*آزادی کی تاریخ اور اسلاف کی قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا* ۔
———————————————————-
*دھام نگر اور مضافات کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں ، مختلف تنظیموں نے حب الوطنی کےجذبہ کے ساتھ فضا میں ترنگا پرچم لہرائے*
———————————————————
دھام نگر :- آج یومِ آزادی ہند ہے ہم آزادی کے 80 سال کا سفر طے کر چکے ہیں پندرہ اگست 1947 کو 200 سال کے بعد ہمیں برطانوی غلامی سے آزادی ملی تھی۔ اس موقع پر ہمیں اپنے ملک کے اُن جانبازوں اور جانثاروں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے ہنستے اور مسکراتے ہوئے موت کو گلے لگا کر ہمیں آزادی فراہم کی ہیں۔ اور یہی وہ ہستیاں ہیں جنھوں نے انگریز سامراجیوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس آزادی کی اہمیت کو سمجھیں۔اور ہمارے مجاہدین آزادی کو خراج تحسین پیش کریں۔
صحیح معنوں میں ہم اپنے مجاہدین آزادی کو خراج تحسین اسوقت پیش کر سکیں گے جب ہم اُن کے خوابوں کو پورا کریں اور انہیں شرمندہ تعبیر کریں ۔ انھوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھا تھا ہم اسکو حقیقت کاروپ دینے میں اپنی کوشش کو آگے بڑھائیں۔
انہی مجاہدین آزادی میں ایک مردِ مجاہد حضرت مولانا حبیبِ الرحمن جید عالمِ دین اور بےباک انقلابی رہنما ہیں ۔آپ کے دل میں ملک و ملت کے فروغ کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ کبھی بھی ظلم برداشت نہیں کرتے اور حق بات کہنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں آپ کو جیل بھی جانا پڑاتھا۔
1934 میں انگریز حکومت کی جانب سے دھام نگر کے کاشتکاروں کو سنچائی کے لئے پانی نہیں ملا۔ اس کے باوجود حکومت نے ٹیکس وصول کرنا چاہا تو غریب کسان( جن میں ہندو اور مسلمان دونوں فرقے کے لوگ تھے اور دونوں نے آپ کو رہنما بنایا تھا) ہے حد پریشان نظر آنے لگے۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن جو عرفِ عام میں مجاہد ملت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ حکومت کے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ جگہ جگہ حکومت کے خلاف جلسے کئے اس وجہ سے آپ کی گرفتاری ہوئی۔ چونکہ آپ انسانیت کے ایک سچے علم بردار اور بے باک رہنما تھے۔ اس لئے حکومت وقت کی ہمیشہ آپ پر کڑی نظر رکھتی تھی۔ اگر چہ آپ کئی بار گرفتار ہوئے پھر بھی آپ کی ہمت کبھی پست نہیں ہوئی۔
خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تُجھ پر
فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری
محممد تاج الدین نظامی حبیبی، قریشی محلہ،دھام نگر










