Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*کھانسی کے شربت کا زہر: بھارتی دوا ساز صنعت پر عالمی سوالیہ نشان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*کھانسی کے شربت کا زہر: بھارتی دوا ساز صنعت پر عالمی سوالیہ نشان*

(معصوم جانوں کی قیمت پر منافع: ریگولیٹری ناکامیوں کا تاریخی پس منظر اور عالمی ساکھ کی تباہی)

بقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

ایک سادہ کھانسی کی دوا کا جامِم اجل بن جانا، کسی بھی صحتِ عامہ کے نظام کے لیے لمحۂ ندامت اور المیے سے کم نہیں۔ بھارت میں حال ہی میں پیش آنے والے دلخراش واقعے نے، جہاں ایک مقبول کھانسی کے شربت “کولڈ رِف” کے استعمال کے بعد بارہ سے زائد معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں، ایک بار پھر دنیا کی ‘فارمیسی’ کہلانے والے اس ملک کے کوالٹی کنٹرول اور ریگولیٹری ڈھانچے پر شدید اور سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ صرف ایک کمپنی کی غفلت کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے گہرے، منظم اور تاریخی بحران کی علامت ہے جو بھارتی دوا سازی کی صنعت کی جڑوں کو کھوکھلا کر چکا ہے۔ یہ المیہ والدین کے اس بنیادی اعتماد کا قتل ہے جو وہ اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنے صحت کے نظام پر کرتے ہیں۔
یہ سانحہ کوئی آسمانی بجلی نہیں تھا۔ یہ حادثات پچھلے چند برسوں میں گیمبیا اور ازبکستان میں بھارتی ساختہ کھانسی کے شربتوں میں Diethylene Glycol اور Ethylene Glycol جیسے زہریلے کیمیکلز کی زیادہ آمیزش سے ہونے والی اموات کا ہی تسلسل ہیں، جنہوں نے پہلے ہی عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی جانب سے سخت ترین تنقید کو جنم دیا تھا۔ ان بین الاقوامی اسکینڈلز کے بعد توقع تھی کہ بھارتی حکومت اپنے نظام میں بنیادی سرجری کرے گی اور اپنے Drugs and Cosmetics Act, 1940 کے تحت کوالٹی اَشورنس (QA) کو فُل پروف بنائے گی۔ تاہم، حالیہ اموات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان واقعات سے کوئی موثر سبق نہیں سیکھا گیا، اور ریگولیٹری اداروں کی مجرمانہ غفلت اور کمزوری برقرار رہی، جس نے ایک بار پھر منافع کی ہوس کو انسانی جان پر فوقیت دینے کی اجازت دی۔
عالمی ادارۂ صحت کی واضح ہدایات کے باوجود، جو پانچ سے چھ سال سے کم عمر بچوں کے لیے اس طرح کی دوائوں کے استعمال کے خلاف ہیں، یہ زہریلے فارمولے بھارتی مارکیٹ میں آزادانہ طور پر دستیاب تھے اور حکومتی ریگولیٹری ‘فلٹر’ کو بآسانی عبور کر رہے تھے۔ اب جبکہ اس واقعے کے بعد چند ریاستی سطح پر پابندیاں لگائی گئی ہیں اور چند چھوٹے کرداروں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے، یہ اقدامات مسئلہ کی جڑوں تک پہنچنے کے بجائے محض سطحی تسکین کا باعث ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بھارت میں ادویات کی تیاری اور فروخت کی نگرانی کرنے والا مرکزی ادارہ، ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا (DCGI)، اپنے فرائض کی ادائیگی میں کیوں ناکام رہا؟ کیا اس کی ناکامی کی وجہ فنڈز کی کمی اور آلات کی بوسیدگی ہے یا پھر سیاسی مداخلت اور دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ بدعنوان گٹھ جوڑ؟
یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ایک تجزیہ کے مطابق، ترقی پذیر ممالک میں دوا سازی کی صنعتوں کی نگرانی کرنے والے اداروں میں تربیت یافتہ عملے اور جدید لیبارٹریوں کا فقدان عام ہے، اور بھارت بھی اس سے اچھوتا نہیں۔ جب ہم بھارت کی تقریباً 10,500 مینوفیکچرنگ یونٹس کا تقابل امریکہ کی 8,000 یونٹس سے کرتے ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک اتنی وسیع اور بکھری ہوئی صنعت کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے درکار وسائل اور طاقت بھارتی ریگولیٹرز کے پاس موجود ہی نہیں۔ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچررز کوالٹی کنٹرول کے عالمی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں، اور زہریلے کیمیکلز کو سستے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے انسانی زندگیوں کی قیمت پر منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس سنگین صورتحال کا حل صرف چند گرفتاریوں میں مُضْمَر نہیں۔ یہ بحران ایک جامع اور انقلابی ریفارم کا متقاضی ہے۔ ایک آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ اس لیے ناگزیر ہے تاکہ نہ صرف زہر بنانے والی کمپنی کو، بلکہ ان تمام ڈرگ کنٹرولرز اور پالیسی سازوں کو بھی جوابدہ بنایا جا سکے جن کی نااہلی یا ملی بھگت نے ان زہروں کو بازار تک پہنچنے دیا۔ اس تحقیقات کا دائرۂ کار ان غیر اخلاقی تجارتی تعلقات کو بھی بے نقاب کرے جو بعض ڈاکٹروں اور فارماسسٹ کے درمیان دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ قائم ہیں۔ جب تک منافع خوری کے اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا نہیں جاتا، یہ اجتماعی ناکامی دہرائی جاتی رہے گی۔
بھارت کے سامنے اب ایک اہم معاشی دوراہا ہے۔ ایک طرف ملک کی عالمی ساکھ کا سوال ہے، جو 50 بلین ڈالر سے زیادہ کی ادویات برآمد کرتا ہے، اور دوسری طرف سخت ریگولیشن کا مطالبہ ہے۔ اگر بھارت اپنے کوالٹی کنٹرول کے نظام کو امریکی FDA یا یورپی یونین کے EMA کے معیارات کے مطابق بلند کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں یقینی طور پر اضافہ ہو گا، جس سے بھارت کی سستی ادویات کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ یہ ایک مشکل معاشی فیصلہ ہے، مگر عالمی برادری اور خود بھارتی عوام پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی اور صحت کی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
نتیجہ یہ ہے کہ یہ معصوم جانوں کا ضیاع صرف ایک طبی غلطی یا تکنیکی ناکامی نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ نظام کا المیہ ہے جو منافع کو مُقَدَّم رکھتا ہے۔ جب ایک باپ اپنی بیمار بیٹی کے لیے کھانسی کا شربت خریدتا ہے، تو وہ صرف ایک بوتل نہیں خریدتا، بلکہ وہ اس ملک کے پورے صحت اور ریگولیٹری نظام پر اعتماد خریدتا ہے۔ یہ اموات اس اعتماد کے قتل کا مترادف ہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر صفر رواداری (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنائے، اپنے قوانین کو عالمی معیار کے مطابق سخت بنائے، اور ریگولیٹری اداروں کو سیاسی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد کر کے انہیں وہ اقتصادی اور تکنیکی طاقت فراہم کرے جو دنیا کی فارمیسی کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ جب تک یہ اصلاحات نہیں ہوں گی، تب تک عالمی ساکھ بحال ہونا ایک خواب رہے گا۔
*نوٹ : مذکورہ مضمون میں مضمون نگار کی اپنی رائے ہے ، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔*