Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کوئلہ چوری روکنے اور نیلامی میں شفافیت کے لیے فیروز خان (FK) کی مرکزی وزارتِ کوئلہ کو اہم تجاویز*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

کوئلہ چوری روکنے اور نیلامی میں شفافیت کے لیے فیروز خان (FK) کی مرکزی وزارتِ کوئلہ کو اہم تجاویز

  انڈویو جی کامرس اینڈ سوشل کونسل (ICSC) کے چیئرمین فیروز خان (FK) نے حکومتِ ہند کی وزارتِ کوئلہ کو ایک اہم تجویزی مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں ملک کے کوئلہ شعبے کو مزید شفاف، محفوظ اور جوابدہ بنانے کے لیے متعدد عملی اور مؤثر سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

اپنے مکتوب میں فیروز خان نے سب سے پہلے وزارتِ کوئلہ کی گزشتہ برسوں میں انجام دی گئی اصلاحات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وزارت نے کوئلہ شعبے میں شفافیت بڑھانے، تجارتی کوئلہ نیلامی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک کی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئلہ صرف ایک معدنی وسیلہ نہیں بلکہ ملک کی قیمتی قومی دولت ہے۔ اس کی چوری یا غیر قانونی نقل و حمل سے نہ صرف حکومت کو مالی نقصان پہنچتا ہے بلکہ قومی معیشت اور عوامی مفاد بھی متاثر ہوتا ہے۔

فیروز خان نے تجویز پیش کی کہ ملک بھر میں “نیشنل کول سیکیورٹی اینڈ ٹرانسپیرنسی مشن (NCSTM)” کا آغاز کیا جائے، تاکہ کوئلہ چوری پر مؤثر قابو پایا جا سکے اور کوئلہ نیلامی کے پورے نظام کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔

انہوں نے اپنی سفارشات میں درج ذیل نکات پر زور دیا:

  • کوئلہ نیلامی کے عمل کو مزید شفاف اور جوابدہ بنایا جائے۔

  • کان سے آخری منزل تک کوئلے کی نقل و حمل کی نگرانی GPS اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے۔

  • کوئلہ چوری کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس کیمرے اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔

  • عام شہریوں کے لیے کوئلہ چوری کی اطلاع دینے کی غرض سے قومی ہیلپ لائن اور انعامی اسکیم شروع کی جائے۔

  • وزارتِ کوئلہ، ریلوے، پولیس، CISF اور ریاستی حکومتوں کے درمیان ریئل ٹائم نگرانی کا مربوط نظام قائم کیا جائے۔

  • وقتاً فوقتاً آزادانہ آڈٹ کے ذریعے پورے نظام کی شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اس موقع پر فیروز خان نے کہا:

“کوئلے کی چوری صرف کوئلے کی چوری نہیں بلکہ ملک کی قومی دولت کی چوری ہے۔ کوئلے کا ہر وہ ٹن جو غیر قانونی طور پر چوری ہوتا ہے، اس سے قومی معیشت، سرکاری محصولات اور ملک کی ترقی کو نقصان پہنچتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ انڈویو جی کامرس اینڈ سوشل کونسل (ICSC) اس اہم معاملے پر وزارتِ کوئلہ کے ساتھ مل کر تفصیلی تجاویز، عوامی بیداری مہم اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔

آخر میں فیروز خان نے امید ظاہر کی کہ حکومت، صنعت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے مشترکہ تعاون سے کوئلہ چوری پر مؤثر روک لگائی جا سکتی ہے اور ملک کی قومی دولت کا بہتر تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