Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*آسنسول میونسپل کارپوریشن میں کانگریس سیوا دل کا دھرنا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آسنسول میونسپل کارپوریشن کے میئر کے دفتر میں اس وقت زبردست ہنگامہ برپا ہو گیا جب کانگریس سیوا دل کے ارکان علاقے کی عوامی مسائل کو لے کر ایک عرضداشت پیش کرنے پہنچے۔ میئر کی غیر موجودگی پر ناراض ارکان نے دفتر کے دروازے پر ہی عرضداشت چسپاں کر کے احتجاج درج کرایا۔

کانگریس سیوا دل کے ممبران کا کہنا ہے کہ ریل پار علاقے میں طویل عرصے سے پینے کے پانی کی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگ پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ناقص نکاسی کے باعث بارش کے دنوں میں گلیوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، بدبو پھیلتی ہے اور مختلف قسم کی بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن فوری طور پر ان مسائل کا حل نکالے۔ سیوا دل کے کارکنوں نے کہا کیا کہ وہ اس سے قبل بھی کئی بار تحریری طور پر کارپوریشن کو شکایت کر چکے ہیں، مگر آج تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
ایک کارکن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
“ہم بارہا یہ شکایات لے کر آئے، مگر انتظامیہ کی طرف سے صرف وعدے کیے گئے۔ آج جب ہم میئر سے براہ راست ملنے پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ دفتر میں موجود نہیں ہیں۔ ہم نے مجبوراً دفتر کے دروازے پر ہی عرضداشت چسپاں کی اور اپنا احتجاج درج کرایا۔”

اس واقعے کے بعد مقامی عوام میں بھی ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ ریل پار کے ایک رہائشی نے کہا:
“پینے کے پانی کی کمی نے ہماری زندگی اجیرن کر دی ہے۔ نالوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ برسات میں سڑکوں پر چلنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ میونسپلٹی کی بے حسی اب ناقابلِ برداشت ہے۔”

دوسری جانب میونسپل کارپوریشن کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ میئر ممکنہ طور پر کسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت دفتر میں موجود نہیں تھے، تاہم اس بابت کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

کانگریس سیوا دل نے اعلان کیا ہے کہ اگر میونسپل کارپوریشن نے جلدی ان مطالبات پر کارروائی نہ کی، تو وہ مستقبل میں بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

یہ واقعہ آسنسول کی شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے، اور عوام اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کی بنیادی پریشانیاں دور ہوں گی۔

Latest News

Related News