*حشمت علی حشمت ایک فطری، پختہ اور جینوئن شاعر ہیں۔ وسیم الحق*
خصوصی رپورٹ :
*امتیاز احمد انصاری*
کالے ہیرے کے شہر کے نام سے منسوب غوث بنگالہ کا شہر رانی گنج سے تعلق رکھنے والے منفرد لب ولہجہ کے شاعر حشمت علی حشمت کا اولین شعری مجموعہ” پھولوں کا احتساب ” کااجراء جمعرات کے دن رانی گنج انجمن امداد باہمی ہال میں منعقدہ ایک تقریب میں استاد شاعر وسابق جوائنٹ ڈائریکٹر ایل اینڈایل آر ڈپارٹمنٹ حکومت مغربی بنگال احمد کمال حشمی اور آسنسول کارپوریشن کے ڈپٹی مئیر سید وسیم الحق کے ہاتھوں عمل میں آیا ۔موقعےپر شاعر و افسانہ نگار اور ڈبلیو بی سی ایس آفیسر سید انجم رومان،نثر نگار،مزاح نگار اور معلم جاوید نہال حشمی،صاحب دیوان شاعر معراج احمد معراج ،شاعرہ وادیبہ اور رانی گنج ٹی ڈی بی کالج کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا خصوصی طور پر موجود رہیں۔تقریب کی صدارت الحاج نذیر احمد یوسفی کی غیر موجودگی میں کالم نویس ،نثرنگار اور سفر نامہ سمیت کئی کتابوں کے خالق الحاج انجنئیر خورشید غنی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شاعر و ادیب امتیاز احمد انصاری اپنے مخصوص لب و لہجہ میں انجام دئیے۔رانی گنج کا معروف اور فعال ادبی ادارہ کاروان ادب کے بینر تلے ہونے والے اس تقریب کا آغاز نقیب رحمانی تلاوت کلام پاک ،نعت پاک اور پھر غزل سے ہوا۔بعدازاں کاروان ادب کی موسیس ڈاکٹر صابرہ خاتون حنا نے افتتاحی گفتگو کرتے ہوئے رانی گنج کی ادبی سرگرمیوں میں کاروان ادب کی بھرپور کوششوں کا ذکر کیا۔موصوفہ نے بتایا کہ تقریبآ نو سال قبل اس ادارہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور خوشی ہے کہ حشمت علی حشمت سمیت ساجد عالم ساجد،ثاقب نجم جعفری ،وقار احمد،صائقہ غیاث اور شاہینہ پروین جیسی قلمکار رانی گنج کے ادبی افق پر نمودار ہوئے۔معراج احمد معراج ،حشمی برادران جاوید نہال حشمی و احمد کمال حشمی اور خالق ادیب نے حشمت علی حشمت کے فن اور شخصیت پر حاصل سیر گفتگو کرتے ہوئے انہیں ایک پختہ اور جینوئن شاعر قرار دیا ۔ڈپٹی مئیر وسیم الحق نے حشمت علی حشمت کو ان شعری مجموعہ کے منظر عام پر آنے پر دلی مبارکباد پیش کیا۔موصوف نے اس موقعے پر سامع کی حیثیت سے موجود طالبات کی بڑی تعداد کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی ذاتی صلاحیتوں اور کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آگے بڑھنے کی تلقین کئے۔اعلی تعلیم کی سیڑھیوں پر چڑھ کر ڈاکٹر،انجنئیراور وکیل بننے کا مشورہ دیا کیونکہ ملک کی موجودہ حالات اس بات کا تقاضہ کررہا ہے اور آنے والے دنوں میں ملی ذمہ داریوں کو نبھانے کےلئے اپنے آپ کو تیار کرنا ضروری ہی نہیں لازمی ہوگیا ہے۔ریسرچ اسکالر زیبا پروین نے بھی شعری مجموعہ پھولوں کا احتساب کے تعلق سے ایک مقالہ خوب صورت طریقے سے پیش کیا۔صاحب کتاب حشمت علی حشمت نے بھی اپنے شعری سفر کی روداد بیان کیا اور آئے ہوئے تمام مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔صدارتی خطبہ کے دوران انجنئیر خورشید غنی نے تمام مقررین کی باتوں کی تائید کرنے کے ساتھ حشمت علی حشمت کو ایک اچھا شاعر کے ساتھ ایک اچھا انسان بھی بتایا جن کی شرافت اور خاکساری اظہر من الشمس ہے ۔

اظہار تشکر ساجد عالم ساجد نے کی۔دوران تقریب کاروان ادب کی جانب سے ندیم شعبانی، سیف الاسلام سیف،ثاقب نجم جعفری،ماسٹر رضوان الحق،انور عالم نے حشمت علی حشمت کو سال اور مومنٹو پیش کیا جبکہ انجنئیر خورشید غنی نے شال کا نذرانہ اور کمارڈوبی سے تعلق رکھنے والے شاعر ابن تاج نے منظوم خراج تحسین پیش کیا۔ اپنی شرکت سے پروگرام کو رونق بخشنے والوں میں الحاج انور حسین،ایڈوکیٹ کلیم خان،امان ذخیروی،معشوق ابن عاشق،خورشید ادیب،اظہر عارف،عمران افروز ودیگر کے نام قابل ذکر ہیں ۔











