*بھارت کی موجودہ *حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!**
*سرفرازاحمد قاسمی* حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
ایسٹ انڈیا کمپنی نے متحدہ ہندوستان کو کس طرح لوٹا،خاص طور پرہندوستان کی دولت اور وسائل کو کیسے اس نے برطانیہ منتقل کیا،اس بارے میں تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں،ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے انگریز سامراج نے 200 برس تک حکومت کی اور ہندوستانی معیشت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا،ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کے بہانے ہندوستان میں داخل ہوئی،اگرہم متحدہ ہندوستان میں اس کمپنی کےداخلے کاجائزہ لیتے ہیں توپتہ چلتا ہے کہ اس کمپنی نے سب سے پہلے تجارت کے بہانے،تاج برطانیہ کے نمک خوار،انگریز عہدیدار اور تاجرین کے بھیس میں خفیہ طریقے سے 1608ء میں داخل ہوئے،انھوں نے سب سے پہلے گجرات کی بندرگاہ سورت میں اپنے قدم رکھے،جبکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام 1600ء میں عمل میں لایا گیا تھا اورپھر1611ء میں کمپنی نے خلیج بنگال کے ساحل آندھرا پر واقع مسولی پٹنم میں اپنی پہلی فیکٹری قائم کی،یہ کمپنی بتدریج اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہی اور اپنی سرگرمیوں کو وسعت دیتی رہی۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کیپٹن تھامس نے 1612ء میں سورت کے قریب پرتگالیوں کو شکست سے دوچار کیا،حالانکہ خود پرتگالی ہندوستان میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے کریہاں اپنا دبدبہ و اجارہ داری قائم کرنے کے خواہاں تھے۔جس وقت انگریز بہادر ایسٹ انڈیا کمپنی کی شکل میں ہندوستان میں داخل ہوئے،اس وقت ملک پرمغل بادشاہ جہانگیر کی حکومت تھی،چنانچہ اس کمپنی نے جہانگیر کے دربار سے شاہی فرمان حاصل کرتے ہوئے 1613ء میں سورت میں مستقل فیکٹری قائم کی،برطانوی حکومت نے 1615ء میں سر تھامس رو کواپنا سفیربنا کرہندوستان بھیجا اوروہ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہوا،اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنے تجارتی حقوق مزید مستحکم کرلئے،19دسمبر 2018ء کو الجزیرہ میں jason hickel پروفیسرانسٹیٹیوٹ فار انوائرنمنٹل،سائنس اینڈٹیکنالوجی وفیلورائل سوسائٹی آف آرٹس کا ایک مضمون شائع ہواہے،جس میں انہوں نے معروف ماہر اقتصادیات کی ایک نئی تحقیق کا حوالہ دیا ہے،جسے کولمبیا یونیورسٹی پریس نے حال ہی میں شائع کیا ہے۔اس تحقیق میں انہوں نے ہندوستان میں انگریز سامراج کے 200 سالہ دور اقتدار میں ٹیکس اور ٹریڈ سے متعلق تمام تفصیلات جمع کی ہیں،انسا پٹنائک کے مطابق 1765سے 1938 عیسوی کے دوران ہندوستان سے انگریزوں نے تقریبا 45 کھرب ڈالرس برطانیہ منتقل کئے،آج کے تناظر میں اس کو دیکھا جائے تو برطانیہ کے45 کھرب ڈالرز،آج کے سالانہ جی ڈی پی سے 17 گنا زیادہ بنتے ہیں،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قدر کثیررقم انگریزوں نے برطانیہ کیسے منتقل کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رقم تجارتی نظام کے ذریعے منتقل ہوئی،ہندوستان پر قبضہ سے قبل،ابتدائی دور میں انگریز ہندوستانی تاجرین سے عام طریقے کے تحت قیمت ادا کر کے پارچہ جات اورچاول خریدا کرتے تھے، زیادہ تر ان اشیاء کی قیمت چاندی کی شکل میں ادا کی جاتی تھی،دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی انگریز اسی قسم کی تجارت کرتے تھے لیکن 1765 عیسوی میں اس عمل میں اس وقت تبدیلی آئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر