*اتباع جو کرتے ہیں سیرتِ محمدؐ کی__________ہر زمانے میں وہی چمکتے ہیں*
*سیرتِ محمدؐ کی پیروی میں ہی دونوں جہاں کی کامیابی ہے: مولانا سید محمد یونس حسینی ندوی*
*مسلمانوں کو معیاری تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے: مولانا سید جوہر عباس رضوی*
*دیویٰ میلہ قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال ہے: آصف خان*
*نمائش پنڈال میں سیرت النبیؐ کانفرنس و نعتیہ مشاعرے کا انعقاد*
بارہ بنکی:(ابوشحمہ انصاری) دیویٰ میلہ کے نمائش پنڈال میں سیرت النبیؐ کانفرنس و نعتیہ مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں علمائے کرام، دانشوروں اور شعرائے کرام نے سیرتِ رسولؐ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے محبت، انسانیت، بھائی چارے اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
کانفرنس کے صدر اور معروف عالم دین حضرت مولانا سید محمد یونس حسینی ندوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰؐ پوری انسانیت کے لیے رحمت بناکر بھیجے گئے۔ آپؐ نے ہمیشہ انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا درس دیا اور مظلوموں، کمزوروں اور بے سہارا لوگوں کی خدمت و مدد کی تعلیم دی۔ انہوں نے کہا کہ سیرتِ محمدؐ کی اتباع میں ہی دونوں جہاں کی کامیابی ہے، اس لیے ہمیں آپؐ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔
معروف شیعہ عالم دین حضرت مولانا سید جوہر عباس رضوی نے کہا کہ رسول اکرمؐ نے انسانوں کو زندگی گزارنے کا شعور و سلیقہ عطا کیا اور دنیا کو ایثار، اخوت اور محبت کا پیغام دیا۔ آپؐ نے علم حاصل کرنے پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو بہتر اور معیاری تعلیم حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور ممکن نہیں ہے۔
مہمان خصوصی سابق ایم ایل اے و چیئرمین شاہ آباد آصف خان نے کہا کہ دیویٰ میلہ ہندو مسلم اتحاد، امن و امان اور گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال ہے۔ اس طرح کے پروگرام سماج میں بھائی چارے، باہمی محبت اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس موقع پر روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سینئر صحافی حشمت اللہ نے بھی انسانیت اور محبت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سیرت النبیؐ کانفرنس و نعتیہ مشاعرے کی نظامت کے فرائض حضرت مولانا منہاج عالم ندوی نے انجام دیے۔ کمیٹی کی جانب سے مہمانانِ اعزازی سابق وزیر انصرام علی، سابق وزیر اعجاز الحق، سید محمد علی خان اور عامر پٹھان کی گل پوشی کی گئی، جبکہ چودھری طالب نجیب کوکب نے انہیں مومنٹو اور شال پیش کرکے اعزاز سے نوازا۔
حضرت مولانا سید محمد یونس حسینی ندوی کی صدارت میں منعقدہ سیرت النبیؐ کانفرنس اور الحاج نصیر انصاری کی صدارت میں ہونے والے نعتیہ مشاعرے کا آغاز قاری محمد مجیب فتحپوری کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔
نعتیہ مشاعرے میں شعرائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعے بارگاہِ رسالتؐ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ منتخب اشعار قارئین کی نذر ہیں۔
صفت یہ پائی ہے سرکار کے غلاموں میں
اٹھا کے خاک جو دے دیں تو کیمیا ہو جائے
نصیر انصاری
نہ آتے آپ جو دنیا میں رہنما بن کر
مجھے یقین ہے مجھ کو خدا نہیں ملتا
صغیر نوری
امتی آپ کا ہونے میں ہے کچھ اتنا وقار
چاہتے ہوں گے فرشتے کہ بشر ہو جاؤں
ڈاکٹر کوثر عثمانی
اتباع جو کرتے ہیں سیرتِ محمدؐ کی
ہر کہیں زمانے میں بس وہی چمکتے ہیں
احمد سعید حرف
علم جس دن سے تہجد کی فضیلت کا ہوا
رات کے پچھلے پہر رونے کی عادت ہو گئی
مختار فاروقی
جب بھی ذکر حبیبِ خدا کیجیے
آپؐ پر صلوٰۃ پڑھ لیا کیجیے
مجیب فتحپوری
جو غلامِ رسولِ اکرم ہے
جنتی اس کی زندگانی ہے
نسیم اختر
ان کے علاوہ وقار کاشف، مقصود پیامی، عاقب فتحپوری سمیت دیگر شعرائے کرام نے بھی نعتیہ کلام پیش کیا، جسے سامعین نے خوب داد و تحسین سے نوازا۔
آخر میں دیویٰ میلہ نمائش کی سیرت النبی کمیٹی کے رکن ایڈووکیٹ احمد سعید حرف نے تمام علمائے کرام، مہمانان، شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چودھری طالب نجیب کوکب، فرحت اللہ ایڈووکیٹ، چودھری وقار احمد، ایڈووکیٹ شعور کامل، اظہار الحق، سید محمد حارث، محمد احمد شہنشاہ، محمد حسین ارشاد سمیت دیگر افراد موجود رہے۔










