مہینوں کی میٹنگوں اور یقین دہانیوں کے باوجود کوئی حل سامنے نہ آنے پر سون پور بازاری ایریا آفس کے مرکزی دروازے کے سامنے زمین دہندگان نے جمعہ کے روز زبردست احتجاج اور دھرنا شروع کر دیا۔ ’’وعدے نہیں، حق چاہیے‘‘— اسی نعرے کے ساتھ زمین دینے والے افراد نے ایریا آفس کا گیٹ بلاک کر کے انتظامیہ کو سخت پیغام دیا۔
خبر لکھے جانے تک زمین دہندگان بدستور دھرنے پر بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
مظاہرہ میں شامل اسیت رانا نے بتایا کہ 2016-17 کے دوران ای سی ایل نے ہماری زمین حاصل کی، اس زمین سے کوئلہ نکالا بھی، لیکن آج تک کسی زمین دہندہ کو روزگار نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف گاؤں سے تقریباً بیس افراد اپنے حق کے لیے برسوں سے ای سی ایل کے چکر لگا رہے ہیں، مگر کوئی مناسب جواب نہیں مل رہا، جس کی وجہ سے انہیں احتجاج کا راستہ اپنانا پڑا۔
دوسری جانب، ایریا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کچھ اہم دستاویزات اب تک زمین دہندگان کی طرف سے جمع نہیں کرائے گئے ہیں۔
“دستاویزات موصول ہوتے ہی ہم اگلی کارروائی کریں گے”، حکام کا بیان۔
تاہم مظاہرین نے ای سی ایل کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سخت انتباہ دیا۔ ان کے مطابق:
“ہماری زمین سے سارا کوئلہ نکال لینے کے بعد اب ای سی ایل کہتی ہے کہ کمپنی کی حالت ٹھیک نہیں۔ اگر ہمیں ہمارا جائز حق نہ ملا تو ہم اپنے لیڈروں نریندر ناتھ چکرورتی اور ہرے رام سنگھ کی قیادت میں بڑا اور سخت احتجاج شروع کریں گے۔”
زمین دہندگان کے مطابق یہ لڑائی انصاف اور حقِ ملکیت کے لیے ہے اور وہ اپنی مانگیں پوری ہونے تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔










