آسنسول کے ایک نجی اسپتال میں مبینہ طبی لاپرواہی کے الزام کے بعد تین سالہ بچی کی موت کو لے کر سنیچر کے روز اسپتال احاطے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ متوفیہ کی شناخت رانی گنج کے سیارے سول علاقے کی رہنے والی پریانکا مکھوپادھیائے کے طور پر ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق جمعہ کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے بخار اور قے کی شکایت کے بعد بچی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اسپتال پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے معائنہ کرکے اسے آکسیجن سپورٹ پر رکھا، تاہم اس کے بعد سے علاج میں لاپرواہی کے الزامات سامنے آنے لگے۔ لواحقین کا دعویٰ ہے کہ بچی بار بار پانی مانگ رہی تھی اور بے چین ہو رہی تھی، مگر اسپتال عملے نے قے ہونے کے خدشے کا حوالہ دے کر پانی دینے سے انکار کر دیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق ڈاکٹروں نے بتایا کہ سنیچر کی صبح خون کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور رپورٹ آنے کے بعد ہی علاج اور دوا شروع کی جائے گی۔ الزام ہے کہ پوری رات بچی کو کوئی دوا نہیں دی گئی۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح بچی کی حالت اچانک بگڑ گئی اور کچھ ہی دیر بعد اس کی موت ہو گئی۔ موت کے بعد یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اسپتال انتظامیہ نے اہلِ خانہ کو زبردستی باہر نکال دیا اور اندر جانے سے روک دیا۔ واقعے کی خبر پھیلتے ہی بچی کے رشتہ دار اور مقامی لوگ اسپتال کے باہر جمع ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین نے بچی کی لاش دکھانے، رات سے صبح تک کیے گئے علاج اور دی گئی ادویات کی مکمل تفصیل فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور ذمہ دار ڈاکٹروں و عملے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اہلِ خانہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اسپتال عملے کو بچانے کے لیے پولیس موقع پر پہنچ کر مبینہ طور پر ملزمان کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے، اور معاملے کی جانچ جاری ہے۔








