Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*سود انسانیت کے ماتھے پر بدنما دھبہ*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

سود کو عربی زبان میں “ربا” کہتے ہیں۔ ربا سے مراد معینہ مدت کے قرض پہ وہ اضافہ ہے جس کا مطالبہ قرض خواہ مقروض سے کرتا ہے اور یہ شرح پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے، سود کے متعلق قرآنِ کریم جو اللہ پاک کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے، یہ کتابِ مقدس حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر اب تک اور اب کے بعد رہتی دنیا تک مشعلِ راہ بنی رہے گی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اتنا جامع اور مانع بنایا ہے کہ ایمانیات، عبادات، معاملات، سماجیات، معاشیات و اقتصادیات کے تمام اصول قرآنِ کریم میں مذکور ہیں۔ ہاں! ان کی تفصیلات احادیثِ نبویہ میں موجود ہیں۔ سود کے مسئلہ میں بھی قرآنِ کریم نے اصول بیان کیے ہیں، جن کی تفسیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے ارشار فرمائی، چنانچہ سود کا لینا اور دینا دونوں قرآن و حدیث کی رو سے حرام ہے، اسلام میں جس طرح سود لینا حرام و ناجائز ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام و ناجائز ہے اور یہ حکم ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے ہے، صرف ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ سود سے بچے، بے شک کسی ریاست میں سودی نظام کا خاتمہ وہاں کی حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر ریاست ا س کا اہتمام نہیں کرتی تو ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے طور پر سود سے بچے، قرآنِ کریم میں سود کی حرمت کا ذکر مطلق ہے، اس میں یہ تخصیص نہیں ہے کہ سود لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر نہیں اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سودی نظام ختم کرے، پھر احادیثِ مبارکہ میں اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کی تمام اقسام کو حرام قرار دیا ہے، ذیل میں قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں:ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والے پر، سود کہلانے والے پر، سودی معاملہ کے لکھنے والے پر اور سودی معاملہ میں گواہ بننے والوں پر اور ارشاد فرمایا کہ یہ سب (سود کے گناہ میں )برابر ہیں۔
سود کی شرح کم ہو یا زیادہ یہ ہر صورت میں حرام ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ اسلام میں ہرگز ممکن نہیں۔ اہلِ اسلام کے لیے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اسوۂ حسنہ اور قولِ فیصل ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ کے خطبہ مبارک میں علی الاعلان یہ حکم نبویؐ جاری ہوا کہ تمام سودی قرضوں پر سود ساقط کردیا گیا ہے۔سود کو قرآنِ کریم میں اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ شراب نوشی، خنزیر کھانے اور زنا کاری کے لیے قرآن کریم میں وہ لفظ استعمال نہیں کیے گئے جو سود کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے استعمال کیے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑدو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاوٴ ! سود کھانے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ ہے اور یہ ایسی سخت وعید ہے جو کسی اور بڑے گناہ، مثلاً زنا کرنے، شراب پینے کے ارتکاب پر نہیں دی گئی۔ مشہور صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص سود چھوڑنے پر تیار نہ ہو تو خلیفہٴ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سے توبہ کرائے اور باز نہ آنے کی صورت میں اس کی گردن اڑادے،
لہٰذا قرض میں دیئے ہوئے اصل مال پر جو اضافی رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعیین کے ساتھ لی جائے وہ بھی سود ہے۔ اگر کوئی کمپنی آپ کو اصل رقم پر تین (3) فیصد سالانہ اضافے کی بنیاد پر قرض دے رہی ہے، تو یہ سود ہے۔ اسلامی قوانینِ معیشت کے مطابق ایسا قرض لینے اور دینے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ جس قرض کے ساتھ بھی قرض خواہ متعین مدت کے ساتھ معین رقم کا مطالبہ کرے گا، وہ سوائے سود کے اور کچھ نہیں۔ کیونکہ یہ ضرورت مند کے ساتھ ظلم اور اس کا استحصال ہے، اور اسلام ایسے ظلم اور استحصال کے خاتمے کے لیے آیا ہے، اور لوگوں کی مدد کے لئے لوگ اگر یہ طریقہ اختیار کریں گے تو سود تو معاشرے میں پھیل جائے گا یعنی ہم نے وجہ کچھ بھی ہو سود کو مستحکم کیا معاشرے میں۔جس چیز میں اللہ سے جنگ ہو اس سے کسی کی مدد کیسے ہوسکتی ہے پہلے وہ صرف غریب ہے آپ اسے اللہ سے جنگ کا پیسہ دے کر کیا اس کی زندگی کو اندھیرے میں نہیں دھکیل دیں گے ۔اور آپ کو خود اللہ سے جنگ کرکے کیا ثواب اور خوشی ملے گی؟ بینک سے قرض (Loan) بھی عین سود ہے، تمام مکاتبِ فکر کے علماء اس بات پر متفق ہیں کہ عصر حاضر میں بینک سے قرض لینے کا رائج طریقہ اور جمع شدہ رقم پر Interest کی رقم حاصل کرنا یہ سب وہی سود ہے جس کو قرآن کریم میں سورہٴ بقرہ کی آیات میں منع کیا گیا ہے، جس کے ترک نہ کرنے والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کا اعلانِ جنگ ہے اور توبہ نہ کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن رسوائی وذلت ہے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ سات بڑے گناہ کون سے ہیں؟ (جو انسانوں کو ہلاک کرنے والے ہیں) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کے مال کو ہڑپنا، (کفار کے ساتھ جنگ کی صورت میں) میدان سے بھاگنا اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘ “حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سود میں ستر گناہ ہیں، سب سے ہلکا گناہ ایسے ہے، جیسے مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔”ملحوظ رہے آج کل معاشرے میں سود کی مختلف تمویلی صورتیں مختلف ناموں سے رائج ہیں، شرعی اَحکام سے نا واقف آدمی کسی نہ کسی درجہ میں ان میں مبتلا ہوجاتاہے، لہٰذا مستند مفتیانِ کرام سے رجوع کرکے ان معاملات کا حکم معلوم کرلینا چاہیے۔
“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئےگا، کہ کوئی بھی ایسا نہ رہے گا جس نے سود نہ کھایا ہو اور جو سود نہ کھائے، اسے بھی سود کا غبار لگے گا۔” لہذا بینک سے قرضہ لینے سے بالکل بچیں، دنیاوی ضرورتوں کو بینک سے قرضہ لیے بغیر پورا کریں، کچھ دشواریاں، پریشانیاں آئیں تو اس پر صبر کریں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔

*طارق اطہر حسین*
عبدالحمید نگر برن پور اسنسول مغربی بنگال
9563691626

Latest News

Related News