Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تذکرہ امیرالمؤمنین سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تذکرہ امیرالمؤمنین سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ*
———————————————————–
محبوب خدا, مراد رسول, صحابی رسول, وزیر رسول, خلیفہ مسلمین, یار مزار رسول,  امیر المؤمنین , فارق حق و باطل حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ
*محبوب خدا اور مراد رسول* ﷺ
آپ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں بارگاہ رسالت سے مانگ کر لیا گیا۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی مراد اور اللہ کے محبوب ہیں۔
*رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی* :
“اے اللہ! ان دونوں شخصوں (یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب) میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہو، اس کے ذریعے اسلام کو عزت و قوت عطا فرما۔” “تو ان دونوں میں سے عمر (رضی اللہ عنہ) اللہ کو زیادہ محبوب نکلے۔”
*صحابیِ رسول ﷺ*
جب آپ مشرف بہ اسلام ہوئے تو آپ کو کائنات کا وہ سب سے بلند مرتبہ ملا جس کے بعد کوئی مرتبہ نہیں، یعنی سید الانبیاء ﷺ کا صحابی بننا۔ آپ کی آمد سے اسلام کو وہ شوکت ملی جس کا تذکرہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا۔
*وزیر رسول ﷺ*
بارگاہ نبوی میں آپ کا مقام صرف ایک مشیر کا نہیں بلکہ زمین پر آپ  کے وزیر کا تھا:
*نبی اکرم ﷺ نے فرمایا* :
“ہر نبی کے لیے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر جبرائیل و میکائیل (علیہما السلام) ہیں، اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔”
*سسر رسولﷺ* :
آپ وہ ہستی ہیں کہ آپکی صاحبزادی حضرت سیدتنا حفصہ رضی اللہ عنہا ام المومنین زوجة رسول ہوئیں۔
*امیر المؤمنین (لقب کی ابتدا* )
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے فرمایا: “حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تو ‘خلیفہ رسول اللہ’ کہا جاتا تھا، لیکن اب مجھے ‘خلیفہ خلیفہ رسول اللہ’ کہا جائے تو یہ بہت طویل ہو جائے گا!” اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “آپ ہمارے امیر ہیں اور ہم مؤمنین ہیں، پس آپ ‘امیر المؤمنین’ ہیں۔” حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “ہاں! پھر یہی لقب ٹھیک ہے”۔
*فاروق اعظم (حق و باطل کا معیار)*
آپ کے اسلام لانے سے کفر پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ حق و باطل کا فرق سڑکوں پر عیاں ہو گیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر نے کے بعد بارگاہ رسول میں عرض کئے “یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں، خواہ ہم مر جائیں یا زندہ رہیں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “کیوں نہیں! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم یقیناً حق پر ہو، خواہ مر جاؤ یا زندہ رہو۔” میں نے عرض کیا: “پھر دین کو چھپانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، آپ ضرور باہر تشریف لائیں۔”
چنانچہ رسول اللہ ﷺ ہمیں دو صفوں میں باہر لے کر نکلے؛ ایک صف کی قیادت حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کر رہے تھے اور دوسری کی میں۔ ہمارے قدموں کی چاپ سے آٹے کی چکی کی طرح ایک پرجلال گونج پیدا ہو رہی تھی، یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہو گئے۔ جب قریش نے مجھے اور حضرت حمزہ کو دیکھا، تو ان پر ایسی اداسی اور مہر سکوت چھا گئی جس کی مثال پہلے کبھی نہ تھی۔ اسی دن رسول اللہ ﷺ نے میرا نام ‘الفاروق’ رکھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے حق اور باطل کے درمیان واضح فرق فرما دیا۔
فارق   حق  و  باطل،   امام  الہدیٰ
تیغ مسلول شدت پہ لاکھوں سلام
*یار مزار رسولﷺ:*
اسلام لانے سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ کی پردہ فرمانے تک  آپ ہر لمحہ حضور اقدس کے ساتھ رہے لیکن حضور اقدس نے ایسا انتخاب فرمایا کہ قیامت تک اپنے پہلو میں جگہ عطا فرمائی اور اپنے مزار کا رفیق بنادیا
اور بروز حشر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر اطہر سے اٹھ کر جلوہ فرما ہونگے،تو اسکے بعد حضرت ابوبکر اٹھینگے اور پھر حضرت عمر (رضی اللہ عنہما)
وہ  عمر  جس کے  اَعْدا  پہ شَیدا   سَقَر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
محمد تاج الدین حبیبی نظامی،دھام نگر