ہند پرمکمل کنٹرول حاصل کرلیا،اس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانی تجارت پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی اورملک میں محاصل حاصل کرنا شروع کردیا اورکمال ہوشیاری کے ساتھ محاصل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو برطانوی استعمال کے لیے ہندوستانی مصنوعات کی خریدی میں استعمال کیا جانے لگا،بالفاظ دیگر ہندوستانی مصنوعات کی قیمت اپنی جیب سے ادا کرنے کے بجائے انگریز تاجرین نے وہ مصنوعات مفت حاصل کی اور کسانوں سے ٹیکس کی شکل میں حاصل کردہ رقم سے کسانوں سے ہی مصنوعات حاصل کی،یہ دراصل ایک اسکام تھا،جسے ہم بڑے پیمانے پر چوری یا سرقہ بھی کہہ سکتے ہیں،انگریز بہادر کی اس چوری کا ہندوستانیوں کو پتہ نہیں چل سکا کیونکہ جوانگریز مصنوعات خریدا کرتے تھے وہ دوسرے انگریز ہوا کرتے تھے،محاصل حاصل کرنے والے نہیں،دوسری طرف برطانیہ بڑے پیمانے پر فولاد،ٹار اورٹمبر،یورپ سے امپورٹ کرتارہا،یہ ایسی مصنوعات تھیں جوبرطانیہ کے صنعتی عمل کے لیے بہت ضروری تھے،اس طرح انگریزی سامراج نے ہندوستان سے ایک منصوبہ بند انداز میں سرقہ کیا،ایسٹ انڈیا کمپنی،ہندوستانی مصنوعات کوقیمت خرید سے کہیں زیادہ قیمتوں پر دوسرے ممالک کو فروخت کردیا کرتی تھی،مگر جیسے ہی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی اجارہ داری ختم ہوئی،ہندوستانی ایکسپورٹرس کو دوسرے ملکوں کی مصنوعات راست ایکسپورٹ کرنے کی اجازت مل گئی لیکن اس کے لیے ان تاجرین کو کسی نہ کسی طرح برطانیہ پرانحصار کرنا پڑتا تھا،ایک اوراہم بات یہ ہے کہ ہندوستانی مصنوعات کی فروخت سے ہونے والی آمدنی انگریز سامراج نے چین کے علاقوں پر قبضہ کرنے اور 1857ء کی بغاوت غدر کو ختم کرنے استعمال کی،یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہندوستان پر انگریزوں کے 200 سالہ قبضے کے دوران ہندوستانیوں کی فی کس اوسط آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،جبکہ 1870ء تا 1920ء ہندوستان میں بھوک و افلاس کا شکار ہو کر لاکھوں ہندوستانی فوت ہوئے،آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان کولوٹنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کا مالک اسوقت ایک ہندوستانی صنعت کارسنجیو مہتا ہے،انہوں نے اس کمپنی کو لگژریگڈس(مصنوعات) کا کاروبار کرنے والی کمپنی میں تبدیل کردیاہے،سنجو مہتا،ہندوستانی نزاد برطانوی صنعت کار ہیں،کبھی دنیا کی ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت کےطورپرتاریخی کردار ادا کرنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی،اب معیاری چائے (انواع و اقسام کی چائے کی پتی) کافی،چاکلیٹس اورتحفہ تحائف کے پیاکجس کا کاروبار کرتی ہے۔
یہ توایسٹ انڈیا کمپنی کی کہانی تھی،ان دنوں مودی حکومت کے اقتدار کے 12 سال مکمل ہونے پر ملک کی سیاسی فضا میں ایک نیا ہنگامہ اور زبردست بحث چھڑ گئی ہے،ایک طرف جہاں اقتدار کے ایوانوں میں 12 سالہ دور حکومت کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے،اسے ترقیاتی دورقراردیا جارہا ہے تو وہیں دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں،معاشی ماہرین اورسماجی کارکنوں نے موجودہ حکومت کےبڑے بڑے انتخابی وعدوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے،اور کہا یہ جارہا ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر چلتے ہوئے مودی حکومت ملک کو کنگال بنارہی ہے اور پوری طاقت کے ساتھ یہاں لوٹ کھسوٹ اور ڈاکہ زنی کا بازار گرم کررکھاہے،نریندر مودی کےبڑے بڑے انتخابی وعدے،12 سالہ حکومتی