Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*ہندوستان کے ہر مسلمان پر حضرت خواجہ غریب نواز کا احسان ہے

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

6 رجب المرجب حضرت خواجہ غریب نواز کے عرس کے موقع پر حضرت علامہ مفتی محمد اورنگزیب عالمگیر سعدی صاحب قبلہ درگاہ حضور غوث بنگالہ رانی گنج نے مسلمانان ہند کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ملک ہندوستان دنیا کے ممالک سے ہٹ کر اپنی الگ ایک پہچان رکھتا ہے یہاں الگ الگ مذاہب کے لوگ ایک ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں اور یہی اس ملک کی خوبصورتی بھی ہے کہ باغ تو ایک ہے لیکن اس میں مختلف قسم کے پھول موجود ہیں اسی ملک عزیز میں ایک قوم قوم مسلم بھی ہے جن کا تعلق اسلام سے ہے اور اسلام وہ مذہب ہے جو دنیا کا سب سے پہلا سچا اللّٰہ کا پسندیدہ مذہب ہے اس کی ابتدا دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی جو کہ خود سارے انسانوں کے باپ دنیا کے پہلے انسان ہیں وہ اس مذہب حقہ کو لے کر متحدہ ہندوستان میں سرہندیپ پہاڑ پر تشریف لائے جو کہ اب سری لنکا کا حصہ ہے اس حیثیت سے یہ ملک ایک تاریخی ملک بھی ہے مذہب اسلام کے ماننے والے روز اول سے ہی ہیں جو کہ اب پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں مذہب اسلام کی ترویج و اشاعت ہر دور میں ہوتی رہی اور لوگ جوق در جوق اس کے دامن کرم آتے گئے ۔ ملک ہندوستان جسے روز اول سے ہی اس مذہب کی میزبانی کا شرف حاصل تھا دھیرے دھیرے کفر وشرک کی تاریکیوں میں گم ہوتا چلا گیا بلآخر ہندستان کی قسمت کا ستارہ گردش میں آیا اور اس ملک میں پھیلی کفر وشرک کی بدبو کو دور کرنے کے لیے بارگاہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خواجہ غریب نواز کا انتخاب ہوا حضرت نے مژدہ جانفزا سن کر ہندوستان کا نقشہ ذہن کی لوح پر سجایا اور اس تبلیغ دین کی عظیم ذمہ داری کو ہندی قوم تک پہچانے کا عزم مصمم کر لیا اب ہندیوں کی قسمت جگمگانے خواجۂ خواجگان فخر ہندوستان والیے ہند عطاے رسول بن کر بے ساز و سامان فقط اپنے چند رفقاء کے ساتھ دہلی کے راستے ہندوستان تشریف لائے اور اجمیر معلیٰ کو اپنا مسکن و مرکز بنایا اب آپ کا قیام روشنی سے اندھیرے کی طرف تھا اسلام کی آبادی سے کفرستان میں تھا ہر چہار جانب کفر و ضلالت کا گھنگھور بادل چھایا ہوا تھا لوگ ایک خدا کو چھوڑ کر انیکوں مخلوق خدا کی پرستش میں لگے ہوئے تھے کہیں درخت کی پوجا کہیں سورج کی عبادت تو کہیں اپنے ہی ہاتھوں سے بناے ہوئے مورت کے سامنے سجدہ کرنے کا منظر تھا دور دور تک کہیں سے اللّٰہ اکبر کی صدا سنائی نہیں پڑتی تھی ہر قوم کا اپنا اپنا ایک الگ بت تھا جسے وہ خدا سمجھ کر پوجے جا رہے تھے ایسے عالم میں حضرت خواجہ غریب نواز نے خدا کی مدد سے رسول خدا کی عطا سے بزرگوں کی نظر عنایت سے پیکر اخلاق و اخلاص بن کر محبت کی تلوار لے کر حکمت اور مواعظ حسنہ کا سہارا لے کر مذہب اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچانا شروع کیا جہاں کرامت کی ضرورت پڑتی وہاں کرامت دکھاتے جہاں تلاوت کی ضرورت پڑتی وہاں تلاوت کرتے جہاں خطابت کی ضرورت پڑتی وہاں خطابت فرماتے اور لوگوں کو یہ پیغام دیتے جاتے کہ اے لوگو تمہارا خدا وہ نہیں ہے جسے تم اپنے ہی ہاتھوں سے مٹی پانی لکڑی اور پتھر سے بناتے ہو بلکہ تمہارا خدا وہ ہے جس نے اپنی قدرت سے تمہیں بنایا ہے اور آگ ہوا پانی مٹی زمین آسمان پہاڑ سمندر اور دریا بناے ہیں یہ چاند و سورج پوجنے کی چیز نہیں بلکہ یہ تو روشنی حاصل کرنے کی چیز ہے اور جس نے چاند و سورج کو بنایا ہے وہ اصل مالک عبادت و پوجا کے لائق ہے جسے ہم بناتے ہیں وہ نہ تو سن سکتا ہے نہ بول سکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے نہ چل سکتا ہے نہ اپنی مورت پر بیٹھی مکھی بھگا سکتا ہے اس لیے اے لوگو تمہارا خدا وہ خدا ہے جو سب سے طاقتور بادشاہ حقیقی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اسے کسی نے جنم نہیں دیا نہ اس سے کوئی جمنم ہوا جو جسم و جسمانیات مکان و مکانیات سے پاک ہے لیکن سونتا بھی ہے دیکھتا بھی ہے ہر ڈھکی چھپی چیزوں کو جانتا بھی ہے اور وہ ہر ممکن شیے پر قادر بھی ہے ۔ حضرت خواجہ غریب نواز کی باتوں کو سن کر لوگ کفر کے اندھیرے سے نکلنے لگے اور اسلام کے اجلالے میں داخل ہونے لگے اس وقت نہ کوئی خان پٹھان اور نہ کوئی انصاری تھا بلکہ جو لوگ تھے وہ سب کے سب کفر وشرک کے دلدل میں پھنسے ہوئے لوگ تھے لیکن حضرت خواجہ کی باتوں نے ان دلوں پر گہرا اثر چھوڑا اور اب انہیں اس بات کا احساس ہو چکا تھا کہ میں دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں میرا مذہب اسلام تھا ہم شیطان کے بہکاوے میں آکر دین حق کو بھلا چکے ہیں لھذا ہمیں خواجہ غریب نواز کے دست حق پرست پر اسلام جیسا سچا مذہب قبول کر لینا چاہیے تاریخ گواہ ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز نے ہندوستان کے لاکھوں افراد کو کلمہ پڑھایا اور اپنے نانا کا مذہب مذہب اسلام کے دامن سے وابستہ کر دیا لھذا آج کوئی کتنوں بکواس کر لے لیکن حضرت خواجہ غریب نواز کے اس عظیم احسان کو کبھی بھلایا اور نہ ہی کبھی جھٹلایا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز ہندوستان میں صبح قیامت تک مسلمان کے گھر میں پیدا ہونے والا ہر بچہ کے اوپر حضرت خواجہ غریب نواز کا احسان رہے گا ۔ محمد اورنگزیب عالمگیر سعدی درگاہ حضور غوثِ بنگالہ رانی گنج بنگال ۔ 9801150378

Latest News