*(آسنسول سے امتیاز احمد انصاری کی رپورٹ)*
طلعت انجم فخر کاشعری مجموعہ “نوائے فخر”کےاجراء میں “بزم سرقہ” کی گونج سنائی دی
آسنسول کی ادبی فضاء میں نسائی ادب میں تیزرفتاری کے ساتھ اپنا سفر طئے کرنے والی شاعرہ ،افسانہ نگارونثرنگار طلعت انجم فخر کا اولین شعری مجموعہ ” نوائے فخر ” کااجراء اتوار کے دن شمالی آسنسول کے جہانگیری محلہ میں واقع ایک مقامی میرج ہال میں بحسن وخوبی انجام پایا۔اس بزم رونمائی کی تقریب کی صدارت صاحب دیوان استاد شاعر،ڈرامہ نگار اور قلمکار حلیم صابر نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شمشیر عالم بڑی خوبصورتی کے ساتھ انجام دئیے۔موقعے پر شاعر وادیب،صحافی اور مولانا آزاد کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی،قاضی نذر الاسلام یونیورسٹی کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر فاروق اعظم ،رانی گنج گرلس کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شہنور حسین اور بزرگ شاعروادیب اور صحافی احسان ثاقب رونق اسٹیج رہےاور ان سبھوں کے ہاتھوں طلعت انجم فخر کا شعری مجموعہ “نوائے فخر “کااجراء عمل میں آیا ۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی نے روایتی طریقے سے بےلاگ اور بہت حد تک متنازعہ گفتگو کرتے ہوئے جہاں ایک طرف طلعت انجم فخر کے اس شعری سفر کی جانب بڑھائے گئے قدم پر مبارکباد پیش کیااور کچھ نصیحتیں بھی کئے وہیں دوسری طرف ڈاکٹر عشرت بیتاب اور معراج احمد معراج کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں قلمکار نہ صرف خود پڑھ رہے اور آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ نئی نسل کی اپنی شاگردوں کی قلمی رہنمائی کی سعی پیہم میں اب تک جٹے ہوئے ہیں۔انہوں نے باضابطہ نام لے کر کہا کہ شہر آسنسول میں مشتاق اعظمی،عابدضمیر اور نذیر احمد یوسفی جیسے بزرگ قلمکاروں نے آج تک نئی نسل کے بچے وبچیوں کی قلمی سرپرستی کیوں نہیں کی۔۔۔۔؟کیا وہ اپنے کسی ایک شاگرد کانام بھی بتا سکتے ہیں۔۔۔؟ صرف دربار کا بورڈ لگادینے سے اردو کی خدمت نہیں ہوتی۔یہاں تو بغیر بورڈ لگائے شاگردوں کی سرپرستی کی جارہی ہے۔موصوف نے اپنی گفتگو کا سلسلہ دراز کرتے ہوۓ کہاکہ شاعری میں استعارہ وتلمیح وغیرہ جیسے عناصر کا ہونا لازمی ہے۔اگر یہ عناصر آپ کی شاعری میں نہیں پائی جاتی تو پھر لوگ آپ کی شاعری پڑھنے پر اخبار پڑھنے کو ترجیح دیں گے۔پرویز عالم قاسمی کا نام لے کر ان کی شاعری میں ان عناصر کے مفقود ہونے کی بات کہی۔دوسری طرف ڈاکٹر فاروق اعظم نےمرد اساس معاشرے میں طلعت انجم جیسی خاتون قلمکار کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنا،انگشت نمائی کرنا اور اپنے آپ کو سردار بتادیناتوبہت آسان ہے پر نبھانا بہت مشکل ہے ۔بےجا تنقید سے حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اس سے بچنا چاہئے۔تاثراتی کلمات میں احسان ثاقب نے بھی اپنی گفتگو کا رخ اسی جانب موڑتے ہوئے کہا کہ طلعت جیسی نئی قلمکار سے اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو یہاں کے بزرگوں کو انہیں بدنام کرنا اچھی بات نہیں۔متاع آئندہ کو اس طرح ٹھوکر مارنا کسی بھی صورت جائز نہیں۔موصوف نے کہا کہ اگر کوئی بچہ چلتے چلتے گر جائے تو اسے اٹھانے سے بڑا کوئی کام نہیں ہے۔میں تو عبد الحلیم سے یہی کہوں گا کہ اپنی تحریروں سے آسنسول کے ادب کو یوں مسخ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ڈاکٹر شہنور حسین نےکہاکہ ہمارے جیسے ہم پیشہ لوگوں کی زمہ داری ہے کہ ہم طلبہ کو صرف درسی تعلیم نہ دیں بلکہ اخلاقی سبق بھی سکھائیں۔ عبد الحلیم کے سلسلے سے کہا کہ وہ طلعت کے ہم کلاس رہے ہیں اس لئے اگر طلعت سے کچھ غلطی ہورہی تھی تو دوستانہ ماحول میں براہ راست اس کی نشان دہی کی جاسکتی تھی۔صدر جلسہ حلیم صابر نے کہا کہ ابھی طلعت کی شاعری پر باتیں کرنے سے بہتر ہے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ بہترسے بہتر تخلیق منظر عام پر آسکے۔معراج احمد معراج اور ڈاکٹر عشرت بیتاب نے بھی دوران گفتگو اشاروں اشاروں میں کہا کہ محقق اور تنقید نگاروں کو چاہئے کہ وہ ادب کے مثبت پہلو پر نظر رکھیں اور منفی پہلو سے دور رہنے رہیں کیونکہ منفی ادب کی عمر طویل نہیں ہوتی اور نہ ہی ادبی دنیا میں اس کی پذیرائی ہوتی ہے۔اس موقعے پر طلعت انجم فخر نے بھی اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے جہاں ایک جانب آئے ہوئے تمام مہمانوں اور سامعین کےساتھ قلمی رہنمائی کرنے والے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا وہیں ایک نئی ہمت اور حوصلے کے ساتھ اپنا ادبی سفر جاری رکھنے کی بات بھی کہی۔پروگرام کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعدازاں مہہ نور حسین اور سید حسین نے نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا جبکہ غزل سنگر محمد حفیظ نے غزل سے سامعین کی تواضح کی۔





















