رام مادھو کا اعترافِ حق : کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے
بقلم : ڈاکٹر محمد عظیم الدین
واشنگٹن ڈی سی کا ہڈسن انسٹی ٹیوٹ امریکی خارجہ پالیسی کے دانشوروں کا وہ مرکز ہے جہاں دنیا کی سمتیں زیر بحث آتی ہیں اور جہاں ایک جملہ بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ اپریل 2026 کے اواخر میں اس ادارے میں ایک مباحثے کا انعقاد ہوا جس کا عنوان امریکہ بھارت تعلقات کے لیے نئے راستے تھا۔ اس مباحثے میں امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کرٹ کیمبل، اسٹمسن سینٹر کے جنوبی ایشیا پروگرام کی نائب ڈائریکٹر الزبتھ تھریل کیلڈ اور بی جے پی کے اعلیٰ رہنما رام مادھو شریک تھے۔ اس گفتگو کے دوران رام مادھو نے مائیک کی طرف جھکتے ہوئے وہ الفاظ کہے جو چند گھنٹوں میں بین الاقوامی سرخیوں میں تبدیل ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت نے ایران سے تیل خریدنا بند کرنے پر اتفاق کیا، حزب اختلاف کی اتنی تنقید کے باوجود روس سے تیل خریدنا بند کرنے پر اتفاق کیا اور 50 فیصد محصولات پر بھی اتفاق کیا۔ اتفاق کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کہا اور صبر سے کام لیا۔ ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا اور نئی دہلی تک اس کی گونج سنائی دی۔
یہاں ایک استعارہ صورت حال کو واضح کرنے میں مدد دیتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک ماہر معمار نے برسوں کی محنت سے اینٹوں کے بجائے شیشوں سے ایک قلعہ تعمیر کیا ہو جو دور سے چمکدار اور ناقابل تسخیر دکھائی دیتا ہو۔ تزویراتی خود مختاری اسی قلعے کا نام ہے جسے نئی دہلی نے عشروں سے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ وہ اصول ہے جس کے تحت بھارت نے روس سے بھی تعلقات استوار رکھے، امریکہ کے ساتھ بھی تزویراتی شراکت داری بڑھائی اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ بھی اپنے مفادات کے مطابق معاملات طے کیے۔ لیکن اس قلعے کے ایک اہم حامی نے واشنگٹن کے ایک کھلے اجلاس میں اپنے ایک بیان سے اس تصور کی بنیاد پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا۔
اس واقعے کو سمجھنے کے لیے چند ماہ قبل کے حالات پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ فروری 2026 کے اوائل میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر ایک اہم گفتگو ہوئی تھی۔ اس گفتگو کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ، بھارت پر عائد محصولات کو 50 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ واشنگٹن نے گزشتہ سال اگست میں بھارت پر 25 فیصد اضافی جرمانے کے محصولات عائد کیے تھے جس کی بڑی وجہ بھارت کا روس سے تیل خریدنا تھا۔ ٹرمپ نے عوامی سطح پر یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس تجارتی معاہدے کے تحت بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس وقت نئی دہلی نے اس امریکی دعوے کی نہ تو باضابطہ تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔ سفارت کاری کی زبان میں اس خاموشی کو تزویراتی ابہام کہا جاتا ہے لیکن رام مادھو کا حالیہ بیان اسی خاموشی کو توڑنے کے مترادف تھا۔
اس کے برعکس، بھارتی حکومت کا باضابطہ موقف بالکل مختلف رہا ہے۔ 14 فروری 2026 کو میونخ سلامتی کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک سوال کے جواب میں واضح طور پر کہا تھا کہ بھارت اپنے شراکت داروں سے ہمیشہ اتفاق کیے بغیر بھی آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت تزویراتی خود مختاری کا پوری طرح پابند ہے کیونکہ یہ اس کی تاریخ اور ارتقاء کا ایک لازمی حصہ ہے۔ جے شنکر کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نئی دہلی عالمی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ تاہم، رام مادھو کے واشنگٹن میں دیے گئے بیان نے اس سرکاری بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان پائے جانے والے ممکنہ تضاد کو نمایاں کر دیا۔
