آسنسول 20 جولائی : اترچوبیس پرگنہ کے مہیش تلہ علاقے سے دلی کے بدر پور میں 6خواتین کو فروخت کرنے لے جارہے راستے میں سمپرک کرانتی ایکسپریس سے آرپی ایف ٹیم کی خواتین پولس نے آسنسول سے ان سبھوں کو ٹرین سے برآمد کیا۔ اس سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔اس سازش کے بارے میں گھر والوں کے ذریعہ بار بار تلاش کرنے کی وجہ کر اس معاملے کو آسنسول ریلوے پولس سے ریاستی پولس کے سی آئی ڈی کوسونپ دی گئی ۔سی آئی ڈی پولس کے افسران اسی تلاش میں دلی کے بدر پور گئی۔وہاں محمد ذاکر،اسکی بیوی پروین سمیت تین لوگوں کو ایک گھر سے گرفتار کیا۔وہاں سے نابالغہ بھی برآمد کی گئی۔منگل کے دن آسنسول عدالت میں اس معاملے کی گواہی دینے پہنچی پوربی ریلوے کے آسنسول ڈیوژن کی خاتون سب انسپکٹرسبھدرا دے۔انکے ساتھ سی آئی ڈی کے افسران بھی تھے۔سی آئی ڈی کے وکیل سومناتھ چٹراج نے بتایا کہ اس معاملے میں تین نابالغہ سمیت چھ خواتین کو آسنسول آر پی ایف نے سمپرک کرانتی ایکسپریس کے ڈی تھری سے برآمد کیاتھا۔بعد میں دلی کے بدر پور سے ایک اور نابالغہ برآمد کی گئی۔بتایاگیا کہ ان چھ کو اتر چوبیس پرگنہ کے مہیش تلہ سے شہیدل میاں نامی ایک شخص نوکری دلانے کی بات بتاکر لے جارہاتھا۔مگر ٹرین میں شہیدل فون پر کسی سے ایسی بات کی جس سے ان لڑکیوں کو سمجھ میں آیا کہ دراصل انہیں فروخت کرنے کے ارادے سے لے جایا جارہا ہے ۔سی آئ ڈی کی تفتیش سے پتہ چلا کہ دلی میں ذاکر اور اسکی بیوی کے ساتھ ایک اور خاتون اس معاملے میں ملوث ہے۔وہ لوگ ہر لڑکی پر 15ہزار روپئے کمیشن لیتے ہیں۔آر پی ایف انسپکٹر سبھدرا نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح ان چھ بچیوں کو برآمد کیا گیا۔

















