آسنسول : ”آسنسول کارپوریشن کے ذریعہ گاروئی ندی کی صفائی اور صفائی کے مد میں خرچ کی جانے والی رقم ہماری غیر ذمہ دارانہ عمل کے سبب ضائع ہو تا دیکھائی دے رہاہے۔ سچ پوچھئے تو ہم ایک غیر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔“ان باتوں کا اظہار دانش سرفراز نامی اک شخص نے گاروئی ندی کی موجودہ حالت کو دیکھ کر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آسنسول کارپوریشن گزشتہ دو سالوں سے برسات سے قبل گاروئی ندی کی صفائی کرا رہی ہے اور اس مد میں لاکھوں روپئے بھی خرچ کر رہی ہے لیکن ہماری غیرذمہ دارانہ عمل کارپوریشن کی تمام کاوشوں پر پانی پھیر رہی ہے۔ ندی کی صفائی کے بعد اس کی گہرائی اور وسعت میں اچھا خاصہ فرق دیکھا جاتا ہے لیکن آہستہ آہستہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر سے اس کی گہرائی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ ملبہ اکثر پلوں کے ستون میں آکر پھنس جاتا ہے۔ اس کے سبب پل کے بھی کمزور ہونے کا خدشہ لاحق ہو تا ہے۔ عبد الحلیم نامی ایک شخص نے کہا کہ کارپوریشن بہتر بلدیاتی سہولت فراہم کرا رہی ہے۔ گھروں سے کوڑا لے جانے کا مناسب انتظام کر رکھا ہے اس کے باوجود کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گھر کا کوڑا کرکٹ نالیوں میں ڈالتے ہیں۔ نالیاں تو جام ہوتی ہی ہیں جب پانی کے بہاؤ کے ساتھ یہ کچڑا آگے بڑھتا ہے تو سیدھے گاروئی ندی میں گرتا ہے۔ آہستہ آہستہ ندی میں کوڑوں کا انبار جمع ہوتا جاتا ہے اور بارش ہونے کے بعد یہ ملبہ ٹھوس ہوکر پلوں کے ستون میں آکر پھنس جاتا ہے۔ اس سے نکاسی بھی صحیح طور پر نہیں ہوتی اور دوچار گھنٹے زبردست بارش کے بعد سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ ریل پار میں چھوٹی چھوٹی صنعتیں قائم ہیں۔ یہاں ہر طرح کے سامان بنائے جاتے ہیں۔ گھر گھر کام ہو تا ہے۔ ان کارخانوں میں استعمال ہونے والی چیزوں کے فاضل اشیاء مالکان آسانی کے لئے بڑے بڑے نالوں میں پھینک دیتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر یہ بہتا ہوا گاروئی ندی میں آتا ہے اور ندی میں آکر پھنس جاتا ہے۔ علاوہ ازیں گاروئی ندی سے متصل کچھ نجی میرج ہال میں شادی کا پروگرام ختم ہونے کے بعد کچڑا ندی میں پھینکنے کا عمل بھی جاری ہے۔ اختر نامی ایک دیگر شخص نے بتایا کہ پرانے مکانات کو زمین بوس کر کے جو لوگ گھر بنارہے ہیں ان میں ندی کے قریب رہنے والے افراداپنی سہولت کے پیش نظر ملبہ کو ندی کے کنارے ہی ٹھکانہ لگا رہے ہیں۔ ایک جانب کارپوریشن گاروئی ندی کی وسعت کے لیے رقم خرچ کرہی ہے دوسرے جانب لوگ اس کے کناروں کو اینٹ پتھر کے ملبہ سے بھرنے میں مصروف ہیں۔ بدھ کی صبح سے ہونے والی بارش کے بعد گاروئی ندی پر واقع اقبال سیتو کے ستون سے چپکے ملبے کی تصویر کشی کے بعد عوام اورعوامی نمائندے کے تاثرات جمع کر نے کی کوشش کی۔ اس کے لیے جب آسنسول کاروپریشن کے ڈپٹی میئر سید وسیم الحق سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اقبال سیتو اور صدیق بریج کے پاس ملبہ جمع ہے۔ اس کی صفائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ آسنسول کارپوریشن تمام طرح کی بلدیاتی سہولیات عوام کو دے رہی ہے لیکن اس کے باوجود عوام میں اب تک بیداری نہیں آئی۔ نرمل ساتھی، نرمل بنگلہ اسکیم کے تحت گھر گھر سے کوڑا لے جانے کا انتظام کارپوریشن نے کیاہے لیکن کچھ لوگ اب بھی اپنے گھروں کا کوڑا یا تو نالیوں میں یا پھر ندی میں ڈال رہے ہیں۔ لوگوں کی سہولت کے لیے جگہ جگہ بڑے بڑے ڈسٹ بین رکھے گئے ہیں۔ کارپوریشن کی گاڑی آتی ہے اور ان ڈسٹ بین سے کوڑا اٹھا کر لے جاتی ہے۔ سید وسیم الحق نے کہا کہ بیگ اور پرانی ساڑیوں کے کاروباری افراد بھی فاضل اشیاء ڈسٹ بین میں ڈالنے کے بجائے ہائی ڈرین اور نالیوں میں پھینیک دیتے ہیں۔ اس سے صفائی عملہ کو کافی پریشانیوں کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ کارپوریشن ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ شہر کو صاف ستھرا رکھا جائے۔ اس کے لیے عوامی تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ جب تک عوام بیدار نہیں ہوگی ہم اپنے شہر کو ایک صاف ستھرے شہر میں تبدیل نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کارپوریشن کا تعاون کریں۔ کوڑا کرکٹ ڈسٹ بین میں ڈالیں۔ انہوں نے بھی واضح طور پر کہا کہ لوگ اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ مکان بناتے وقت پرانے مکان کا ملبہ بھی ندی میں پھینک رہے ہیں۔ جب تک ہمارے اندر بیداری نہیں آئے گی اس وقت تک شہر کی خوبصورتی کا خواب ناممکن ہے۔گاروئی ندی کی دونوں جانب وال گارڈ کی تعمیری کام التوا میں پڑجانے سے متعلق سوال پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ کلیان پور ہاؤسنگ سے کلا تک گاروئی ندی کی تزئین کاری کا منصوبہ ہے۔ اسکے لیے خطیر فنڈ کی ضرورت ہے۔ آہستہ آہستہ کام ہو رہا ہے۔ گنگا ایکشن پلان کے تحت مرکز سے فنڈ کی اپیل کی گئی تھی لیکن فنڈ نہیں ملنے کی وجہ سے ریاستی سرکار اور کارپوریشن مشترکہ طور پر اس کام کو کرہی ہے۔ جیسے جیسے فنڈ آتا جارہاہے کام کیا جارہاہے۔ وارڈ25کے کاؤنسلر ایس ایم مصطفےٰ سے جب بات کی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ آج گھر گھر سے کوڑا اٹھایا جارہا ہے۔ لوگوں کو سہولت دی جارہی ہے باوجود اس کے لوگ ندی اور نالیوں میں کوڑا پھینک رہے ہیں۔ لوگ گھر بنا رہے ہیں اور چھت کا ملبہ ندی میں پھینک دیتے ہیں۔ اس سے ہم لوگوں کو ہی پریشانی ہوگی۔ انہوں نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسا نہ کریں۔ اپنے شہر کو صاف ستھرا رکھیں۔ انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ وارڈ 24کی کاؤنسلر فنسبی عالیہ سے بات کر نے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ شاید مصروفیت کی بنا پر انہوں نے کال کاٹ دیا۔



















