*حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ*
———————————————————–
گر شرم و حیاء کا کوئی دیوان لکھے گا
مجھ کو ہے یقیں سیرتِ عثمان لکھے گا
*خاندان*
آپ کا نام عثمان تھا اور آپ کے والد کا نام عفان تھا۔ آپ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔آپ اپنی بے مثال سخاوت ، حیاء اور قرآن سے محبت ہونے کے باعث اُمتِ مسلمہ میں انتہائی بلند مقام رکھتے ہیں۔ آپ بہت مالدار تھے اور قریش کے قبیلہ بنو اُمیہ میں سے تھے۔
*ذو النورین*
آپ کی شادی یکے بعد دیگرے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی دو صاحبزادیوں سے ہوئی اس لئے آپ ذو النورین کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں
*نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا*
*ہو مبارک تم کو ذو النورین جوڑا نور کا*
حضرتِ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
*فرمان رسول*
*“اگر میری چالیس بیٹیاں بھی ہوتیں تو اُنہیں یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا* ”
*سخاوت*
جب بھی آپ کی سخاوت کا ذکر آتا ہے تو بندہ مومن کی توجہ داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم و سراپا شرم و حیاء سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ دنیاوی مال و دولت سے نوازا تھا۔ اور آپ کا حال یہ تھا کہ اپنا مال رازق حقیقی کی بارگاہ میں خرچ کرنے سے کبھی گریز نہ کرتے۔ جب بھی اسلام یا اہل اسلام کو مال کی ضرورت پڑی تو باپ کرم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ہمیشہ کھلا پایا۔
*مزار مبارک*
حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں مدفون ہوئے اور وہیں آپ کا قبر انور ہے۔
*شہادت*
بوقت شہادت آپ کی عمر شریف بیاسی برس کی تھی ۱۸ ذی الحجہ جمعہ کے روز حالتِ تلاوت میں آپ کو شہید کیا گیا۔
*فرمان آخری رسول*
حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ عنہ ہے
*عرس*
آج آپ کا عرس مبارک مسجد حبیبیہ قریشیہ دھام نگر شریف میں بعد نماز جمعہ بڑے ہی ادب و احترام کے ساتھ منایا گیا اور آپ کی بارگاہ میں ایصال وثواب پیش کیا گیا۔محمد تاج الدین حبیبی نظامی،دھام نگر شریف










