Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*اعتکاف۔۔۔۔۔درِخدا میں گوشہ نشیں ہوکر مغفرت ورضاءے الٰہی کا حصول۔۔۔۔۔*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

رمضان المبارک کا مہینہ سال کے بارہ مہینہ پر فضیلت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں موءمنین پر روزہ فرض کیا گیا ہے اور راتطکی تروایح کو سنت موءکدہ قرار دیا گیا ہے موءمن کے ہر نیک عمل کے اجر وثواب میں اضافہ کی خوشخبری نبی پاکؐ نے سناءی ہے اور ارشاد فرمایا کہ رمضان میں ایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر اور ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر کر دیا جاتاہے رمضان المبارک کے تین عشرے مقرر کءے گءے ہیں پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ ہے یعنی اس عشرہ میں روزہ بندوں پر رحمت خداوندی بارش کے قطروں کی طرح روزے دار بندوں پر نازل ہوتی ہے جبکہ دوسرا عشرہ مغفرت کا اور تیسرا اور آخری عشرہ جہنم سے خلاصی کا ہے۔
رمضان المبارک کے اس آخری عشرہ میں ایک شب آتی ہے جسے شب قدر کےنام سے موسوم کیا جاتاہے شب قدر کے بارے خداوند تعالی نے ارشاد فرمایاکہ قرآن پاک ہم نے شب قدر میں نازل کیا یہ شب قدر اتنی قابل قدر ہیکہ جس کسی کو بھی شب قدر کی عبادت کی توفیق حاصل ہوگءی اور جس نے اس رات کو عبادت وریا ضت اور توبہ واستغفار کے ساتھ گزار لیا گویاکہ اسنے ہزار مہینہ عبادت کے ساتھ گزارا شب قدر میں عبادت کرنے والوں پر پار طلوع فجر تک حضرت جبرءیل ع فرشتوں کی جماعت کے ساتھ سماء دنیا پر اللہ کے حکم سے تشریف لاتے ہیں اور روزہ دار عبادت گزار بندوں پر طلوع فجر تک سلامتی کی دعاء فرماتے ہیں کتنی بڑی اور فضیلت کی بات ہیکہ اللہ تعالی نوری مخلوق کے ذریعہ ہم گناہگار اور سیہ کار بندوں کیلءے سلامتی کی دعاء کر واتے ہیں ۔حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ شب قدر کو طاق راتوں میں تلاش کرو یعنی اکیس تیءیس پچیس ستاءیس اور انتیس کی شب تلاش کرنے کا حکم فرمایا ہے اسی وجہ سے نبی پاک ؐ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے ساتھ رمضان المبار ک کے پہلے اور دوسرے عشرے کا اعتکاف فر ماتے ۔اور تیسرا عشرہ سے قبل صحابہ کی طرف متوجہ ہوکرآپ ؐ نے فر مایا کہ میں نے شب قدر کی تلاش میں دو عشرے کا اعتکاف کیا لیکن ہم نے شب قدر نہیں پایا لہذا اب اس آخری عشرہ میں شب قدر کو پانے کیلءے اعتکاف میرے ساتھ آپ سب بھی کرلیں ۔چنانچہ صحابہ کرام نبی پاکؐ کے ساتھ شب قدر کو پانے کیلءے آخری عشرہ کا بھی اعتکاف فرماتے ۔اسی وجہ سے رمضان المبارک میں آخری عشرہ کے اعتکاف کرنے کو سنت علی الکفایہ قرا ر دیا گیا ہے حتیٰ کہ اگر پوری آبادی کے کسی ایک فرد نے بھی اعتکاف نہیں کیا تو نبی پاکؐ نے یہ وعید فرماءی کہ پوری آبادی کے مسلمان گنہگار ہونگے اور اندیشہ ہیکہ اعتکاف کے ترک کی وجہ سے عزاب الہی بھی نازل ہوجاءے اور تمام لوگ اس عزاب اور بلاء میں مبتلاء نہ ہو جاءے الحاصل مسلمانوں کو چاہیے کہ رمضان کے آخری عشرہ کا اہتمام کے ساتھ اعتکاف کریں تاکہ عزاب الہی سے ہم محفوظ ہوسکیں اسکے ساتھ ساتھ معتکف گویا کہ درِخدا میں گوشہ نشیں ہوکر اور مخلوق سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرکے خالق کی طرف بندہ مکمل متوجہ ہو جا تا ہے اور زبان حال سے یوں گویا ہوتا ہے کہ اے اللہ میں نے تیرے در پہ خود کو ڈال دیا ہے اور میں نے خود کو تیرے در پر سپرد کر دیا ہے اب چاہیں تو آپ میری معافی کو قبول کرلیں اور شب قدر کی عبادت کی برکت سے ہمیں معاف فرمادیے اگر اس درخدا پر حاضری اور بسیرا کے بعد بھی مغفرت اور معافی نہ ہوءی تو بندہ کیلءے محروم القسمتی ہوگی ۔اعتکاف در اصل شب قدر کے فیوض وبرکات حاصل کرنے کیلءے ہی کیا جاتا ہے ۔ایک تلخ حقیقت ہیکہ بعض معتکف اعتکاف کی اصلیت اور اسکی فضیلت سے نا واقف ہوتے ہیں یہی وجہ ہیکہ اعتکاف میں بیٹھکر مسجد میں پارٹیاں چلتی ہیں دوست واحباب کی گپ شپ کی گھنٹوں محفلیں جمی رہتی ہیں اکثر اوقات عبادت کے بجاءے نیند اور گفت وشنید اور خوردونوش میں ہی گزر جاتے ہیں اللہ ان فضولیات سے معتکفین کو محفوظ فرماءے لیکن اکثر معتکفین اعتکاف کی اصل کو سمجھ اور جانکر شب کو دعاء ومناجات عبادت وغیرہ کے ذریعہ پر نور اور بابرکت بناتے ہیں اللہ سے دعاء ہیکہ اللہ تعالی معتکفین کے اعتکاف کو قبول فرماءے