کارکردگی اور اسکی حقیقت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے،حکومت بیک فٹ پرہے،پرکشش نعروں کی بھرمار نے نوجوانوں کو مایوس کردیاہے،12 سال کا طویل عرصہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی،اسکے نتائج کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے،مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ حکومت کے معاشی اورسماجی ماڈل نے عام انسان کو مایوس کیا ہے اور مایوسی نے انھیں مہنگائی و بے روزگاری کےدلدل میں ڈھکیل دیا ہے۔2014 کے عام انتخابات کے لیے گجرات کے چیف منسٹر نریندرمودی کو پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کا امیدواربنانے کے بعدمودی نے بی جے پی انتخابی مہم کی باگ ڈور سنبھالتے ہی عوام کی تائید وہمدردی حاصل کرنے کے لیے کئی پرکشش وعدے کیے،ان میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں موجود ملک کا کالا دھن واپس لا کرہندوستان کے ہرشہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے منتقل کیے جائیں گے لیکن 12 سال کے عرصے میں نہ تو بیرون ممالک سے کالا دھن واپس آیا اور نہ ہی کسی شہری کے کھاتے میں ایک روپیہ بھی جمع ہوا،15 لاکھ روپے دینے کے بجائے حکومت نے پیٹرول، ڈیزل،پکوان گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا اور نوٹ بندی وجی ایس ٹی کے ذریعے عام شہریوں کی محنت کی کمائی بھی پوری طریقے سے نچوڑ لی گئی،ملک کے بے روزگار نوجوانوں کو ہرسال دو کروڑ نئے روزگار فراہم کرنے کی ضمانت دی گئی تھی لیکن 12 سالہ دور حکومت میں بے روزگاری کی شرح پچھلی چند دہائیوں کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی ہے،امتحانات اور ملازمتوں کے امتحانات میں پرچہ جات کا افشا ہونا،تقرریوں میں تاخیر اور خانگی شعبے میں بدحالی کے باعث ملک کا تعلیم یافتہ نوجوان آج اپنے حق کےلئے سڑکوں پر لاٹھیاں کھانے کے لیےمجبور ہے،روزگار مانگنے پر انھیں لاٹھیاں،آنسو گیس اور گولیاں مل رہی ہیں،ملک کے 100 اہم شہروں کو جدید اورعالمی معیار کے اسمارٹ سٹی میں تبدیل کرنے کا وعدہ تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ مانسون کی معمولی بارش میں بھی ملک کے بڑے بڑے شہر پانی میں ڈوب جاتے ہیں،ناقص ڈرپینچ سسٹم،سڑکوں پر کچرے کے انبار،پینے کے صاف پانی کا بحران، یہ ثابت کرتا ہے کہ اسمارٹ سٹی کا منصوبہ صرف کاغذی اشتہارات تک محدود ہو کررہ گیا۔پی ایم آواس یوجنا کے تحت سال 2022 تک ملک کے ہر بے گھراورغریب،شہری کو پکا مکان دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بھی لاکھوں غریب خاندان چھت سے محروم ہیں جبکہ دوسری جانب مختلف بہانوں سے غریبوں کی بستیوں اورمکانات پر بلڈوزر چلا کرانہیں بے گھر کرنے کا ایک نیا اور خوفناک کلچر ملک میں قائم کردیا گیا۔ ہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی پرقابو پانے کا وعدہ کیاگیا تھا لیکن مہنگائی کی مار کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والی مودی حکومت نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے تمام وعدوں کوہوا میں اڑا دیا،پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں نے جہاں ہرچیز کو مہنگا کیا وہیں ایل پی جی،دالیں،چاول،دودھ اور ترکاریاں اتنی مہنگی ہو گئی ہیں کہ غریب،مزدور اور اوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی محال ہوچکا ہے،ایسا لگتاہے کہ روزہ مرہ اشیاء کی قیمتیں من مانی طریقے سے فروخت ہورہی ہیں اورقیمتوں پر کوئی لگام نہیں ہے،ملک میں بھکمری عروج پر پہنچ چکی ہے،شفافیت اورصفر کرپشن کا جھوٹا نعرہ لگانے والی حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں،جل جیون مشین جیسے اربوں روپے کےقومی منصوبوں میں ابترتعمیرات،مقامی سطح پر کمیشن خوری اور رشوت ستانی کے واقعات نے یہ واضح کردیا کہ نہ کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا کا نعرہ محض سیاسی لفاظی سے زیادہ کچھ نہیں تھا،پی ایم کیئرفنڈ اورمندروں کے چندہ ڈکیٹی تک کو نہیں چھوڑا جارہاہے، گنگا ندی کو آلودگی سے پاک اور صاف،شفاف بنانے کی ضمانت دی گئی،اس کے لیے اربوں روپیے کے فنڈس جاری کیے گئے،تاہم ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق آج بھی گنگا ندی میں کیمیائی فضلہ اور زہریلا پانی گررہا ہے اورندی کی حالت 12 سال پہلے کے مقابلے میں مزید ابترہو گئی ہے،ملک کو پانچ ٹریلین ڈالر کی عالمی معاشی طاقت بنانے کا وعدہ تھا لیکن عالمی مالیاتی اداروں،آئی ایم ایف کی رپورٹس اورمعاشی اشاریوں کے مطابق فی کس آمدنی،معاشی عدم مساوات اور افراط زر کی وجہ سے اسوقت ملکی معیشت کو شدید بحران کا سامنا ہے ،ملک کی جی ڈی پی درجہ بندی میں کوئی متوقع استحکام نہیں آسکا، ممبئی اور احمدآباد کے درمیان 2022 تک بلٹ ٹرین دوڑانے کا سنہرا خواب دکھایا گیا تھا لیکن 12 سال گزرنے کے باوجود بلٹ ٹرین پراجیکٹ زمینی،نزاعی مسائل اورتکنیکی تاخیر کی وجہ سے ادھورا پڑا ہے،جبکہ ملک کی عام مسافر ٹرینوں میں بدحالی،تاخیراورحادثات کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے کومل رہا ہے۔حکومت تشکیل پانے کے پہلے 100 دنوں کے اندرسوئس بینک اوردیگر غیرملکی اکاؤنٹس میں موجود تمام کالا دھن واپس لانے کی پکی ضمانت دی گئی تھی لیکن 12 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد کالا دھن واپس تونہیں آیا مگر کئی صنعت کار،ملک کے بینکوں کو لوٹ کربیرو ن ممالک فرارہوگئے،2014 سے قبل امریکی ڈالر کے مقابلے ہندوستانی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر پر کڑی تنقید کی گئی تھی اور روپیے کو ڈالر کے برابرمضبوط بنانے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن موجودہ دور میں ہندوستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ کر ایشیا کی سب سے کمزور ترین کرنسیوں کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے،12 سال کی اس ناکام کارکردگی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اچھے دن کا وعدہ صرف ایک انتخابی سراب تھا،عام شہری،آج بےروزگاری، کمرتوڑمہنگائی اورمعاشی بحران کے بدترین دور سے گزررہا ہے،ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کا نوجوان طبقہ ہے جوآج سب سے زیادہ بے چینی،اضطراب اورغیریقینی صورتحال کا شکار ہے،شاید اسی لیے وہ ملک کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر ہے،حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہا ہے اورحکومت کی غلط پالیسوں کو اجاگر کررہا ہے،عوامی سطح پرنوکریوں کی عدم دستیابی اور گرتی ہوئی معاشی صورتحال نے حکمران جماعت کے لیے شدیدچیلنجس کھڑے کردئے ہیں،آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ کیا حکومت ان بنیادی سوالات،12 سالوں کا حساب اورمعقول جواب پیش کرپاتی ہے یا پھراپوزیشن سمیت نوجوانوں کے اندر اٹھنے والا طوفان سیاست میں کوئی بڑا انقلاب لائے گا،ایسے میں سوال یہی ہے کہ کیا ملک کی موجودہ مودی حکومت ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر ہے؟پھر اس سے نکلنے کا راستہ کیاہے؟
*(مضمون نگار،معروف صحافی اور کل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)*
sarfarazahmedqasmi@gmail.com










