*سنگارینی ورکرس کے ساتھ حکومت دشمن جیسا سلوک کر رہی ہے*
*مزدوروں کو مکمل تعاون کی فراہمی کی یقین دہانی۔* *راماگنڈم میں کویتا کا خطاب*

راماگنڈم: سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے “بائی باٹا” پروگرام کے تحت ادریال لانگ وال پروجیکٹ مائن (اے ایل پی) کا دورہ کیا اور وہاں مزدوروں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔ اس دوران ایک مزدور کی مشکلات سن کر وہ جذباتی ہو گئیں اور اس کی حالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزدوروں کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔کویتا نے خطاب کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور سنگارینی انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ سنگارینی ادارے کے ساتھ خود حکومت ہی دشمن جیسا سلوک کر رہی ہے اور تقریباً 50 ہزار کروڑ روپئے واجب الادا رکھنے کے باعث ادارہ مالی بحران کا شکار ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو بنیادی سہولیات تک فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور معمولی سہولتوں کے لئے بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ دوسری طرف پیداوار کے اہداف میں کوئی کمی نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب آلات کی فراہمی کے مطالبہ پر فنڈس کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے جو ناقابل قبول ہے۔کویتا نے کہا کہ سنگارینی میں آج بھی برطانوی طرز کا نظام جاری ہے جہاں افسران مزدوروں کو ہراساں کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مزدوروں سے ملاقات کے لئے آنے پر پولیس کے ذریعہ انہیں روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو غیر جمہوری طرز عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزدوروں سے ملاقات اور ان کے مسائل سننا ان کا حق ہے اور مزدوروں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس پارٹی کی میٹنگ میں چاہیں شرکت کریں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مزدوروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی تو وہ وہیں دھرنا دیں گی۔ انہوں نے وزیر سری دھر بابو کو بھی انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مزدوروں اور ان کے درمیان مداخلت نہ کریں بصورت دیگر انہیں دوبارہ انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔کویتا نے کہا کہ اے ایل پی مائن میں اوپن کاسٹ اور انڈر گراؤنڈ مائننگ کا مشترکہ ماڈل ایک اچھا تجربہ ہےلیکن اس کے باوجود مزدوروں کے مسائل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ جب افسران اپنے حقوق کے لئے احتجاج کر سکتے ہیں تو مزدوروں کو یہ حق کیوں نہیں دیا جا رہا ہے۔انہوں نے انڈر گراؤنڈ مائننگ میں مشینری کی اپ گریڈیشن نہ ہونے، طویل سفر کے باعث مزدوروں کو ہونے والی جسمانی تکالیف اور دیگر سہولیات کی کمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ افسران کو پہلے مزدوروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تبھی باہمی اعتماد قائم ہو سکتا ہے۔کویتا نے کہا کہ سنگارینی میں مزدور اور افسران دونوں ایک ہی ادارے کی دو آنکھوں کی مانند ہیں اور دونوں کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے جے ایم آئی ٹی ملازمین کی ترقیوں میں تاخیر کا مسئلہ بھی اٹھایا اور یقین دلایا کہ ان کے حقوق کے لئے جدوجہد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انڈر گراؤنڈ مائننگ کو فروغ دینے سے ادارے کی آمدنی اور ساکھ میں اضافہ ہوگا لیکن حکومت کی پالیسیوں کے باعث ادارہ کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی بی جے پی حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے سنگارینی کے کوئلے کے حقوق چھین لئے ہیں، جس سے مزدوروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔کویتا نے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ یونین انتخابات میں ایچ ایم ایس کو کامیاب بنائیں اور یقین دلایا کہ کامیابی کے بعد انہیں فخر محسوس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت مزدوروں کے حقوق، سلامتی اور فلاح و بہبود کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھے گی۔










