Dastak Jo Pahunchey Har Ghar Tak

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email

*پالامور – رنگاریڈی پروجیکٹ:* *پانی کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عوام نہیں بخشیں گے* *پروجیکٹس کے نام پر کمیشن خوری، کسانوں کے ساتھ نا انصافی،* *کویتا نے حکومتوں کی ناکامی بے نقاب کردی* *دسہرہ تک کاموں کے آغاز کا ریونت سے مطالبہ بصورت دیگر آبی احتجاج کا انتباہ* *شاد نگر میں منعقدہ پالامورو– رنگا ریڈی پروجیکٹ سادھنا سبھا سے کویتا کا خطاب*

Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on email
ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

ASANSOL DASTAK ONLINE DESK

*پالامور – رنگاریڈی پروجیکٹ:*

*پانی کے نام پر دھوکہ دینے والوں کو عوام نہیں بخشیں گے*

*پروجیکٹس کے نام پر کمیشن خوری، کسانوں کے ساتھ نا انصافی،*
*کویتا نے حکومتوں کی ناکامی بے نقاب کردی*

*دسہرہ تک کاموں کے آغاز کا ریونت سے مطالبہ بصورت دیگر آبی احتجاج کا انتباہ*

*شاد نگر میں منعقدہ پالامورو– رنگا ریڈی پروجیکٹ سادھنا سبھا سے کویتا کا خطاب*

چودھری گوڑم (شاد نگر): صدر تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آر ایس)  کلواکنٹلہ کویتا نے پالامورو–رنگا ریڈی پروجیکٹ سادھنا سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اور بی آر ایس دونوں جماعتوں پر تلنگانہ کے ساتھ آبی معاملات میں دھوکہ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عوام اس ناانصافی کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد بھی ریاست کو اس کا حق یعنی پانی نہیں ملا، جبکہ یہی پانی تحریک تلنگانہ کی بنیادی وجہ تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محبوب نگر ضلع سے کرشنا ندی 300 کلومیٹر تک بہنے کے باوجود یہاں کے کسان پانی سے محروم ہیں۔


کویتا نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پالامورو–رنگا ریڈی پروجیکٹ پر 33 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے مگر 33 ایکڑ زمین کو بھی پانی فراہم نہیں کیا گیا جو عوام کے ساتھ سنگین دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے دس سالہ اقتدار میں عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی، جبکہ موجودہ کانگریس حکومت بھی اسی راستے پر چل رہی ہے۔ ریونت ریڈی کو  وزیر اعلیٰ بنے ڈھائی سال کا عرصہ گزر گیا مگر تلنگانہ کی بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔
صدر ٹی آر ایس  نے اعلان کیا کہ اگر دسہرہ تک پروجیکٹ کے کام شروع نہیں کیے گئے تو وہ خود پالامورو–رنگا ریڈی کے متاثرہ علاقوں میں پد یاترا  کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر لکشمی دیوی پلی میں ریزروائر کی تعمیر شروع کرنی چاہیے تاکہ لاکھوں ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کیا جا سکے۔
کویتا نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا کا قیام ہی اس لیے عمل میں آیا ہے تاکہ پانی کے معاملے میں ہونے والی ناانصافی کو درست کیا جا سکے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد واٹر کمیشن قائم کیا جائے گا اور ہر قابل کاشت زمین تک پروجیکٹس کے ذریعے پانی پہنچایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جُرالا کو سورس بنا کر 10 لاکھ ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کیا جا سکتا ہے مگر سابقہ حکومتوں نے اس جانب سنجیدگی نہیں دکھائی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پروجیکٹس میں بدعنوانی، کمیشن خوری اور غلط منصوبہ بندی کے باعث تلنگانہ کے کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
کویتا نے بی جے پی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پالامورو–رنگا ریڈی پروجیکٹ کو قومی درجہ دینے میں مرکزی حکومت ناکام رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پروجیکٹ کو فوری طور پر قومی حیثیت دی جائے اور ریاست کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام پانی کے مسئلے پر متحد ہوں اور تلنگانہ رکشنا سینا کی اس تحریک کا ساتھ دیں تاکہ کسانوں کو ان کا حق دلایا جا سکے۔

Latest News