Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*درگاپور میں میڈیکل طالبہ سے اجتماعی زیادتی – پولیس کمشنر کا سخت ایکشن کا اعلان*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

آسنسول-دُرگاپور پولیس کمشنریٹ کے پولیس کمشنر سنیل کمار چودھری ( آئی پی ایس) نے واضح کیا ہے کہ میڈیکل طالبہ سے پیش آنے والے اجتماعی جنسی زیادتی کے المناک واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دلائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کمشنریٹ کی پوری ٹیم ہمدردی اور ذمہ داری کے ساتھ متاثرہ لڑکی اور اس کے خاندان کے ساتھ کھڑی ہے۔
سی پی سنیل کمار چودھری (آئی پی ایس) پیر کی رات دُرگاپور کے ڈی سی پی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈی سی پی (ایسٹ) ابھیشیک گپتا، ایسٹ زون کے اعلیٰ پولیس افسران اور این ٹی ایس تھانے کے انچارج بھی موجود تھے۔
پولیس کارروائی کی تفصیلات
پولیس کمشنر نے اس واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک اور دل خراش‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ واردات کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے جانچ شروع کر دی گئی۔
پولیس نے ہفتہ کو 3، اتوار کو 1 اور پیر کو 1، یعنی کل 5 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
تمام گرفتار ملزمان پولیس ریمانڈ میں ہیں اور ان سے گہری پوچھ گچھ کے ذریعے تمام حقائق اور شواہد کو جوڑا جا رہا ہے۔
سی پی کے مطابق واردات میں براہِ راست ملوث تمام پانچوں افراد کو پکڑ لیا گیا ہے اور تفتیش درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ طالبہ کے مرد دوست وسیم علی سے بھی لگاتار پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور وہ تفتیش میں پورا تعاون کر رہا ہے۔
پولیس کمشنر نے بتایا کہ انہوں نے ذاتی طور پر متاثرہ لڑکی اور اس کے والد سے بات کر کے ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
متاثرہ کی علاج کے دوران اس کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی۔ ایک سینئر خاتون افسر کی قیادت میں فوری طور پر پولیس ٹیم تعینات کی گئی۔
متاثرہ کے والد کو بھی سیکورٹی کی پیشکش کی گئی، تاہم انہوں نے سکیورٹی لینے سے انکار کیا۔ ڈی سی پی اور این ٹی ایس تھانے کے افسران مسلسل خاندان کے رابطے میں ہیں۔
ایک صحافی نے واردات کی جگہ (ایم بی ایونیو) پر سکیورٹی کے فقدان کا ذکر کیا تو سی پی نے کہا کہ چاہے علاقہ سنسان ہو، رات میں پولیس کی باقاعدہ گشت ہوتی رہتی ہے۔ البتہ وہاں اسٹریٹ لائٹ یا سی سی ٹی وی نہ ہونے پر انہوں نے براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔
دُرگاپور کے ایک نجی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سیکنڈ ایئر کی 23 سالہ طالبہ جمعہ کی رات اپنے مرد دوست وسیم علی کے ساتھ کھانے کے لیے باہر گئی تھی۔ راستے میں ملزمان نے انہیں گھیر کر لڑکی کو زبردستی جنگل کے اندر لے جا کر اجتماعی زیادتی کی۔ اس دوران وسیم مبینہ طور پر اسے تنہا چھوڑ کر فرار ہو گیا۔
زیادتی کے بعد ملزمان نے متاثرہ کا موبائل واپس کرنے کے عوض 3,000 روپے کا مطالبہ کیا، رقم نہ ملنے پر موبائل لے کر فرار ہوگئے۔گرفتار ملزمان میں
اپّو باؤری (21 سال)، شیخ فردوس (23 سال)، شخ ریاض الدین (32 سال)،شیخ نصیر الدین (24 سال)،شیخ شفیقول شامل ہیں۔

Latest News