Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

**ابراہیمی معاہدوں کی طرف ریاض: کتنی دور، کتنے پاس؟* *(دو راہے پر کھڑا سعودی عرب: معاشی ترقی اور سلامتی کے نئے تضادات)*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

**ابراہیمی معاہدوں کی طرف ریاض: کتنی دور، کتنے پاس؟*
*(دو راہے پر کھڑا سعودی عرب: معاشی ترقی اور سلامتی کے نئے تضادات)*

از قلم: *اسماء جبین فلک*

سعودی عرب آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سامنے دو راستے ہیں۔ ایک طرف معیشت تیزی سے بدل رہی ہے، تو دوسری طرف سلامتی کا پرانا ڈھانچہ اب بھی ویسا ہی کھڑا ہے۔ ان دونوں کے بیچ ایک تیسرا سوال بھی ہے، اور وہ ہے اسرائیل سے تعلقات کا سوال۔ یہ سوال اب پہلے سے کہیں زیادہ الجھا ہوا ہے۔ واشنگٹن دباؤ بڑھا رہا ہے، ریاض اپنی شرط پر ڈٹا ہوا ہے، اور عوام کی رائے پہلے سے زیادہ سخت ہو چکی ہے۔ ان تینوں قوتوں کے بیچ محمد بن سلمان کی حکومت کو ایک مشکل توازن بنانا ہے۔ یہ توازن آسان نہیں، لیکن اسے بنانا ناگزیر ہے۔
پہلے معیشت کی بات کرتے ہیں۔ یہاں تصویر کافی روشن ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۶ میں سعودی نائب وزیر خزانہ عبدالمحسن الخلف نے واضح اعداد و شمار سامنے رکھے۔ غیر تیل سرگرمیاں پہلی بار سعودی مجموعی ملکی پیداوار (Gross Domestic Product—GDP) کا ۵۵ فیصد بن گئی ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ معیشت کا مرکز اب تیل سے ہٹ رہا ہے۔ غیر تیل حکومتی آمدنی ۲۰۱۵ کے تقریباً ۱۶۶ ارب ریال (یعنی ۴۴.۳ ارب ڈالر) سے بڑھ کر اب تقریباً ۵۰۰ ارب ریال (یعنی ۱۳۳.۳ ارب ڈالر) ہو گئی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح ریکارڈ کم سطح یعنی تقریباً ۶ فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ ۲۰۱۶ کے ۱۲.۳ فیصد کے مقابلے میں بہت بڑی کمی ہے۔ سیاحت، تفریح، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence—AI) جیسے شعبے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ نئے روزگار پیدا ہو رہے ہیں اور کاروبار بڑھ رہے ہیں۔ یہ محمد بن سلمان کی حکمرانی کی سب سے مضبوط کہانی ہے، اور اس کہانی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ کہانی ادھوری بھی ہے، کیونکہ اس ترقی کا انحصار بڑی حد تک بیرونی سرمایہ کاری پر ہے؛ خاص طور پر امریکی ٹیکنالوجی اور امریکی سرمائے پر۔
اسی انحصار کی ایک اور شکل جولائی ۲۰۲۶ میں کھل کر سامنے آئی۔ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ شہری جوہری تعاون کے معاہدے کو ایک واضح شرط سے جوڑ دیا۔ یہ معاہدہ صرف اس صورت میں نافذ ہوگا جب سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے۔ وائٹ ہاؤس نے صاف الفاظ میں کہا کہ جوہری معاہدہ مکمل طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر منحصر ہے۔
یہ کوئی معمولی دباؤ نہیں ہے۔ سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت چاہیے، جو اس کے جوہری توانائی کے پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ لیکن امریکہ نے اسے براہ راست اسرائیل سے جوڑ دیا ہے۔ یہیں پر سعودی معاشی خودمختاری کی خواہش اور سلامتی کے لیے امریکی سہارے کا تضاد کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ سعودی عرب ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہونا چاہتا ہے، لیکن وہ ٹیکنالوجی امریکہ ہی دیتا ہے، اور امریکہ اس کی قیمت اسرائیل سے تعلقات کی صورت میں مانگ رہا ہے۔ یہ ایک مشکل گھڑی ہے۔
اب اسرائیل کے سوال پر آتے ہیں۔ یہ سوال ۲۰۲۳ کے بعد سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۶ میں ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے کے پہلے سے زیادہ قریب ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب یمن میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کر سکتا ہے۔ لیکن یہ ٹرمپ کی امید ہے؛ سعودی عرب کی سرکاری پوزیشن اس سے مختلف ہے۔ ریاض نے بار بار کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف ایک واضح راستہ ضروری ہے۔ یہ صرف سفارتی بہانہ نہیں، بلکہ یہ ایک عوامی حقیقت ہے، اور عوامی حقیقت کو نظر انداز کرنا کسی بھی حکمران کے لیے آسان نہیں ہوتا۔
