مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ریاست بھر میں جاری بلڈوزر کارروائی اب سیاسی جماعتوں کے دفاتر تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری اور ادارہ جاتی زمینوں پر مبینہ قبضہ ہٹا کر تجاوزات کے خلاف مہم کے تحت ترنمول کانگریس کے دفاتر کے بعد اب برن پور میں کانگریس اور سی پی ایم کے دفاتر پر بھی بلڈوزر چلایا گیا، جس کے بعد علاقے میں سیاسی ماحول خاصا گرم ہو گیا ہے۔
جمعہ کے روز سیل-آئی ایس پی انتظامیہ نے اپنی زمین کو تجاوزات سے پاک کرنے کی کارروائی کے دوران برن پور کے باٹا موڑ واقع کانگریس دفتر اور گرو دوارہ روڈ کے سی پی ایم دفتر کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تعمیرات سیل کی زمین پر غیر قانونی طور پر قائم تھیں اور کافی عرصے سے انہیں ہٹانے کی کارروائی کی تیاری چل رہی تھی۔
کارروائی کے دوران اُس وقت کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی جب بلڈوزر کانگریس دفتر کے قریب قائم شہید بیدی کی طرف بڑھا۔ کانگریس کارکنان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی اور شہید بیدی کو نہ توڑنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج بڑھتا دیکھ انتظامیہ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور آخرکار شہید بیدی کو نہیں گرایا گیا۔
موقع پر موجود کانگریس کے سینئر رہنما اور ہیراپور بلاک کانگریس صدر پریم سنگھ نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں “بلڈوزر کلچر” کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی انتقام کے تحت اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس طرزِ عمل کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج سیاسی جماعتوں کے دفاتر گرائے جا رہے ہیں، کل عام لوگوں کے گھروں پر بھی بلڈوزر چل سکتا ہے۔
سیاسی دفاتر پر کارروائی کے بعد اب آئی ایس پی انتظامیہ نے برن پور میں فٹ پاتھ پر قائم دکانوں کو ہٹانے کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔ اس خبر کے بعد فٹ پاتھ دکانداروں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے یہاں کاروبار کر کے اپنے خاندان کی کفالت کر رہے ہیں اور اگر اچانک انہیں بے دخل کیا گیا تو ان کے سامنے روزگار کا سنگین بحران کھڑا ہو جائے گا۔
ریاست میں مسلسل جاری بلڈوزر کارروائیوں کو لے کر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔ ایک طبقہ اسے غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت انتظامی قدم قرار دے رہا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے سیاسی انتقام اور مخالف آوازوں کو دبانے کی کوشش بتا رہی ہیں۔ برن پور کے اس واقعے کے بعد علاقے کی سیاست مزید گرم ہو گئی ہے۔










