آسنسول : علمائے اہلسنت شہر آسنسول کے زیر اہتمام ایک تاریخی نشست 25اکتوبر 2022بروز منگل بوقت 9 بجے دن مدرسہ قادریہ امان العلوم قمر پور آسنسول کے وسیع و عریض ہال میں منعقد ہوئی۔تحفظ ناموس رسالت و تحفظ مدارس و مساجد،شادی بیاہ میں ڈیمانڈ ووخرافات، مسلمانوں کی دین سے دوری اور نئی نسل کے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے شراب نوشی و نشہ، سٹہ جوا سے تباہ خاندان پر غور،شہر اور دیہات گاؤں قصبہ میں دینی مکاتیب کا قیام،صوبہ بنگال میں مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے سرکاری ملازمت اور اقتدار میں حصہ داری کو یقینی بنانے پر غور کرنے سے متعلق نشست میں مقرر خاص کے طور پر غازی ملت، مفکر اسلام حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب قبلہ بلیاوی،صدر مرکزی ادارہ شریعہ،پٹنہ،بہار و سابق ایم پی راجیہ سبھا موجود رہے۔
موقع پر موجود دیگر آئمہ عظام و علمائے کرام نے درج بالا موضوع کے تحت اپنی اپنی باتیں رکھیں اور قوم و ملت کو اپنی تجاویز پیش کیں۔مولانا غلام رسول بلیاوی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں،سماج اور قانون اس وقت تک ہماری دشمن ہے جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔خود کو زندہ رکھنا یہ کمال نہیں ہے لیکن اپنی موت کے بعد ہماری نسلیں نہ ماری جائیں اس کے لیے زندہ رہنا کمال ہے۔قوم ضرورت پوری کرسکتی ہے لالچ نہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے مشن کے لیے چھوٹا ٹائم لے کر بیٹھیں۔ ہمیں وقت اور حالات کا خود بھی احساس نہیں۔ مدرسوں پر فرقہ پرست طاقتوں کی بدنیتی پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات سے تکلیف یا پریشانی نہیں کہ کل تک مدرسوں میں جتائی تھی آج ٹائلس اور ماربل کیوں ہے بلکہ وہ پریشان اس بات سے ہیں کہ جب تک مدرسے زندہ رہیں گے تب تک اس قوم کی اولادوں کو مرتد نہیں کیا جاسکتا اس لیے یہ باطل اور فرقہ پرست طاقتیں مدرسوں کو اپنا نشانہ بنا رہی ہے۔ہمیں اسکی فکر کرنی ہے کہ اتنے مدرسوں کی حفاظت کیسے کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ سال 1968میں ادارہ شرعیہ کا قیام عمل میں آیا اور آج 80فیصد لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ ادارہ شریعہ ہے کیا۔لوگ اسے بھی مدرسہ سمجھتے ہیں۔ہمیں وقت اور حالات کا خود بھی احساس نہیں۔آج پچھم بردوان ضلع کے عوام کے ساتھ علماء کرام سے پوچھا جائے کہ پورے بردوان ڈسٹرکٹ میں کتنے بلاک ہیں اور ہر بلاک میں مساجد و مدارس کی تعداد کیا ہے تو خاموش رہیں گے کیوں کہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ بردوان ڈسٹرکٹ میں کتنے بلاک ہیں۔جب بردوان ڈسٹرکٹ میں بلاک کاعلم نہیں تو بلاک کے اندر مساجد اور مدارس کی تعداد کا علم کہاں۔
انہوں نے کہا کہ منصب جتنا بلند ہوگا درد اسی قدر سہنا پڑے گا۔یوں تو جینے کو ہر کوئی جیتا ہے ملت کا درد لے کر جینا کمال کی بات ہے۔نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو اپنے اسلاف کی تاریخ بھی نہیں پڑھی،انکی قربانیوں سے ہم?ناواقف ہیں۔ تین طلاق پر خوب نعرے لگے،جلسے جلوس ہوئے،رات میں جلسہ ختم ہونے کے بعد صبح ہر طرف یہی چرچا ہوتا کہ جلسہ بڑی کامیاب رہا۔ہم کہاں ہیں جلسہ کی کامیابی سے حالات پر قابو نہیں پایا جاسکتا اس کے لیے ہمیں کوشش کرنی ہوگی۔جملوں سے کسی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔تحریروں سے تاریخ جمع کرسکتے ہیں لیکن وہ تاثیر پیدا نہیں کرسکتے جو قوم کے اندر ہونی چاہیے۔کورونا وبا کے دور میں 40فیصد بچے مدرسوں سے غائب ہوگیے۔کوئی بیگ بنا رہا ہے،کوئی کسی دکان میں کام کررہا ہے،کوئی ڈھابے میں ہے۔
اسکی فکر کس نے کی۔یاد رہے آج بھی ہم نے اپنے بچوں اور مدرسوں کی فکر نہیں کی تو مدرسہ میں ٹائلس ماربل رہیں گے لیکن کوئی پڑھنے والا نہیں ملے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم ایک فکر کے ساتھ شہر،گاؤں،قصبہ کا سروے کریں۔اپنے اداروں کی حفاظت کے لیے آگے آئیں۔مثبت سوچ کے ساتھ قوم و ملت کے لیے کام کریں۔
مولانا محمد محبوب عالم رضوی، خادم اہلسنت محمد مبین احمد حبیبی، مفتی محمد نعیم الدین مصباحی، مولانا قاضی محمد رستم علی، مولانا محمد عیسی مصباحی، مولانا محمد مظفر حسین رضوی، مولانا محمد وعظ الحق،حافظ محمد مظفر حسین قادری،پچھم بردوان ضلع ترنمول کانگریس مائنوریٹی سیل کے ضلع صدر سید محمد افروز، و جملہ علماء اہلسنت اور مقامی حضرات موجود رہے۔