عوامی رائے کے اعداد و شمار اس بات پر مہر لگاتے ہیں۔ عرب سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی اسٹڈیز کے ۲۰۲۴ اور ۲۰۲۵ کے سروے میں سعودی عرب میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مخالفت ۶۱ فیصد رہی۔ یہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے (مثلاً لبنان میں ۸۹ فیصد اور لیبیا میں ۹۶ فیصد مخالفت ہے)، لیکن پھر بھی ۶۱ فیصد ایک واضح اکثریت ہے۔ دوسری طرف، واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے اگست ۲۰۲۵ کے سروے میں اعداد و شمار اور بھی سخت تھے، جہاں ۹۹ فیصد سعودی شہریوں نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن کو منفی قدم قرار دیا۔
یہ متضاد سروے ایک ہی سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فلسطینی مسئلہ سعودی عوام کے لیے دور کی بات نہیں، بلکہ یہ ان کی شناخت کا حصہ ہے۔ دونوں سروے اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں فرق نمونے اور سوالات کا ہے، لیکن مخالفت کی فضا دونوں میں واضح ہے، اور یہی فضا سعودی فیصلہ سازوں کے لیے سب سے بڑا داخلی دباؤ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی تل ابیب یونیورسٹی سے منسلک انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز (Institute for National Security Studies—INSS) کی ۲۰۲۶ کی تفصیلی رپورٹ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ سعودی عرب کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا فی الحال میز پر نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ریاض اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مواقع سے زیادہ خطرات دیکھ رہا ہے۔ غزہ کی جنگ نے سعودی قیادت کو یہ سکھایا کہ فلسطینیوں کی حمایت اس کی اندرونی قانونی حیثیت اور محمد بن سلمان کی ساکھ کے لیے کتنی ضروری ہے۔ یہ کوئی وقتی ردعمل نہیں، بلکہ یہ ایک پائیدار تبدیلی ہے۔
تو کیا اسرائیل کا راستہ مکمل طور پر بند ہے؟ نہیں۔ لیکن یہ آسان بھی نہیں۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدوں کا حصہ بننا چاہتا ہے، لیکن دو ریاستی حل کے واضح راستے کے ساتھ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو فلسطینی ریاست کی مخالفت کرتے ہیں، اور یہی بنیادی رکاوٹ ہے۔ اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے خلاف مدد کی پیشکش بھی کی ہے، لیکن سعودی ولی عہد نے عوامی ردعمل کے خدشے کے پیش نظر اسے مسترد کر دیا۔ یعنی سعودی عرب سلامتی کے تعاون میں بھی احتیاط برت رہا ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر حوثیوں سے لڑنے کو تیار نہیں، کیونکہ اس کی عوامی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ یہ ایک سمجھداری کا فیصلہ ہے۔
اب ایران اور یمن کی طرف آتے ہیں۔ یہاں بھی تصویر ملی جلی ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی اپریل ۲۰۲۳ میں چین کی ثالثی سے ہوئی۔ اکتوبر ۲۰۲۶ میں تہران میں سہ فریقی کمیٹی کی تیسری میٹنگ ہوئی، جہاں دونوں فریقوں نے بیجنگ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اچھی خبر ہے، لیکن یمن کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ ۲۰۲۶ کے وسط سے حوثیوں نے سعودی مفادات پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ بحیرہ احمر میں تیل کے جہاز، تیل کی تنصیبات اور ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
اکتوبر ۲۰۲۶ کے آخر میں بھی حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات اور ہوائی اڈوں پر حملے کیے، جن میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد نے دو میزائل مار گرائے۔ ایران نے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، لیکن ابھی تک کسی فریق نے اسے قبول نہیں کیا ہے۔ سعودی عرب حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی کے لیے بھی تیار نظر آتا ہے، اور ستمبر ۲۰۲۶ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کی تجویز دی گئی، لیکن حوثی اپنی شرطوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یمنی تنازعے کا مستقل حل ابھی دور ہے، اور یہ تنازعہ سعودی عرب کے لیے ایک کانٹا بنا ہوا ہے۔
سعودی دفاعی اخراجات اس کشمکش کا ایک اور رخ دکھاتے ہیں۔ ۲۰۲۵ میں سعودی عرب نے دفاع پر تقریباً ۸۱.۵ ارب ڈالر خرچ کیے، اور ۲۰۲۶ کے تخمینے کے مطابق یہ رقم بڑھ کر ۸۵.۵ ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ یہ دنیا کا ساتواں سب سے بڑا دفاعی بجٹ ہے۔ اتنے پیسے خرچ کرنے کے باوجود سعودی سرزمین مکمل محفوظ نہیں ہے اور حوثیوں کے حملے جاری ہیں۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا صرف اسلحہ اور بیرونی سلامتی کی ضمانتیں کافی ہیں؟ فیکٹ چیک رپورٹ نے بھی یہ نکتہ واضح کیا تھا کہ جدید اسلحہ ناقابل تسخیر نہیں بناتا، بلکہ پڑوسیوں کے ساتھ پائیدار تعلقات بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔
