گوبندپور کی شبانہ پروین نے اردو میں گولڈ میڈل حاصل کیا
نئی نسل کی لڑکیوں کے لیے آئیڈیل ہیں شبانہ پروین: وحیدہ بشیر
دھنباد: بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی، دھنباد کے شعبۂ اردو کے 24-2022 سیشن کی طالبہ شبانہ پروین نے ایم اے اردو میں یونیورسٹی میں اول مقام حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا ہے۔ یونیورسٹی کے دِکشانت سماروہ میں انہیں گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ گوبندپور کی رہنے والی شبانہ پروین کے والد کا نام محمد اختر حسین ہے
شبانہ پروین نے 2013 میں میٹرک، 2015 میں انٹرمیڈیٹ، 2018 میں گریجویشن اور 2020 میں بی ایڈ مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور 24- 2022 سیشن میں یونیورسٹی میں اول مقام حاصل کیا
اپنی کامیابی کا سہرا اپنے شوہر محمد عارف حسین کو دیتے ہوئے شبانہ پروین نے کہا کہ ان کی تعلیمی زندگی میں شوہر کا سب سے اہم کردار رہا ہے۔ ان کی شادی 2016 میں گریجویشن کے فرسٹ ایئر کے دوران ہوئی۔ شادی کے بعد بھی ان کے شوہر نے ان کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بھرپور حوصلہ افزائی کی اور گریجویشن، بی ایڈ اور ماسٹرز کی تعلیم مکمل کرنے میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ شوہر کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی بدولت وہ آج اس مقام تک پہنچ سکی ہیں

شبانہ پروین نے اپنی کامیابی کے موقع پر اپنے استاد مرحوم پروفیسر ڈاکٹر محمد موصوف احمد کو یاد کیا اور جذباتی ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر محمد موصوف احمد نے ان کی علمی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالمتین کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں اساتذہ کی رہنمائی اور سرپرستی میں انہوں نے ایم اے اردو کی تعلیم مکمل کی
شبانہ پروین نے شعبۂ اردو کے موجودہ صدر ڈاکٹر عالمگیر ساحل کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اس وقت کے اسکالر غلام محی الدین کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ غلام محی الدین نے انہیں بڑی محنت اور لگن کے ساتھ پڑھایا اور تعلیمی تیاری میں بھرپور تعاون کیا
وحیدہ بشیر نے شبانہ پروین کو گولڈ میڈل حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شبانہ پروین نے اپنی محنت، عزم اور حوصلے سے ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ شادی کے بعد گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ تعلیم جاری رکھتے ہوئے یونیورسٹی میں اول مقام حاصل کرنا قابلِ تحسین ہے۔ شبانہ پروین نئی نسل کی لڑکیوں کے لیے ایک آئیڈیل اور حوصلہ افزا مثال ہیں۔










