نہ ہی معیاری اسپتال۔ اربوں روپئے کے اثاثوں کے باوجود ستوپلی میں صرف دو بستروں پر مشتمل اسپتال ہونا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہال، پانی کی سہولیات اور معیاری آلات کی بھی شدید کمی ہے۔انہوں نے ایک حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرانی گاڑی میں آگ لگنے سے ایک مزدور کی موت واقع ہوئی مگر اس پر بھی کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے یونینوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسائل پر آواز اٹھانی چاہئےنہ کہ سیاسی مفادات کے تحت خاموش رہنا چاہئے۔کویتا نے کہا کہ حکومت سے سوال کرنے والاہونا ضروری ہے، تب ہی مسائل حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی جانب سے میڈیکل بورڈ کے قیام کے لئے احتجاج کی وارننگ دینے کے بعد ہی حکومت میں کچھ حرکت دیکھی گئی۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر 20 تاریخ تک میڈیکل بورڈ قائم نہ کیا گیا تو وہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ گاندھیائی طریقہ کار کے تحت حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا جائے گا۔کویتا نے سنگارینی میں نجی کمپنیوں کے بڑھتے اثر و رسوخ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اوپن کاسٹ مائنس صرف سنگارینی کے تحت ہی چلائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے الزام عائدکیا کہ نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے مقامی مزدوروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو سنگارینی کے ذمہ واجب الادا 54 ہزار کروڑ روپئے فوری ادا کرنے چاہئیں اور مزدوروں کے مسائل جیسے ڈیپنڈنٹ ملازمتیں، عرفیت ناموں کے معاملات کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔آخر میں کویتا نے کہا کہ سنگارینی کے خلاف جانے والے کبھی کامیاب نہیں ہوئے اور موجودہ حکومت، اے آئی ٹی یو سی اور آئی این ٹی یو سی کے دن قریب آ چکے ہیں۔ انہوں نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ یونین انتخابات میں ایچ ایم ایس کی حمایت کریں تاکہ ان کے حقوق کا موثر تحفظ کیا جاسکے۔