برکس (BRICS) کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ سعودی عرب کو ۲۰۲۳ میں برکس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی، لیکن اکتوبر ۲۰۲۶ تک اس نے باضابطہ طور پر شمولیت اختیار نہیں کی۔ ستمبر ۲۰۲۶ میں نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس ہوا، جس میں سعودی وزیر خارجہ نے مدعو ملک کے طور پر شرکت کی۔ رپورٹوں کے مطابق، ریاض جان بوجھ کر باضابطہ رکنیت سے گریز کر رہا ہے، اور وجہ واضح ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس کے سلامتی اور ٹیکنالوجی کے تعلقات بہت اہم ہیں، اس لیے برکس میں باقاعدہ شمولیت واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ یعنی سعودی عرب ایک متوازن پالیسی چاہتا ہے لیکن وہ امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا، اور یہی اس کی خارجہ پالیسی کی بنیادی حد ہے۔
داخلی محاذ پر، محمد بن سلمان نے اقتدار کو ایک ہی مرکز میں جمع کر لیا ہے۔ ۲۰۱۷ میں محمد بن نایف کو ولی عہدی سے ہٹایا گیا، اور ۲۰۲۰ میں شاہ کے بھائی احمد بن عبدالعزیز اور دیگر شہزادوں کو حراست میں لیا گیا۔ یہ اقدامات اقتدار کو تو مضبوط کرتے ہیں، لیکن یہ شاہی خاندان کے اندر خاموش بے چینی بھی پیدا کرتے ہیں۔ سعودی ریاست کی تاریخی بقا کا راز مشاورت تھا، جہاں بادشاہ، ولی عہد اور سینئر شہزادے مل کر فیصلے کرتے تھے، لیکن آج وہ مشاورتی نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ اس سے عدم اطمینان بڑھتا ہے، لیکن یہ کہنا کہ کوئی فعال بغاوت کی سازش موجود ہے، محض قیاس آرائی ہوگی۔ فیکٹ چیک رپورٹ نے بھی اس نکتے کو واضح کیا تھا کہ خاندان کے اندر کشیدگی ایک حقیقت ہے اور بغاوت کا خطرہ ایک امکان، لیکن دونوں کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ ان تمام دباؤں کے بیچ سعودی عرب کا حقیقی مفاد کیا ہے؟ اسرائیل سے تعلقات بحال کرنا، اگر فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر ہو، تو یہ ریاض کے لیے سیاسی طور پر خطرناک ہوگا اور یہ عوامی سطح پر حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔ اس سے شاہی خاندان کے اندر بھی ان حلقوں کو تقویت ملے گی جو محمد بن سلمان کے اقتدار کے ارتکاز سے پہلے ہی خائف ہیں۔ دوسری طرف، ایران کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا اور چین کے ساتھ اقتصادی شراکت کو بڑھانا سعودی عرب کو کچھ خودمختاری دیتا ہے، لیکن یہ راستہ بھی آسان نہیں ہے۔ امریکہ سعودی عرب کو چینی ٹیکنالوجی تک رسائی دینے میں ہچکچाहٹ کا شکار ہے، جبکہ سعودی سلامتی کی ضروریات اب بھی واشنگٹن کی طرف دیکھتی ہیں۔
تو کیا سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں کے قریب ہے؟ اکتوبر ۲۰۲۶ میں اس کا جواب یہ ہے کہ وہ کاغذ پر قریب لگ سکتا ہے اور ٹرمپ کے بیانات اس امید کو زندہ رکھتے ہیں، لیکن زمین پر وہ ابھی دور ہے۔ فلسطینی ریاست کے واضح راستے کے بغیر ریاض آگے نہیں بڑھے گا، اور نیتن یاہو کی حکومت وہ راستہ نہیں دے رہی۔ اس کے علاوہ سعودی عوام کی بھاری اکثریت بھی اس کی مخالف ہے، جو کہ کوئی ایسی رکاوٹ نہیں جسے نظر انداز کیا جا سکے۔
محمد بن سلمان نے معاشی اصلاحات میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے (غیر تیل معیشت ۵۵ فیصد، بے روزگاری ۶ فیصد)، جو کہ یقیناً قابلِ تعریف ہے۔ لیکن معاشی کامیابی سیاسی استحکام کی حتمی ضمانت نہیں دیتی۔ ریاض کے لیے پائیدار راستہ عوامی رضامندی، خاندانی اتفاق اور علاقائی مفاہمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ فلسطینی کاز کو نظر انداز کرنا یا ایران کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنا اندرونی اور خارجی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ سعودی عرب کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے، لیکن یہ وقت آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے، اور جو حکمران عوام کے جذبات اور تاریخ کے سبق کو نظر انداز کرتا ہے، اس کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