اس تضاد کے منظر عام پر آنے کے بعد پیدا ہونے والے دباؤ کے پیش نظر، رام مادھو کو فوری طور پر اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔ 24 اپریل 2026 کو انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا جس میں انھوں نے لکھا کہ جو انھوں نے کہا وہ غلط تھا اور بھارت نے کبھی روسی تیل کی درآمد بند کرنے پر اتفاق نہیں کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا بیان حقائق کے خلاف تھا اور انھوں نے اس پر باقاعدہ معذرت کی۔ لیکن یہ معذرت حزب اختلاف کے لیے کافی نہیں تھی۔ کانگریس اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے اس واقعے کو فوراً اپنے حق میں استعمال کیا اور کہا کہ حکومت کا ایک اعلیٰ رکن وہ بات تسلیم کر چکا ہے جو وہ کافی عرصے سے کہہ رہے تھے۔
یہ سفارتی اور سیاسی کشمکش کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں 1955 کی بانڈونگ کانفرنس اور اس کے نتیجے میں 1961 میں وجود میں آنے والی تحریک عدم وابستگی میں پیوست ہیں۔ اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا نظریہ تھا کہ نو آزاد ممالک کو سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کے گروہوں میں بٹنے سے گریز کرنا چاہیے اور اپنا آزادانہ راستہ چننا چاہیے۔ آج کی دنیا میں تزویراتی خود مختاری اسی نظریے کی ایک جدید شکل ہے۔ لیکن سرد جنگ کے دور کی غیر وابستگی ایک واضح انتخاب تھا جبکہ موجودہ دور کی عالمی معیشت اور پیچیدہ جغرافیائی سیاست میں یہ خود مختاری اکثر اقتصادی اور تزویراتی مجبوریوں سے مشروط نظر آتی ہے۔
امریکی مصنف اور تجزیہ نگار تھامس فریڈمین نے 1999 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب دی لیکسس اینڈ دی آلیو ٹری میں ایک تصور پیش کیا تھا جسے انھوں نے سنہری پہناوے کا نام دیا۔ اس نظریے کے مطابق، عالمگیریت اور عالمی معاشی نظام کا حصہ بننے کے لیے ہر ملک کو اپنی اقتصادی اور فیصلہ سازی کی آزادیوں پر کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ یہ پہناوا معاشی ترقی تو لاتا ہے لیکن اس کا پہننا اور اس کی پابندیوں کو برداشت کرنا ایک تکلیف دہ عمل ہوتا ہے۔ بھارت کی موجودہ صورت حال اس نظریے کی ایک عملی مثال محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف اسے روس سے سستے تیل کی فراہمی جاری رکھنی ہے اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دو طرفہ محصولات کا استعمال اور پھر 50 فیصد سے 18 فیصد تک کی رعایت دراصل اسی دباؤ کا حصہ ہے جس میں ریاستوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کسی ایک سمت کا انتخاب کریں۔
دراصل یہ واقعہ صرف ایک بیان یا اس کی تردید تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جو بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والے ممالک کو درپیش ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک اعلیٰ سیاسی رہنما عالمی سطح پر اپنے ملک کی پالیسی کو صبر سے قبول کر لینے کے طور پر بیان کرتا ہے، تو کیا یہ محض ایک سفارتی غلطی ہے یا پھر ان پس پردہ حقائق کا غیر ارادی انکشاف جو عموماً سرکاری اعلانات کے پیچھے چھپے رہتے ہیں؟
تزویراتی خود مختاری کا شیشے کا قلعہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ وزیر خارجہ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے بیانات آج بھی اس کی مضبوطی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے اس کمرے میں جو الفاظ ادا کیے گئے، انھوں نے اس قلعے کی بنیادوں پر جو سوالات اٹھائے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب عالمی سطح پر اقتصادی مفادات اور سفارتی دباؤ آپس میں ٹکراتے ہیں تو مکمل خود مختاری کا دعویٰ برقرار رکھنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آنے والے وقت میں بھارت کی خارجہ پالیسی کو اسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ آیا اس کے فیصلوں کا محور واقعی نئی دہلی میں ہے یا عالمی طاقتوں کے دارالحکومتوں میں۔









