Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*تذکرہ امام احمد رضا*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*تذکرہ امام احمد رضا*
امام احمد رضا خاں جنہیں عام طور
پر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے نام سے جانا جاتا ہے۔بیسویں صدی کے ایک عظیم مسلم اسکال، نامور حنفی فقیہہ،محدث، ماہر علوم نقلیہ و عقلیہ اور بر صغیر ہند و پاک میں اہلِ سنت والجماعت کے مایہ ناز مجدد تھے ۔ آپ کی پیدائش 14 جون 1856 (۱۰ شوال ۱۲۷۲ ھ) کو بھارت کے شہر بریلی میں ہوئی۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی ترویج و اشاعت، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں کر نے اور اسلامی احکام کو پاسداری میں گزاری۔
*خاندانی پسِ منظر*
آپ کا تعلق قندھار کے پٹھان قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد علّامہ نقی علی خان اور دادا مولانا رضا علی خان اپنے وقت کے بڑے علماء اور صوفیاء تھے۔
*ذہانت*
آپ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔
4 (چار) برس کی عمر میں قرآن مجید ناظرہ مکمل کیا۔
6 (چھ) سال کی عمر میں ربیع الاول کے مبارک مہینے میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ایک بہت بڑے مجمع میں نہایت پر مغز تقریر فر ماکر علماء کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی۔
13(تیرہ) سال 10(دس) ماہ کی عمر میں تمام مروجہ علوم کی تعلیم مکمل کرکے مفتی بن گئے۔
*حفظ قرآن*
صرف ایک ماہ میں حفظ قرآن کیا۔
*لقب*
آپ کا پیدائش نام محمد تھا۔جبکہ آپ کے دادا نے احمد رضا نام رکھا اور یہی نام سے آپ مشہور ہوئے۔
*فتاویٰ رضویہ*
یہ آپ کی فقيهانہ مہارت کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ فتویٰ کا ایک عظیم الشان مجموعہ ہے جو 30 جلدوں پر مشتمل ہے اور فقہ حنفی کا انسائیکلو پیڈیا مانا جاتا ہے۔
*کنز الایمان*
آپ نے قرآن مجید کا اردو زبان میں ایک بے مثل اور منفرد ترجمہ کیا۔جو ادبی اور شرعی لحاظ سے انتہائی معتبر اور مقبول عام ہے۔
*نعت گوئی*
آپ ایک بہترین نعت گو شاعر  بھی تھے۔ آپ کا نعتیہ دیوان “حدائقِ بخشش” اُردو نعت گوئی کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آپ کا لکھا ہوا سلام “مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام”  مقبول بارگاہ رسول سلام ہے جو دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے۔
*تصانیف*
آپ نے صرف روایتی دینی علوم ہی نہیں بلکہ ریاضی، فلکیات ، سائنس ، منطق اور فلسفہ جیسے موضوعات پر بھی گہری دسترس رکھی۔ مختلف موضوعات پر آپکی تصانیف کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔
*اولاد*
آپ کے دو صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں، بڑے صاحبزادے حضور  حجتہ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں۔ جن کا روحانی فیض دھام نگر شریف تک آیا۔آج بھی باشندگان دھام نگر آپ کا عرس مبارک بہت ہی دھوم دھام سے خانقاہ حبیبیہ میں مناتے ہیں۔ امسال بھی آپ کا عرس خانقاہ حبیبیہ کے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید حبیب رضا حبیبی کی سر پرستی میں منایا جائےگا انشاء اللہ۔
*صدقہ  حامد  رضا  حمد ، محمود و حمید*
*شاہ دیں حضرتِ حبیبِ حق نما کے واسطے*
*وصال*
آپ کا وصال 28 اکتوبر 1921 (۲۵ صفر ۱۳۴۰ ھ)کو بریلی شریف میں ہوا۔جہاں آپ کا مزار مبارک آج بھی لاکھوں عقیدت مندوں کی زیارت گاہ ہے۔ *محمد تاج الدین حبیبی نظامی،* قریشی محلہ،دھام نگر